آوازِ غیب
آتی ہے دمِ صبح صدا عرشِ بریں سے کھویا گیا کس طرح ترا جوہر ادراک
معانی: صبح دم: صبح کے وقت، صدا: آواز، عرش بریں: : بلند عرشم، عرش: مراد ہے اللہ تخت جو کہیں آسمانوں سے بھی آگے ہے، جوہر ادراک: ادراک کی قابلیت، ادراک انسان کے اندر وہ قوت ہے جس کی نورانیت کی روشنی میں کائنات سے ضروری باتوں کا علم حاصل کیا جاتا ہے۔
مطلب: آسمانوں سے بھی کہیں آگے موجود اللہ تعالیٰ کے تخت کی جانب سے آج کے مسلمان کو غیب کی ایک صدا صبح کے وقت پوچھتی ہے کہ اے مردِ مسلمان تیرے اندر کائنات کا استفادہ کرنے کا جو جوہر یا قوت کبھی موجود تھی وہ آج کیوں نہیں ہے وہ کس طرح کھوئی گئی ہے وہ علم اور شعور جس سے کبھی تو کائنات میں تصرف کرتا تھا اب تجھ میں کیوں موجود نہیں۔
کس طرح ہوا کند تیرا نشترِ تحقیق ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک
معانی: کند ہونا: چاقو ، نشتر، تلوار وغیرہ کا تیز نہ ہونا۔ نشتر: زخم چیرنے کا آلہ۔ جگر چاک ہونا: تسخیر کر لینا۔
مطلب: کبھی تحقیق کے میدان میں تو سرگرم عمل تھا اور تو زندگی کے مختلف شعبوں میں نئی نئی ایجادات اور تحقیقات کے کرشمے لوگوں کو دکھاتا تھا لیکن آج کیا ہوا ۔ تحقیق کے اس نشتر کی دھار آج تیز کیوں نہیں ہے۔ آج تو اس میدان میں کیوں سرگرم عمل نہیں ہے۔ دوسری اقوام کائنات کی مختلف اشیاء کی تسخیر میں اور تحقیق میں پیش پیش ہیں ۔ چاند ، سورج اور ستاروں تک کی طاقتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں لیکن تجھ کو کیا ہو گیا ہے تجھ میں ان کو تسخیر کرنے اور ان کی قوتوں کو کام میں لانے کی استعداد کیوں موجود نہیں ہے۔
تو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزاوار کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک
معانی: خلافت: اللہ کی طرف سے زمین کا خلیفہ یا اس کا نائب ہونا۔ سزاوار: لائق۔ ظاہر و باطن جو کچھ آنکھوں کے سامنے ہے یعنی دنیا اور جو کچھ ان سے چھپا ہوا ہے یعنی روحانی کائنات۔ شعلہ: آگ کی سوزش ۔ خس و خاشاک: سوکھی ہوئی گھاس اور تنکے۔
مطلب: اے مسلمان اللہ نے تو تجھے کائنات کی ظاہری و باطنی دونوں قسم کی خلافت عطا کی تھی اور تجھے دنیاوی و روحانی دونوں کائناتوں میں اپنا نائب بنا کر بھیجا تھا اور تجھے اپنی نیابت کا اہل سمجھا تھا لیکن آج تجھے کیا ہوا بجائے اس کے کہ تو ان کائناتوں پر حکمران ہو تو ان کا غلام بن چکا ہے کیا کسی نے دیکھا ہے کہ آگ کی سوزش اور تیز آنچ کو گھاس پھوس اور تنکے بجھا دیں لیکن تیری صورت میں تو یہ ان ہونی ہو چکی ہے اور تو ہر شعبہ زندگی میں غلاموں کی سے بے بس زندگی بسر کر رہا ہے۔
مہر و مہ و انجم نہیں محکوم ترے کیوں کیوں تیری نگاہوں سے لرزتے نہیں افلاک
معانی: مہر: سورج۔ مہ: چاند۔ انجم: ستارے۔ محکوم: تابع۔ افلاک: فلک کی جمع ، آسمان۔
مطلب: اللہ تعالیٰ نے تو تجھ میں اپنا نائب ہونے کی صورت میں ایسی قوتیں رکھی ہوئی ہیں کہ جن سے تو آسمانوں، سورج اور ستاروں کو اپنے بس میں کر سکتا ہے کیا بات ہے آج یہ اشیاء تیری اس نگاہ سے اور اس قوت سے کیوں نہیں کانپ رہی اور کیوں وہ خدشہ محسوس نہیں کر رہیں جن کی بدولت تو ان کو اپنا غلام بنا سکتا ہے اور ان کی قوتوں کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکتا ہے۔
اب تک ہے رواں گرچہ لہو تیری رگوں میں نے گرمیِ افکار نہ اندیشہ بے باک
معانی: رواں: جاری۔ نے: نہیں۔ گرمی افکار: افکار فکر کی جمع فکر کے معنی غور و خوض کی قوت۔ اندیشہ بے باک: بے خوف، نڈر سوچ۔
مطلب: اگرچہ تو زندہ ہے اور تیری شریانوں میں خون دوڑ رہا ہے لیکن کیا بات ہے کہ نہ تیری خیالات یا قوت میں کوئی حرارت ہے اور نہ تیری سوچ میں کوئی بے خوفی ہے۔
روشن تو وہ ہوتی ہے جہاں بیں نہیں ہوتی جس آنکھ کے پردوں میں نہیں ہے نگہ پاک
معانی: جہاں بیں: جہان کو دیکھنے والی مراد ہے معاملات جہان کی اصلیت کو پانے والی۔ نگہ پاک: پاکیزہ نطر ، وہ نگاہ جو عشق حق سے پاک ہو جائے۔
مطلب: جس آنکھ کے پردوں کے پیچھے وہ نظر نہ ہو جو عشق حق میں دھل کر پاک ہو چکی ہو اور کائنات میں ان چیزوں کو دیکھنے سے رکی رہی ہو جن کو دیکھنے سے رکی ہے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے ۔ وہ آنکھ تو ضرور کہلاتی ہے اور اس میں دیکھنے والی روشنی بھی ہوتی ہے لیکن وہ دنیا کے معاملات اور اونچ نیچ کی حقیقت کو پانے کے قابل نہیں ہوتی۔
باقی نہ رہی تیری و آئینہ ضمیری اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری
معانی: آئینہ ضمیری: انسان کی وعہ باطنی قوت جو اسے برائی سے روکتی ہے اور اچھائی پر قائم رکھتی ہے۔ کشتہ : مارا ہوا، فریب میں آیا ہوا۔
مطلب: اے مرد مسلمان کبھی تیرا ضمیر آئینے کی طرح ہوتا تھا اور تو اس میں اچھائی اور برائی کے فرق کو دیکھ کر ہمیشہ برائی سے بچا ہوا اور اچھائی پر مائل رہتا تھا لیکن اب یہ قوت جو تجھے برائی پر ٹوکے اور نیکی کی طرف تیرا رجوع رکھے تم میں موجود نہیں ہے اور اس بنا پر تو نیکی اور اچھائی کو چھوڑ کر بدی اور برائی کی طرف مائل رہتا ہے اگر تیرا ضمیر زندہ ہوت تو پھر تو بادشاہ، ملا اور پیر کا مارا ہوا اور ان کے فریب میں گرفتار نہ ہوتا۔ تجھے معلوم ہوتا کہ اصل شاہی اصل ملائی اور اصل پیری کیا ہے تو ان کے فریب میں آنے کی بجائے ان کا احتساب کرتا خلق خدا کو لوٹنے والے ان جعل سازوں، پیشہ وروں اور جابروں سے خود بھی بچتا اور دوسروں کو بھی بچاتا۔