Please wait..

(17)
(یورپ میں لکھے گئے)

 
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی

معانی: زمستانی: سرد ترین(یورپ) ۔ آدابِ سحر خیزی: صبح اٹھ کر عبادت کرنے کے آداب ۔
مطلب: اس نظم کے اشعار اقبال نے لندن کے قیام کے دوران لکھے، جن دنوں وہ گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے تو سردی کا زمانہ تھا اور اس امر کی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ برطانیہ میں موسم سرما میں سردی شدت کی ہوتی ہے ۔ چنانچہ اقبال کہتے ہیں کہ لندن میں اگرچہ سرد ہوا میں شمشیر کی سی کاٹ تھی اور بستر سے ہاتھ نکالنا بھی مشکل ہوتا تھا اس کے باوجود میں اپنی فطری عادات کے مطابق علی الصبح بیدار ہوتا اور موسم کی پروا کئے بغیر اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف ہو جاتا ۔

 
کہیں سرمایہَ محفل تھی میری گرم گفتاری
کہیں سب کو پریشاں کر گئی میری کم آمیزی

معانی: سرمایہَ محفل: محفل کی دولت مراد محفل کی رونق ۔ گرم گفتاری: گفتگو کرنا، یعنی شاعری ۔ کم آمیزی: دوسروں سے دور دور رہنے کی عادت ۔
مطلب:دوسرے شعر میں بیان کرتے ہیں کہ احباب کی کسی محفل میں جب میں اظہار خیال کرنے پر آتا تو حاضرین میری گفتگو سے مسحور ہو کر رہ جاتے اور کسی مرحلے پر جب میں حسب عادت خاموشی اختیار کر لیتا تو موجود لوگ میرے سکوت پر پریشان ہو کر رہ جاتے ۔ اس شعر میں اقبال اپنی کم آمیزی کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گفتگو سے گریز کرتے تھے ۔ لیکن جب ان سے کسی مسئلے کے بارے میں استفسار کیا جاتا تو اس کا جواب بڑے مدلل انداز میں تفصیل کے ساتھ دیا کرتے تھے ۔

 
زمامِ کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
طریقِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

معانی: زمام کام: انتظامی کام یعنی حکومت ۔ طریق کوہکن: کوہ کن(فرہاد) جس نے شیریں کے لیے نہر کھودنا چاہی ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال ایک ایسے مسئلے کی جانب اشارہ کیا ہے جس کو بالعمول زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔ ان کے نزدیک اگر اقتدار مزدوروں اور محنت کشوں کے سپرد کر دیا جائے تو موجودہ نظام ایسا ہے کہ ان کا رویہ بھی وہی ہو گا جو آج کے آمر حکمرانوں کا ہے ۔

 
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

معانی: جمہوری تماشا: جمہوریت، جو مغربی طریقہَ حکومت ہے ۔ جلال پادشاہی: بادشاہی کا رعب ، مراد شاہانہ نظام ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ دنیا میں ریاست کا نظام کیسا ہی ہو خواہ وہاں بادشاہت یا آمریت یا پھر جمہوریت ہو ان کے نزدیک صورت حال یہ ہے کہ سیاست سے اگر دینی اقدار کو نکال دیا جائے تو ظالمانہ آمریت کے سوا اور کچھ نہیں رہتا ۔ اس مسئلے کی مزید وضاحت کی جائے تو بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ کسی مملکت کا نظام سلطنت خواہ کسی طرز کا بھی ہو دینی اقدار کی شمولیت کے بغیر ناکامی کا مظہر ہوتا ہے اور عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتا ہے ۔ اس سے یہ نتیجہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی کہ اقبال بادشاہی اور آمرانہ نظام کے بھی خلاف تھے اور جمہوریت کو بھی بوجوہ ناپسند کرتے تھے ۔ ان کے مطابق تو کامیاب طرز حکومت وہی ہو سکتا ہے جو دینی اقدار کا پابند ہو ۔

 
سوادِ رومتہ الکبریٰ میں دلّی یاد آتی ہے
وہی عبرت، وہی عظمت، وہی شانِ دلآویزی

معانی: سوادِ رومتہ اکبریٰ: اٹلی (روم) کا علاقہ ۔
مطلب: نظم کے اس آخری شعر میں علامہ روم کے قدیم اور عظیم الشان کھنڈرات کا مشاہدہ کرتے ہوئے دہلی کا تذکرہ کرتے ہیں کہ وہاں بھی بلند و بالا عمارتوں کی اسی طرح کے کھنڈرات ہیں جو شاہان سلف کے عظمتوں کے یادگار ہوتے ہوئے بھی نشان عبرت بنے ہوئے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ جس طرح روم کے قدیم شہر میں ماضی کی پرشکوہ عمارات کے کھنڈر اس عہد کی شان و شوکت کا مظہر ہیں یہی صورت حال دہلی کے عظیم الشان کھنڈرات کی ہے ۔