Please wait..

خضرِ راہ
شاعر

 
ساحلِ دریا پہ میں اک رات تھا محوِ نظر
گوشہَ دل میں چھپائے اک جہانِ اضطراب

معانی: خضرِ راہ: اس نظم میں اس دور کے مسلمانوں کی زبوں حالی کو بذریعہ سوالات پیش کیا ہے ۔ خلافت کا خاتمہ اور عربوں کی ترکوں سے غداری وغیرہ اس نظم کا پس منظر ہیں ۔ یہ نظم انجمن حمایت اسلام لاہور کے سالانہ اجلاس میں پڑھی گئی ۔ نظم پڑھتے وقت علامہ اور سامعین پر گریہ طاری رہا ۔ ساحلِ دریا: سمندر یا دریا کا کنارہ ۔ محوِ نظر: دیکھنے، نظارہ کرنے میں مصروف ۔ گوشہ: کونا ۔ جہانِ اضطراب: بے چینی کی دنیا
مطلب: اس نظم کی تشکیل حضرت خضر علیہ السلام اور ایک شاعر کے مابین مکالمے سے ہوئی ہے ۔ حضرت خضر کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے ۔ اقبال نے اپنے اشعار میں بے شمار مقامات پر حضرت خضر اور ان کے خصوصی کردار کا ذکر کیا ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ ایک شاعر رات میں ساحل دریا پر سرگرداں پھر رہا تھا ۔ ان لمحات میں نہ جانے میرا دل کس لیے اضطراب اور بے چینی میں مبتلا تھا ۔

 
شب سکوت افزا، ہوا آسودہ، دریا نرم سیر
تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویرِ آب

معانی: سکوت افزا: خاموشی بڑھانے والی ۔ آسودہ: آرام کرنے والی ۔ نرم سیر: آہستہ آہستہ بہنے والا ۔ تصویرِ آب: پانی کا عکس ۔
مطلب: وہ رات انتہائی خاموشی بڑھانے والی تھی، ساحل پر خوشگوار ہواکا دور دورہ تھا اور اسی مناسبت کے ساتھ دریا بھی بڑی آہستگی اور نرم روی کے ساتھ بہہ رہا تھا ۔ شاعر کہتا ہے کہ اس لمحے دریا کا نظارہ کرتے ہوئے مجھے حیرانی اس امر کی تھی کہ یہ دریا ہے یا پھر پانی کی تصویر ہے ۔

 
جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفلِ شیر خوار
موجِ مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مستِ خواب

معانی: گہوارہ: جھولا ۔ طفلِ شیر خوار: دودھ پینے والا بچہ ۔ موجِ مضطر: بے قرار لہر ۔ مستِ خواب: نیند میں ڈوبی ہوئی ۔
مطلب: دریا کو دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے گہوارے میں کوئی شیر خوار بچہ خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہو ۔ یا پھر پانی کی مضطرب موج تھک تھکا کر محو خراب ہو ۔

 
رات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیر
انجمِ کم ضو گرفتارِ طلسمِ ماہتاب

معانی: فسوں : جادو ۔ طائر: پرندہ، پرندے ۔ آشیانوں : گھونسلوں ۔ اسیر: قیدی ۔ انجم کم ضو: تھوڑی روشنی والے ستارے ۔ گرفتارِ طلسمِ ماہتاب: چاندنی، چاند کے جادو میں بندھے ہوئے ۔
مطلب: ان لمحات میں پرندے اپنے آشیانوں میں رات کے سحر میں گرفتار ہو کر سو رہے تھے ۔ اور کم روشنی والے ستارے غالباً چاند کے طلسم میں گرفتار تھے ۔

 
دیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیکِ جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانندِ سحر رنگِ شباب

معانی: پیکِ جہاں پیما: دنیا بھر میں گھومنے پھر نے والا قاصد ۔ رنگِ شباب: جوانی کی سی تازگی ۔
مطلب: اس لمحے سامنے نظر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ساری دنیا کی رہنمائی کرنے والا خضر رو برو کھڑا ہے اور اس کی ضعیفی میں بھی صبح کی طرح عالم شباب کا رنگ موجود ہے ۔

 
کہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے اسرارِ ازل
چشمِ دل وا ہو تو ہے تقدیرِ عالم بے حجاب

معانی:جویا: جاننے کا خواہشمند ۔ اسرارِ ازل: قدرت کے بھید ۔ چشمِ دل: مراد بصیرت کی آنکھ ۔ تقدیرِ عالم: دنیا، کائنات کی حقیقتیں ۔ بے حجاب: بے پردہ ہونا ۔
مطلب: چند لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ مجھ سے مخاطب ہو کر یوں گویا ہوا کہ اے شاعر تو جو ابتدائے آفرینش سے کائنات کے تمام رازوں سے آگاہی رکھنے والاہے ۔ اس حقیقت کو بھی پوری طرح جان لے کہ دل کی آنکھیں روشن ہوں تو پوری کائنات کی تقدیر اور اس کے بارے میں تفصیلات واضح ہو کر پردے سے باہر آ جاتی ہیں ۔

 
دل میں یہ سُن کر بپا ہنگامہَ محشر ہوا
میں شہید جستجو تھا، یوں سخن گستر ہوا

معانی: ہنگامہَ محشر بپا ہونا: قیامت کا سا شور اٹھنا، پیدا ہونا ۔ شہید جستجو: تلا ش کا مارا ہوا ۔ سخن گستر: بات کرنے والا ۔
مطلب: حضرت خضر کی زبان سے یہ نکتہ میری سماعت سے ٹکرایا تو دل میں ایک محشر سا بپا ہو گیا ۔ میں تو ابتدا سے ہی حقیقت کی تلاش و جستجو میں مگن رہا تھا ۔ حضرت خضر سے مخاطب ہو کر بولا ۔

 
اے تری چشمِ جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکار
جن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموش

معانی: چشمِ جہاں بیں : ایسی آنکھ، نگاہ جس نے دنیا کو خوب دیکھا ہو ۔ سوتے ہیں خموش: یعنی ابھی برپا نہیں ہوئے ۔
مطلب: اے خضر تو بے شک صاحب بصیرت انسان ہے جس کی نگاہیں ان طوفانوں سے بھی آگاہی رکھتی ہیں جو ابھی خاموش کے ساتھ دریا میں محو خواب ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ تو انقلابات سے بھی واقف ہے جو ابھی وقوع پذیر نہیں ہوئے ۔

 
کشتیِ مسکین و جانِ پاک و دیوارِ یتیم
علمِ موسیٰ بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروش

معانی: کشتیِ مسکین: ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے حضرت خضر اور حضرت موسیٰ ایک غریب کی کشتی میں سوار ہو ئے تو خضر نے اس کشتی میں سوراخ کر دیا ۔ حضرت موسیٰ نے اعتراض کیا تو جواب دیا کہ بادشاہ کے آدمی بیکار میں کشتیاں پکڑ رہے تھے ۔ سوراخ اس لیے کیا تا کہ اس غریب کی کشتی بچ جائے ۔ جانِ پاک: اسی مذکورہ سفر میں خضر نے ایک نوجوان کو قتل کر دیا جس پر حضرت موسیٰ معترض ہوئے ۔ خضر نے جواب دیا کہ یہ نوجوان ملحد تھا اور ماں باپ مومن، اس کی کوشش تھی کی والدین بھی ملحد ہوں اس لیے اسے قتل کر دیا ۔ دیوارِ یتیم: اسی طرح ایک بستی سے گزرے تو لوگوں سے کھانا مانگا تو انھوں نے انکار کر دیا ۔ کچھ آگے بڑھے تو ایک مکان جس کی دیوار گرنے والی تھی حضرت خضر نے اس کی مرمت کر دی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ اس دیوار کے نیچے دو یتیموں کے باپ کا خزانہ دفن ہے اگر دیوار گر جاتی تو لوگ یہ خزانہ اٹھا لیتے اس کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ دیوار بنائی ۔ علمِ موسیٰ:حضرت موسیٰ کی بصیرت اور معجزے ۔ حیرت فروش: بیحد حیران ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال سورہ کہف میں بیان کردہ ایک واقعہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک یتم و مسکین کی کشتی کو خراب کرنے ایک بے گناہ بچے کا قتل اور ضیافت سے انکار کر دینے کے باوجود یتیم بچے کی دیوار کو ازسر نو تعمیر کرنا اور ان کے بارے میں حضرت موسی سے اعتراضات اور سوالات سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ نبی ہونے کے باوجود حضرت موسیٰ جیسے پیغمبر کا علم بھی تیرے سامنے حیرت زدہ ہو کر رہ جاتا ہے ۔

 
چھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نورد
زندگی تیری ہے بے روز و شبِ فردا و دوش

معانی: صحرا نورد: جنگلوں ، ریگستانوں میں گھومنے پھرنے والا ۔ بے روز و شب و فردا و دوش: دن رات آنے والے کل اور گزرے ہوئے کل کے بغیر، یعنی وقت کی قید سے آزاد ۔
مطلب: اے خضر آخر یہ کیا تماشا ہے کہ تو آبادیوں کو چھوڑ کر ریگستانوں میں گھومنے پھرنے میں مصروف رہتا ہے ۔ اور تیری زندگی دیکھا جائے تو رات دن کے علاوہ آج اور کل یعنی ماضی و مستقبل کے تصورات سے قطعی آزاد ہے ۔

 
زندگی کا راز کیا ہے، سلطنت کیا چیز ہے
اور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروش

معانی: زندگی کا راز: زندگی کی حقیقت، اصلیت ۔ خروش: شور،ٹکراوَ ۔
مطلب: لیکن اتنا بتا دے کہ یہ جو انسان کی زندگی ہے اس کا حقیقی بھید کیا ہے سلطنت و حکومت کی نوعیت کیا ہے اور یہ جو سرمایہ و محنت کے مابین آویزش ہے اس کی بنیاد کیا ہے یعنی سرمایہ دار اور محنت کش کے مابین تصادم کی فضا کیوں قائم ہے ۔

 
ہو رہا ہے ایشیا کا خرقہَ دیرینہ چاک
نوجوان اقوامِ نو دولت کے ہیں پیرایہ پوش

معانی: دیرینہ چاک ہونا: پرانی گدڑی کا پھٹ جانا،مراد پرانے طور طریقے اور خصوصیات چھوڑ دینا ۔ نوجوان: یعنی نئی نسل کے لوگ ۔ اقوامِ نو دولت: وہ قو میں جنھیں نئی دولت ہاتھ لگی ہو ۔ پیرایہ پوش: یعنی نقالی، پیروی کرنے والا ۔
مطلب: اے خضر دانا! آج صورتحال یہ ہے کہ ایشیائی ممالک کی تہذیب و ثقافت دم توڑ رہی ہے اور نئی نئی اقوام ہیں کہ اقتدار حاصل کر رہی ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ نئی نسلیں ان تازہ ترقی پزیر قوموں کے انداز و اطور اپنا رہی ہیں ۔

 
گرچہ اسکندر رہا محرومِ آبِ زندگی
فطرتِ اسکندری اب تک ہے گرمِ ناوَ و نوش

معانی: اسکندر: سکندرِ رومی ۔ آبِ زندگی: آب حیات جسے پینے والا ہمیشہ زندہ رہتا ہے ۔ فطرتِ اسکندری: سکندر کا مزاج، فتوحات، بادشاہت ۔ گرم ناوَ نوش: پینے پلانے میں مصروف ۔
مطلب: ہر چند کہ سکندر جیسا اولوالعزم فاتح پوری کوشش اور جدوجہد کے باوجود آب حیات سے محروم رہا اور ہمیشگی کی زندگی نہ اپنا سکا اس کے باوجود آج بھی سکندر کی مانند جنگ و جدل اور فتح و شکست کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔

 
بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دینِ مصطفےٰ
خاک و خوں میں مل رہا ہے تُرکمانِ سخت کوش

معانی: ہاشمی: مراد عرب حکمران جنھوں نے 1916 میں ترکوں کے ساتھ غداری کی جس سے ترکی خلافت ختم ہو گئی ۔ بیچتا ہے: اشارہ ہے عربوں کی اسی غداری کی طرف ۔ ناموسِ دینِ مصطفی: حضور اکرم کے دین، اسلام کی عزت ۔ خاک و خون میں ملنا: بری طرح تباہ ہونا ۔ سخت کوش: بیحد محنتی جفاکش ۔
مطلب: ہاشمی جن کے طفیل ساری دنیا میں اسلام وسعت پذیر ہوا آج ناموس رسول مقبول کو داوَ پر لگائے بیٹھے ہیں اور ترک جو ایک عرصے تک اسلام کے مخالف رہے اب اس کی بقا کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں ۔

 
آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے 

معا نی: آگ ہے اولادِ ابراہیم ہے نمرود ہے: اشارہ ہے 1914کی عالمگیر جنگ کی آگ کی طرف ۔ اولادِ ابراہیم یعنی مسلمان اور نمرود یعنی یہ جنگ چھیڑنے والی یورپی قو میں ۔ مقصود ہے: خواہش ہے ۔
مطلب: ماضی کی طرح حضرت ابراہیم کی اولاد اور نمرود کے مابین آویزش جاری ہے ۔ یعنی حق و باطل میں بدستور تصادم ہے ۔ اتنا بتا کہ کیا اب بھی مسلمان امتحان کے مراحل سے گزر رہے ہیں ۔

جواب خضر
صحرا نوردی

 
کیوں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھے
یہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیل

معانی: صحرا نوردی: جنگلوں ، بیابانوں میں چلنے پھرنے کی حالت ۔ تگاپوئے دمادم: لگاتار بھاگ دوڑ ۔
مطلب: شاعر کے استفسارات کے جواب میں خضر یوں گویا ہوتے ہیں کہ اے شاعر! میں جو صحرانوردی کے شغل سے دوچار ہوں تو تجھے آکر میرے اس عمل پر تعجب کس لیے ہے کہ میری یہ مسلسل بھاگ دوڑ اور جدوجہد عملاً زندگی کی دلیل ہے ۔

 
اے رہینِ خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیں
گونجتی ہے جب فضائے دشتِ میں بانگِ رحیل

معانی: سماں : منظر ۔ فضائے دشت: جنگل کا ماحول ۔ بانگِ رحیل: کوچ کرنے ، روانہ ہونے کی آواز کا اعلان ۔
مطلب: اے گھر کی چار دیواری تک محدود رہنے والے شاعر! تو نے وہ منظر نہیں دیکھا جب صحرا میں قافلے رواں دواں ہوتے ہیں اور ان کے اونٹوں کی گھنٹیاں عالم سکوت میں نغمے بکھیرتی ہیں ۔

 
ریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خرام
وہ حضر بے بر گ و ساماں ، وہ سفر بے سنگ و میل

معانی: آہو: ہرن ۔ بے پرواخرام: بے خوفی اور مزے سے چلنا ۔ حضر: موجود رہنا، سفر کی ضد ۔ بے برگ و ساماں : ساز و اسباب کے بغیر ۔ بے سنگ و میل: مسافت کے تعین کے بغیر ۔
مطلب: ریت کے ٹیلے پر ہرن بڑی بے نیازی کے ساتھ چوکڑیاں بھر رہا ہوتا ہے اور قافلے بغیر سامان کے کسی سنگ میل کی رہنمائی کے بغیر سفر کرتے ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ وہ ہر نوع کی پابندیوں سے بے نیاز ہوتے ہیں

 
وہ نمودِ اخترِ سیماب پا ہنگامِ صبح
یا نمایاں بامِ گردوں سے جبینِ جبرئیل

معانی: نمود: ظاہر ۔ اخترِ سیماب پا: پارے کے سے پاؤں والا یا ہلتے رہنے والا ستارہ ۔ بامِ گردوں : آسمان کی چھت ۔ جبین: پیشانی ۔
مطلب: اور صبح کی وقت جب سیمابی فطرت رکھنے والے ستارے طلوع ہوتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان کی بلندی سے حضرت جبرئیل کی پیشانی نمودار ہو رہی ہے ۔

 
وہ سکوتِ شامِ صحرا میں غروبِ آفتاب
جس سے روشن تر ہوئی چشمِ جہاں بینِ خلیل

معانی: سکوتِ شامِ صحرا: ریگستان میں شام کے وقت کی خاموشی ۔ خلیل: حضرت ابراہیم جنھوں نے سورج، چاند وغیرہ کو دیکھ کر کہا تھا کہ میرے خدا ہیں لیکن جب وہ غروب ہو گئے تو آپ نے فرمایا غروب ہونے والے میرے خدا نہیں ہو سکتے ۔ اور یوں خدائے واحد پر ان کا ایمان پکا ہوا ۔
مطلب: اے شاعر! تو اس منظر سے کیسے آشنا ہو سکتا ہے جبکہ شام کے سمے صحرا کے سکوت میں سورج غروب ہو رہا ہو یہی منظر حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی وسعت نظر میں اضافے کا سبب بنا ۔

 
اور وہ پانی کے چشمے پر مقامِ کارواں
اہلِ ایماں جس طرح جنت میں گردِ سلسبیل

معانی: مقامِ کارواں : قافلے کا پڑاو ڈالنا ۔ سلسبیل: بہشت کا ایک چشمہ، نہر ۔
مطلب: پھر جب قافلے تھک کر پانی کے چشمے پر قیام کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جنت میں سلسبیل کے گرد اہل ایمان جمع ہوں ۔

 
تازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاش
اور آبادی میں تو زنجیری کشت و نخیل

معانی: تازہ ویرانہ: نئی غیر آباد جگہ ۔ سودائے محبت: محبت کا مارا ہوا ۔ زنجیریِ کشت و نخیل: کھیتی اور کھجور کے درختوں سے دلچسپی میں پھنسا ہوا ۔
مطلب: جو لوگ عشق و محبت کے جویا ہوتے ہیں وہ تو نئے نئے صحراؤں کی جستجو میں رہتے ہیں جب کہ تیری ذات محض آبادی تک محدود رہتی ہے ۔

 
پختہ تر ہے گردشِ پیہم سے جامِ زندگی
ہے یہی اے بے خبر رازِ دوامِ زندگی

معانی: اے شاعر! حقیقت یہ ہے کہ مسلسل گردش اور صحرا نوردی ہی حرکت اور عمل کی دلیل ہوتے ہیں چنانچہ حقیقی زندگی کا راز ہی یہی ہے ۔

زندگی

 
بر تر از اندیشہَ سُود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی

معانی: برتر از سود و زیاں : فائدے اور نقصان سے بالاتر ۔ تسلیمِ جاں : جان ، زندگی خدا کی راہ میں قربان کرنا ۔
مطلب: اے شاعر! زندگی تو ایک ایسا عمل ہے جو نفع نقصان کے تصور سے بلند ہوتا ہے ۔ کہ زندگی کا صحیح مفہوم اس حقیقت میں ہی مضمر ہے کہ زندگی کو اس کے حقیقی تناظر میں دیکھا جائے ۔

 
تو اسے پیمانہَ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں ، پیہم دواں ، ہر دم جواں ہے زندگی

معانی: پیمانہَ امروز و فردا: مراد وقت، زمان کا پیمانہ ۔ پیمانہ: ناپنے کا آلہ ۔ پیہم دواں : مسلسل، لگاتار حرکت میں رہنے والی ۔ ہر دم جواں : ہمیشہ تروتازہ رہنے والی ۔
مطلب: اے شاعر! تو زندگی کو آج اور کل کے پیمانے سے کیوں ماپ رہا ہے ۔ یہ تو ہر دم موجود رہنے والی ہے اور ہر دم جوان و زندہ شے ہے ۔

 
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی

معانی: آپ پیدا کر: یعنی جدوجہد اور عمل سے خود بنا ۔ زندوں میں ہونا: جوش و جذبہ اور ولولہ والا ہونا ۔ سرِ آدم: انسان کی حقیقت، بھید ۔ ضمیر: باطن، بھید، باطنی قوت ۔ کُن فکاں : قرآنی حوالہ، کائنات پیدا کرتے وقت خدا نے فرمایا ہو جا وہ ہو گئی یعنی کائنات وجود میں آ گئی ۔
مطلب: اگر تجھے زندہ جذبوں والے لوگوں میں شامل ہونے کا شوق ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ دوسروں کی جدوجہد پر قناعت کرنے کے بجائے اپنی دنیا خود پیدا کر ۔ اسی صورت میں تو یہ جان سکے گا کہ تخلیق آدم کا راز اور دنیا میں ہر شے کے وجود کا کرشمہ زندگی کے عمل سے ہی عبارت ہے ۔

 
زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی

معانی: کوہ کن: پہاڑ کھودنے والا، فرہاد، شیریں کا عاشق ۔ جوئے شیر: دودھ کی ندی ۔ تیشہ: پتھر کاٹنے والا لوہے کا اوزار ۔ سنگِ گراں : بھاری پتھر مراد پہاڑ جسے فرہاد نے کاٹا ۔
مطلب: اے شاعر! اگر تو فی الواقع زندگی کی حقیقت جاننے کا خواہاں ہے تو اس ضمن میں فرہاد سے رجوع کر جس نے اپنے مقصد عشق کو حاصل کرنے کے لیے پہاڑ کاٹ کر وہاں سے دودھ کی نہر جاری کرنے کا کام کیا تھا ۔ اس سے خودبخود اندازہ ہو سکے گا کہ زندگی عیش و عشرت کا نام نہیں بلکہ عمل اور سخت کوشی کا نام ہے ۔

 
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بیکراں ہے زندگی

معانی: جوئے کم آب: تھوڑے پانی والی ندی ۔ بحر بیکراں :وسیع سمندر جس کا کوئی کنارہ نہ ہو ۔
معانی: یہ بھی جان لے کہ زندگی کا عمل غلامی میں محدود ہو کر رہ جاتا ہے جب کہ آزادی میں یہی زندگی وسعت پذیر ہو کر بحر بے کنار کی مانند ہو جاتی ہے ۔

 
آشکارا ہے یہ اپنی قوتِ تسخیر سے
گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی

معانی: قوتِ تسخیر: فتح کرنے یا اپنا تابع بنانے کی طاقت ۔ مٹی کا پیکر: انسانی جسم ۔ نہاں : چھپی ہوئی ۔
مطلب: ہر چند یہ اس کا تعلق خاک کے عنصر سے ہے لیکن اس میں دوسروں کو تسخیر کرنے کی بے پناہ صلاحیت بھی موجود ہے ۔

 
قلزمِ ہستی سے تو اُبھرا ہے مانندِ حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی

معانی: قلزمِ ہستی: وجود کا سمندر، کائنات ۔ ابھرنا: اونچا آنا ۔ مانندِ حباب: بلبلے کی طرح ۔ زیاں خانہ: نقصان کا گھر ۔
مطلب: اے شاعر! اگر ہستی کو ایک سمندر تسلیم کر لیا جائے تو تیرا وجود اس میں ایک بلبلے کی مانند ہے اور سچ پوچھیے تو یہاں یہ زندگی تیرے لیے ایک آزمائش اور امتحان کی حیثیت کی حامل ہے ۔

 
خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنہار تو

معانی: خام: کچا، جذبہ عمل سے خالی ۔ پختہ: پکا ہوا، عمل اور جدوجہد کرنے والا ۔ شمشیرِ بے زنہار: ایسی تلوار جس سے بچنا ممکن نہ ہو ۔
مطلب: یہ جان لے کہ جب تک تیری زندگی کا عمل ناپختہ ہے تو تیرا وجود محض ایک مٹی کے ڈھیر کی مانند ہے لیکن جب پختہ ہوا تو پھر شمشیر آبدار کی طرح ہے ۔

 
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

معانی: مرنے کی تڑپ: جہاد میں شہید ہونے کی خواہش ۔ پیکرِ خاکی: مٹی کا ڈھانچا، انسانی جسم ۔ جاں : روح، جذبہ عشق ۔
مطلب: خضر کہتا ہے کہ اے شاعر! اس حقیقت کا ادراک بھی تیرے لیے لازم ہے کہ جس دل میں سچائی کے لیے مرنے کی تڑپ موجود ہوتی ہے تو اس کے لیے عملِ ناگزیر ہے کہ پہلے وہ اپنے خاکی جسم میں قوت عمل پیدا کرے ۔

 
پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے

معانی: مستعار: دوسروں سے ادھار مانگے ہوئے ۔ خاکستر: راکھ ۔
مطلب: یہ زمین و آسمان تو ایک طرح سے بنے ہوئے ہیں ۔ قوت عمل تو اس امر کا نام ہے کہ انسان خاکستر سے اپنا زمین و آسمان خود تخلیق کرے ۔ مراد یہ ہے کہ مستعار لی ہوئی کوئی شے اتنی کارآمد نہیں ہوتی بلکہ نفسیاتی سطح پر اس کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے اس لیے انسان پر لازم ہے کہ جو کچھ حاصل کرے وہ اپنی محنت اور قوت بازو سے حاصل کرے ۔

 
زندگی کی قوتِ پنہاں کو کر دے آشکار
تا یہ چنگاری فروغِ جادواں پیدا کرے

معانی: قوتِ پنہاں : چھپی ہوئی طاقت ۔ یہ چنگاری: یعنی زندگی کی قوت ۔ فروغِ جاوداں : ہمیشہ ہمیشہ کی روشنی جو کبھی ختم نہ ہو ۔
معانی: زندگی میں جو قوت پوشیدہ ہے اس کو آشکارا کرنا بھی ضروری ہے کہ یہی قوت ابدی حیثیت کی حامل ہوتی ہے ۔

 
خاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرے

معانی: خاک مشرق: مراد مشرق میں واقع ممالک ۔ بدخشاں : افغانستان کا ایک شہر جہاں کے لعل مشہور ہیں ۔ لعلِ گراں : قیمتی لعل ۔
مطلب: کامیابی و کامرانی کے لیے مشرق میں سورج کی مانند چمکنا بھی ناگزیر ہے ۔ یہی عمل ماضی کی مثبت کارکردگی کی طرف لے جا سکتا ہے ۔ اور یہاں پہلے کی طرح ممتاز دانشور، فلاسفر اور صاحب فن پیدا ہو سکتے ہیں ۔

 
سوئے گردوں نالہَ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے

معانی: سوئے گردوں : آسمان کی طرف ۔ نالہَ شب گیر: رات کے وقت بلند ہونے والی گریہ و زاری ۔ سفیر: ایلچی ۔ رازداں : واقفِ حال ۔
مطلب: یہ بھی لازم ہے کہ تیری آسمان تک رسائی ہو تیری گرفت ستاروں پر بھی ہونی چاہیے ۔

 
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہَ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

معانی: یہ گھڑی: یہ دور ۔ محشر: قیامت ۔ عرصہَ محشر: قیامت کا میدان ۔ پیش کر: سامنے لا ۔ عمل: نیک کام ۔ دفتر: کتاب، مراد نامہ اعمال ۔
مطلب: اے شاعر یہ نہ بھول کہ تیرا عہد قیامت کی طرح ابتلا کا عہد ہے جس کے لیے فرد پر لازم ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی اچھا کام اعمال نامے میں موجود ہے تو اسے پیش کیا جائے ۔ مراد یہ کہ محض ترقی پانے کی خالی خولی خواہش سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ کامیابی کے لیے قوت عمل درکار ہوتی ہے ۔

سلطنت

 
آ بتاؤں تجھ کو رمزِ آیہَ اِنَّ المَلُوک
سلطنت اقوامِ غالب کی ہے اک جادوگری

معانی: رمز: اشارہ، بھید، حقیقت ۔ ان الملوک: سورہ نمل آیت 34 جب بادشاہ کسی گاؤں قصبے میں فتح کے بعد داخل میں ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں ۔ اقوامِ غالب: غلبے والی، حکمران قو میں ۔ جادوگری: جادو، دھوکے فریب کا انداز ۔
مطلب: شاعر نے چونکہ خضر سے استفسارات میں سلطنت کے بارے میں بھی سوال کیا تھا کہ اس کی نوعیت کیا ہے چنانچہ اس کے جواب میں خضر نے کہا کہ اے شاعر! آ میں تجھے اس حوالے سے قرآن پا ک کی ایک سورہ کی معنویت بتاتا ہوں جس میں کہا گیا ہے کہ سلطنت صرف اور صرف طاقتور لوگوں کی طرف سے کمزور لوگوں کا استحصال کرنے اور ان پر حکمرانی کرنے کا نام ہے ۔ یہ عمل تو ایک ایسے طلسم کی مانند ہے کہ اگر کوئی کمزور قوم یا فرد اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرتا ہے اور استحصالی قوتوں کی خلاف نبرد آزما ہوتا ہے تو طاقتور حکمران اپنے سحر انگیز حربوں سے ان کی قوت مدافعت کو ختم کر دیتا ہے ۔ اس طرح اپنا جابرانہ نظام مسلط کیے رکھتے ہیں ۔ اے شاعر! جان لے کہ ایسے حکمران جب غلام قوموں پر اپنا طلسم بکھیرتے ہیں تو وہ طوق غلامی پر بھی فخر کرنے لگ جاتے ہیں ۔

 
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سُلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

معانی: خواب: یعنی غفلت ۔ سُلا دینا: ایسا چکر دینا کہ وہ جدوجہد نہ کر سکے ۔ ساحری: جادوگری ۔
مطلب: اگر محکوم قوم پڑی خواب غفلت سے بیدار ہوتی ہے تو اس کو حکمرانوں کی جادوگری پھر سے سلا دیتی ہے ۔

 
جادوئے محمود کی تاثیر سے چشمِ ایاز
دیکھتی ہے حلقہَ گردن میں سازِ دلبری

معانی: محمود: مراد سلطان محمود غزنوی جسے اپنے غلام ایاز سے بہت محبت تھی ۔ ایاز: محمود غزنوی کا غلامِ خاص ۔ حلقہَ گردن: گردن میں ڈالا ہوا لوہے کا حلقہ جو غلاموں کی پہچان تھا ۔ سازِ دلبری: محبوب یا پیار ہونے کا باجا ۔
مطلب: اے شاعر جان لے کہ ایسے حکمران جب غلام قوموں پر اپنا طلسم بکھیرتے ہیں تو ایاز جیسے غلام اپنے آقا محمود کا گردن میں ڈالے ہوئے غلامی کے حلقہ سے بھی پیار کرنے لگتی ہے ۔

 
خونِ اسرائیل آ جاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسمِ سامری

معانی: اسرائیل: حضرت موسیٰ کی قوم ۔ خون جوش میں آ جانا: غیرت کے سبب طیش میں آنا ۔ سامری: جس نے حضرت موسیٰ کی غیر موجودگی میں سونے کا بچھڑا بنا کر بنی اسرائیل سے اس کی پوجا کروائی تھی ۔
مطلب: یہ صورتحال ایک حد تک قائم رہتی ہے کہ جب غلام قوموں پر حقیقت حال واضح ہوتی ہے تو ان کی غیرت وحمیت جاگ اٹھتی ہے اور جس طرح حضرت موسیٰ نے سامری کے طلسم کو توڑ کر اپنی قوم کو حقیقت حال سے باخبر کر کے بیدار کر دیا تھا اسی طرح کوئی بھی غلام اٹھ کر استحصالی قوتوں کو ختم کر دیتا ہے اور اپنی قوم کو آزادی کی نعمت سے مالامال کر دیتا ہے ۔

 
سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی ، باقی بتانِ آزری

معانی: زیبا: لائق، موزوں ۔ ذاتِ بے ہمتا: یعنی خدا تعالیٰ جس کا کوئی شریک نہیں ۔ بتانِ آزری: آزر کے تراشے ہوئے بت، باطل چیزیں ۔
معانی: اے شاعر! یہ حقیقت ہے کہ حکمرانی تو صرف رب ذولجلال کی ذات تک محدود ہے صرف خدا ہی حقیقی حکمران ہے باقی سب لوگ مصنوعی حیثیت کے حامل ہیں کہ ان کی حکومتیں عارضی ہوتی ہیں جو کبھی بنتی ہیں اور کبھی ٹوٹ جاتی ہیں ۔

 
از غلامی فطرتِ آزاد را رُسوا مکن
تا تراشی خواجہَ از برہمن کافر تری

مطلب:لہذا تجھے چاہیے کہ اپنی آزاد فطرت کو غلامی سے رسوا اور بدنام نہ کرے ۔ اس کی برعکس اگر تو خدائے واحد کے چنے ہوئے کے سوا کسی اور کو اپنا آقا تصور کرے گا تو جان لے کہ تو برہمن سے بھی بڑا کافر ہے ۔

 
ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری

معانی: سازِ کہن: پرانا باجا، مراد پرانا بادشاہت کا نظام ۔ مغرب: یورپ ۔ جمہوری نظام: عوام کی حکومت ۔ غیر از: سوائے ۔ نوائے قیصری: قیصر ہونے کی لے، سر یعنی بادشاہت ۔
مطلب: مغرب کا نیا نظام جسے دنیا بھر کے سیاستدان اور دانشور جمہوریت سے تعبیر کرتے ہیں فی الواقعہ وہی پرانا نظام ہے جو بادشاہت اور قیصریت سے ہم آہنگ رہا ہے ۔

 
دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

معانی: دیوِ استبداد: ایک آدمی کی حکومت کا جن، شیطان ۔ جمہوری قبا: مراد عوام کی حکومت کا پردہ، لباس ۔ پائے کوب: ناچنے والا ۔ نیلم پری: ہندوستان کے ایک قدیم راجا اندرکے دربار کی خوبصورت نیلی پری ۔
مطلب: جمہوریت تو ایک ایسے دیو کی مانند ہے ظلم و ستم جس کا شعار ہے ۔ بدقسمتی سے تو اسے انفرادی آزادی کا پیغام لانے والا تصور کرتا ہے ۔

 
مجلسِ آئین و اصلاح و رعایات و حقوق
طبِ مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوری

معانی: مجلسِ آئین: قانون ساز اسمبلی ۔ اصلاح و رعایات و حقوق: مراد ملک، عوام کی بہتری کے لیے اصلاحات ۔ طبِ مغرب: یورپ کا طریق علاج ۔ مزے میٹھے: بظاہر بڑی مزیدار دوائی یعنی دیکھنے میں جمہوری نظام بہت عمدہ ہے ۔ خواب آوری: نیند لانا، غافل کر دینے کا عمل ۔
مطلب: بدقسمتی سے تو اسے انفرادی آزادی کا پیغام لانے والا تصور کرتا ہے اس کے علاوہ موجودہ جمہوری نظام میں عوام کی زندگی کو منظم کرنے، ان کی اصلاح کے لیے ادارے قائم کرنے اور لوگوں کو رعایتیں اور حقوق دینے کے لئے جو ادارے قائم کیے گئے ہیں وہ مغربی استعماریت کا نسخہ ہے جس کے اثرات بظاہر شیریں ہیں لیکن لوگوں کو اپنے حقوق سے غافل کر دیتا ہے ۔

 
گرمیِ گفتارِ اعضائے مجالس الاماں
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگِ زرگری

معانی: گرمی گفتار: پرجوش باتیں ، تقریریں ۔ اعضا: جمع عضو، رکن، ممبر ۔ مجالس: جمع مجلس، پارلیمنٹ، اسمبلیاں ۔ سرمایہ دار: بہت دولت والے جنگِ زرگری: یعنی مزید دولت حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ ۔
معانی: اور یہ اسمبلیاں اور ان کے ارکان کی پرجوش تقریروں سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ عوامی مسائل چشم زدن میں حل ہو جائیں گے لیکن غور کیجئے تو یہ سرمایہ داروں کی طرف سے مزید دولت حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں ۔

 
اس سرابِ رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ! اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

معانی: سرابِ رنگ و بو: یعنی نظروں اور دل و دماغ کو فریب دینے والی سیاسی چالیں ۔ قفس: پنجرہ ۔ آشیاں : گھونسلا ۔
مطلب: اے شاعر! یہ جمہوریت کا نظام تو ایک فریب کے سوا اور کچھ نہیں جب کہ تو اسے ملک و ملت کے مفاد کے لئے بہترین طرز عمل سمجھے بیٹھا ہے ۔ دیکھا جائے تو اس سراب کو رنگ و بو سے مزین گلستان سمجھا ہوا ہے بلکہ اس قدر ناداں ہے کہ قفس کو بھی اپنے آشیاں سے تعبیر کر رہا ہے ۔

سرمایہ و محنت

 
بندہَ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیامِ کائنات

معانی: بندہَ مزدور: کارخانوں وغیرہ میں اجرت پر کام کرنے والا ۔ پیامِ کائنات: یعنی عالمی پیغام ۔
مطلب: اے شاعر تو سرمایہ و محنت کے حوالے سے بندہَ مزدور کو جا کر یہ پیغام سنا دے اور یہ امر خود بھی ذہن نشین کر لے کہ یہ پیغام صرف میرا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا ہے ۔

 
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گر
شاخِ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات

معانی: شاخِ آہو پر برات ہونا: کچھ حاصل حصول نہ ہونا یعنی سرمایہ دار کا مختلف بہانوں سے مزدور کو اس کا حق نہ دینا ۔
مطلب: چونکہ ذرا غور سے دیکھا جائے تو مختلف مسائل پر ساری کائنات پیغام دیتی نظر آتی ہے کہ مزدور یہ حقیقت ہے کہ تیری محنت کا پھل بہانے بہانے سے سرمایہ دار کھا جاتے ہیں

 
دستِ دولت آفریں کو مزد  یوں ملتی رہی
اہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کا زکات

معانی: دست: ہاتھ ۔ دولتِ آفریں : دولت پیدا کرنے والا ۔ مزد: مزدوری، اجرت ۔
مطلب: تو دولت اپنی محنت سے پیدا کرتا ہے لیکن اس کا معمولی سا معاوضہ سرمایہ دار اس انداز سے دیتا ہے جیسے تجھے زکواۃ کی رقم دے رہا ہو ۔

 
ساحرِ الموط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات

معانی: ساحر الموط: الموط کا جادوگر ، حسن بن صباح، اسماعیلی فرقہ کا داعی، قلعہ الموط پر 483ھ میں اس نے ایک جنت بنائی جس میں خوبصورت عورتیں رکھیں ۔ جو لوگ مرید بنتے انہیں بھنگ پلا کر مدہوش کر کے جنت میں لے جاتے ۔ چند روز وہاں رکھنے کے بعد انھیں پھر بھنگ کے نشے میں گویا دنیا میں واپس لایا جاتا اور دوبارہ جنت کے لالچ میں ان کے مخصوص مقاصد کے لئے کام کرتے ۔ ہلاکو خان تاتاری نے قلعہ فتح کر کے اس سلسلہ کو ختم کیا ۔ برگِ حشیش: بھنگ کا پتا، بھنگ پلانے کی طرف اشارہ ہے ۔ شاخِ نبات: مصری کی ڈلی ۔
مطلب: فی الواقعہ دیکھا جائے تو سرمایہ دار حسن بن صباح کی مانند ہے ۔ حسن بن صباح اپنے معتقدین کو بھنگ پلا کر مدہوش کر دیتا تھا وہ سمجھتے تھے کہ انہیں دنیا کی بہت بڑی دولت مل رہی ہے ۔ سرمایہ دار بھی مزدوروں کو ان کے حقوق سے غافل کرنے کے لئے اسی طرح سے جل دیتا ہے اور بے چارہ محنت کش اپنی ناعاقبت اندیشی کے سبب زہر کو بھی مصری کی ڈلی سمجھ کر نگل لیتا ہے ۔

 
نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مُسکرات

معانی: نسل: خاندان، قبیلہ ۔ قومیت: یعنی ایک وطن کے لوگ ایک الگ قوم ۔ کلیسا: گرجا، مراد مذہبی نظریات، یورپ کی عوام پر حکومت ۔ سلطنت: آمریت ۔ تہذیب: زندگی گزارنے کے طریقے ۔ رنگ: انسانی رنگ جو ملکوں کے مطابق کالا، زرد، سرخ وغیرہ ہوتا ہے ان کی بنا پر تعصب پیدا کیا جاتا ہے ۔ خواجگی: آقائی، حکمرانی ۔ مُسکرات: جمع مسکر، نشہ لانے والی چیزیں ۔
مطلب: سرمایہ داروں نے نسل، قومیت، عبادت گاہیں ، سلطنت ، تہذیب اور رنگ کے ایسے ایسے نشے ایجاد کر رکھے ہیں او ر محنت کش انہی کو سب کچھ سمجھتے ہوئے سرمست و سرشار ہو جاتا ہے ۔ حالانکہ یہ سب عناصر سرمایہ دار کے استحصالی نظام کے ستونوں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

 
کٹ مرا ناداں خیالی دیوتاؤں کے لیے
سُکر کی لذت میں تو لٹوا گیا نقدِ حیات

معانی: کٹ مرا: لڑ لڑ کر جان دے دی ۔ خیالی دیوتا: مراد مذکورہ نسلی و قوی تعصبات ۔ سُکر کی لذت: نشے کا مزہ ۔ نقدِ حیات: زندگی کی نقدی، دولت ۔
مطلب: جب کہ عام مزدور انہی عناصر کے نشے کے سبب اپنے ذاتی اثاثے سے بھی محروم ہو جاتا ہے ۔

 
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

معانی: چال: طریقہ ، رویہ ۔ بازی لے جانا: جیت جانا ۔ انتہائی سادگی: بیحد بھولا پن، کم سمجھی ۔ مات: شکست ۔
مطلب:حالانکہ بغور دیکھا جائے تو مکر و فریب کی چالوں کے سبب سرمایہ دار محنت کشوں کا سب کچھ سمیٹ کر لے جاتے ہیں اور غریب مزدور اپنی سادگی کی بنا پر ہمیشہ مار کھا جاتا ہے ۔

 
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

معانی: اٹھ: ہوش کر، بیدا ر ہو جا ۔ بزمِ جہاں : مراد دنیا ۔ انداز: طور طریقہ ۔ مشرق و مغرب: پوری دنیا ۔ تیرے دور کا : مزدورں کا یا مسلمانوں ، اسلام کی ترقی کے زمانے کا ۔ آغاز: ابتدا ۔
مطلب: لیکن اے مزدور اس خواب غفلت سے بیدار ہو کہ یہ استحصالی نظام اب زیادہ دیر جاری نہیں رہنا چاہیے ۔ کائنات کی فضا بدل چکی ہے اور اب تو مغرب ہو یا مشرق ہر جگہ بہرحال ساری دنیا میں تیرے دور کا آغاز ہو چکا ہے ۔ مراد یہ کہ حالات ایسے پیدا ہو رہے ہیں جب مروجہ استحصالی نظام بدلے گا اور سرمایہ دار مزدور کے حقوق غصب نہیں کر سکیں گے ۔

 
ہمتِ عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبول
غنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلک

معانی: ہمت عالی: بلند حوصلہ، ارادہ ۔ غنچہ ساں : کلی کی طرح ۔ دامن: پلو ۔
مطلب: اے شاعر! اگر انسان میں بلند ہمتی اور حوصلہ ہو تو وہ شبنم کا قطرہ تو الگ رہا اسے دریا بھی بخش دیا جائے تو وہ اس کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا ۔ تو آخر کب تک قناعت کرے گا ۔

 
نغمہَ بیداریِ جمہور ہے سامانِ عیش
قصہَ خواب آورِ اسکندر و جم کب تلک

معانی: بیداریِ جمہور: عوام کی بیداری کا نعرہ ۔ سامانِ عیش: آرام و راحت کی زندگی کا باعث ۔ قصہَ خواب آور: نیند لانے والی کہانی ۔ اسکندر: سکندر ِ رومی ۔ جم: جمشید، ایران کا قدیم بادشاہ ۔
مطلب: ذرا غور سے دیکھ کہ اصل حقیقت تو عوام کی بیداری میں پوشیدہ ہے ۔ آخر سکندر و جمشید جیسے بادشاہوں کے مبہوت کرنے والے واقعات کب تک سنے گا ۔

 
آفتابِ تازہ پیدا بطنِ گیتی سے ہوا
آسماں ! ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک

معانی: آفتابِ تازہ: نیا سورج ۔ بطنِ گیتی: زمانے کا پیٹ ۔ ڈوبے ہوئے تارے: مراد بادشاہتیں ، آمرانہ حکومتیں ۔
مطلب: دیکھ کہ زمین کے بطن سے ایک نیا سورج طلوع ہو رہا ہے آخر ان ستاروں کا ماتم کب تک کرے گا جو عرصہ ہوئے ڈوب چکے ہیں ۔

 
توڑ ڈالیں فطرتِ انساں نے زنجیریں تمام
دُوریِ جنت سے روتی چشمِ آدم کب تلک

معانی: زنجیریں : رکاوٹیں ۔ دوری: دور ہونے کی حالت ۔
مطلب: انسانی فطرت نے آج ان تمام زنجیروں کو توڑ ڈالا ہے جسے استعماری نظام سے مسلط کی تھیں ۔ یہ درست ہے کہ آدم کا جنت سے نکلنا ایک بڑا سانحہ تھا لیکن اب اس سانحہ کو یاد کر کے کیوں ذہنی کرب کا شکار ہو جائے ۔

 
باغبانِ چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہار
زخمِ گل کے واسطے تدبیرِ مرہم کب تلک

معا نی: باغبانِ چارہ فرما: علاج کرنے والا،طبیب مالی ۔ زخمِ گل: پھول یعنی مزدور کا زخم ۔
مطلب: جس طرح پھولوں کا کھلنا ایک فطری امر ہے اسی طرح محنت کشوں کی بیداری بھی ایک فطری امر ہے ۔ اب اس میں کوئی بھی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا ۔

 
کرمکِ ناداں طوافِ شمع سے آزاد ہو
اپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہو

معانی: کرمک: چھوٹا سا کیڑا، پتنگا، مزدور ۔ طواف: کسی شے کے گرد چکر لگانے کا عمل ۔ شمع: مراد سرمایہ دار ۔ تجلی زار: روشنیوں کی کثرت کی جگہ ۔ آباد ہونا: مراد مستقبل شاندار بنانا ۔
مطلب: اس شعر میں خضر ایک بار پھر محنت کشوں کی توجہ اس امر کی طرف منعطف کراتا ہے کہ اپنے معمولی مفاد کے لئے سرمایہ داروں کے گرد طواف کرنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا بلکہ اپنی عظمت کا احساس کرو اور اپنے حقوق جس طرح بھی ممکن ہیں حاصل کرو ۔

دنیائے اسلام

 
کیا سُناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز

معانی: ترک و عرب کی داستاں : ترکوں کے ساتھ عربوں کی غداری کا ماجرا ۔ اسلامیوں : یعنی مسلمانوں ۔
مطلب: خضر عالم اسلام کے بارے میں استفسار پر شاعر سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے شاعر! تو مجھے ترک و عرب یعنی عالم اسلام کی داستان کیا سناتا ہے ۔ کہ میں اس سے پوری طرح آگاہ ہوں اور اس ضمن میں مجھ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے ۔

 
لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل
خشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز

معانی: تثلیث کے فرزند: عیسائی، یعنی انگریز حکمران(عیسائیوں کے نزدیک توحیدِ خداوندی کی تین شاخیں ہیں ) ۔ میراثِ خلیل: حضرت ابراہیم کی خوبیاں یعنی اخلاق حسنہ ۔ خشت: اینٹ ۔ بنیادِ کلیسا: گرجے ، عیسائیت کی بنیاد ۔ خاکِ حجاز: حجاز کی مٹی ۔
مطلب: صورت حال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کا ورثہ تو اب مسلمانوں کی بجائے عیسائیوں نے حاصل کر لیا اور حجاز کی جو خاک تھی وہ اب کلیسا کی تعمیر میں کام آ رہی ہے ۔ مراد یہ ہے کہ مغرب کی سیاست نے ملت مسلمہ کی شان وشوکت کو زیر و زبر کر دیا ۔

 
ہو گئی رُسوا زمانے میں کلاہِ لالہ رنگ
جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبورِ نیاز

معانی: کلاہِ لالہ رنگ: سرخ رنگ کی ٹوپی، مراد پھندے والی سرخ ٹوپی جو ترک پہنا کرتے تھے ۔ سراپا ناز: پورے طور پر فخر والے، مسلمان ۔
مطلب: یہی وجہ ہے کہ ترک جیسی اولوالعزم قوم کی سرخ ٹوپی جو ساری دنیا میں باعث افتخار سمجھی جاتی تھی اب بدنام اور رسوا ہو کر رہ گئی ہے ۔

 
لے رہا ہے مے فروشانِ فرنگستاں سے پارس
وہ مئے سرکش، حرارت جس کی ہے مینا گداز

معانی: مے فروشاں : جمع مے فروش، شراب بیچنے والے ۔ فرنگستان: یورپ ۔ پارس: فارس یعنی ایران ۔ مئے سرکش: نافرمانی کی شراب، مراد غیر اسلامی تصورات ۔ مینا گداز: صراحی کو پگھلا دینے والی یعنی ایسا تمدن تہذیب جو ایران کی اسلامی روایات کو ختم کر دے ۔
مطلب: دوسری طرف اہل ایران اپنی تہذیب و تمدن اور اس کے تشخص سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور مغرب کی نقالی میں مصروف ہیں ۔

 
حکمتِ مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز

معانی: حکمتِ مغرب: یورپ کی سیاسی چالبازی اور سیاست ۔ کیفیت: حالت ۔ گاز: گیس، تیزاب
مطلب: یہی اسباب ہیں کہ اہل یورپ کی سیاست اور عیاری کے سبب ملت مسلمہ اس طرح پارہ پارہ ہو چکی ہے جیسے تیزاب سونے کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیتا ہے ۔

 
ہو گیا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو
مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز

معا نی: مانندِ آب: پانی کی طرح ۔ دانائے راز: صحیح صورتحال یا حقیقت سے باخبر ۔
مطلب: آج تمام دنیا میں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے اور اے شاعر تو اس صورتحال پر مضطرب اور بے چین ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تو نے حالات کا پوری طرح تجزیہ کرنے کی کوشش نہیں کی ۔

 
گُفت رومی ہر بنائے کہنہ کآ باداں کنند
می ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنند

مطلب: اے شاعر مولانا رومی کا قول ہے کہ کسی عمارت کو ازسر نو تعمیر کرنا ہو تو پہلے اس کی بنیاد کو اکھاڑ دیتے ہیں اس کے بعد ہی وہ نئے سرے سے بنائی جا سکتی ہے ۔

 
مُلک ہاتھوں سے گیا، ملت کی آنکھیں کھل گئیں
حق تُرا چشمے عطا کردست غافل در نگر

معانی: ملک ہاتھوں سے گیا: اشارہ ہے مسلمانوں کے قبضے سے دہلی بغداد اور دمشق کے نکل جانے کی طرف ۔ آنکھیں کھلنا: ہوش آ جانا ۔
مطلب: اے شاعر اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک اور سلطنت پرغیروں نے تسلط جما لیا اور ملت اسلامیہ اقتدار سے محروم ہو گئی ۔ یہ صریحاً ناقابل تلافی نقصان تھا پھر بھی اس نقصان سے یہ فائدہ ضرور پہنچا کہ مسلمانوں کی آنکھیں کھل گئیں ہیں ۔ اور ان کو اپنے نقصان کا احساس ہونے لگا ہے کہ خدا نے اسے بصارت کے ساتھ بصیرت بھی بخشی ہے ۔

 
مومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست
موربے پر! حاجتے پیشِ سلیمانے مبر

معانی: مومیائی کی گدائی: ہڈی جوڑنے کی بھیک، مراد مسلمانوں کا اپنی بری حالت سنوارنے کے لیے دوسرے ملکوں سے مدد مانگنا ۔ شکست: ہڈی ٹوٹنے کا عمل ۔
مطلب: انسانی تعمیر کے لیے مانگی ہوئی دواؤں کے حصول سے یہ امر زیادہ بہتر ہے کہ انسان ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائے اور عارضی سطح پر شکست کو قبول کر لے ۔ اس لیے کہ تیرا وجود ایک معمولی چیونٹی کی مانند بھی ہو پھر بھی تجھے حضرت سلیمان جیسے عظیم فرمانروا کی روبرو حاجت روائی کے لیے دست طلب و دراز نہیں کرنا چاہیے ۔

 
ربط و ضبطِ ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

معانی: ربط و ضبط: آپس میں اتفاق، اتحاد و میل ملاپ ۔ ملتِ بیضا: روشن قوم، ملت اسلامیہ ۔ مشرق کی نجات: یعنی اسلامی ملکوں کی آزادی ۔ ایشیا والے: ایشا کے لوگ، قو میں ۔
مطلب: مشرق کی نجات اسی نکتے میں مضمر ہے کہ ملت بیضا میں ہر چہار جانب اتحاد و نگانگت اور باہمی ارتباط کا سلسلہ از سر نو قائم ہو جائے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایشیا کے لوگ ابھی تک اس نکتے سے آگاہی نہیں رکھتے ۔

 
پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصارِ دیں میں ہو
ملک و دولت ہے فقط حفظِ حرم کا اک ثمر

معانی: حصار دیں : دین کا قلعہ مراد اسلام کی طرف متوجہ ہو ۔ ملک و دولت: ملک اور حکومت ۔ حفظِ حرم: کعبہ کی حفاظت ۔ حرم: اسلام ۔
مطلب: اے شاعر میری بات غور سے سن کہ ملت کی نجات اسی عمل میں پوشیدہ ہے کہ سیاست کو ترک کر کے مسلمان از سر نو اپنے دین کی طرف رجوع کریں ۔ اس لیے ملک و دولت کا بنیادی مقصد تو صرف اسی قدر ہے کہ حرم یعنی مذہب اور اپنی اقدار کا تحفظ کیا جا سکے ۔

 
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

معانی: نیل: دریائے نیل، مصر کا مشہور دریا ۔ تابخاکِ کاشغر: کاشغر کی سرزمین، ترکستان کا ایک شہر ۔
مطلب: چنانچہ یہ امر ناگزیر ہے کہ حرم اور دین کا تحفظ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ دریائے نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک مسلمان متحد ہو کر صف آرا ہوں یعنی افریقہ سے لے کر ترکی تک مسلمان اپنے تمام اختلاف بھلا کر ایک ہو جائیں اسی اتحاد میں ملت اسلامیہ کی نجات ہے ۔

 
جو کرے گا امتیازِ رنگ و خوں مٹ جائے گا
تُرک خرگاہی ہو یا اعرابیِ والا گُہر

معانی: رنگ و خوں : نسل، قبیلہ، علاقائی تعصب ۔ ترک خرگاہی: شاہی خیمے والا ترک، ترک قوم ۔ اعرابی: عربوں کی بدو قوم ۔ والا گُہر: اعلیٰ خاندان ۔
مطلب: اے شاعر! یہ بھی گوش ہوش سن لے کہ اگر ملت میں اختلافات باقی رہے تو وہ ہمیشہ کے لیے مٹ کر رہ جائے گی اس ضمن میں کوئی تخصیص نہیں کہ اختلاف کرنے والے خواہ شاہی خیموں میں رہنے والے ترک ہوں یا بلند مرتبہ خاندان سے تعلق رکھنے والے عرب ہوں کہ رنگ و نسل کا امتیاز ہمیشہ تباہی کا باعث ہوتا ہے ۔ چنانچہ ضروری ہے کہ امتیازات کو ختم کر کے دین کے حقیقی بنیاد پر پیروی کی جائے کہ دنیا میں یہی عمل کامیابی و کامرانی کا سبب بن سکتا ہے ۔

 
نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی
اُڑ گیا دنیا سے تو مانندِ خاک رہ گزر

معانی: مقدم: افضل، بڑھ کر، بالاتر ۔
مطلب: یہ بھی جان لے کہ رنگ و نسل کی لعنت اگر دین پر مغربی اقوام کی طرح مسلط ہو گئی تو ملت اسلامیہ اس طرح صفہ ہستی سے مٹ کر رہ جائے گی جس طرح راہ میں پڑا ہوا غبار باد سموم کے جھونکوں سے اڑ کر اپنا وجود کھو دیتا ہے ۔

 
تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

معانی: خلافت کی بنا: صحیح اسلامی حکومت کی بنیاد ۔ اسلاف کا قلب و جگر: پرانے مسلمانوں کا سا دل و دماغ یعنی توحید اور اسلام سے محبت کا جوش و جذبہ ۔
مطلب: اے شاعر یاد رکھ کہ ملت اسلامیہ اسی وقت اپنے مقاصد میں کامیاب ہو کر برسراقتدار آ سکتی ہے جب کہ وہ ہر معاملے میں دین کی پیروی کرے ۔ اس کے لیے لازم ہے کہ اپنے اسلاف جیسی ہمت اور حوصلہ پیدا کیا جائے ۔

 
اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہشیار باش 

معانی: اس شعر میں مسلمانوں کے مابین فرقہ بندی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم لو گ ابوبکر اورامام علی کی بڑائیاں کرنے کے چکر میں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو اور فرقہ پرستی کو ہوا دے کر اپنی صفوں میں انتشار پیدا کر رہے ہو ۔ تمہیں ہوش و خرد کا دامن ہاتھوں سے تھامنا چاہیے ۔ اس لیے بھی ضروری ہے کہ تم پوشیدہ اور ظاہر باتوں میں امتیاز پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اس لیے تمہیں خبردار ہو جانا چاہیے ۔

 
عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی
اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ

معانی: فریاد: احتجاج، شکایت ۔ دل تھام کر: ذرا حوصلے اور صبر کے ساتھ ۔ تاثیر: اثر کی کیفیت ۔
مطلب: اب آخری مرحلے پر خضر یوں کہتا ہے کہ اے شاعر! ملت پر متوقع مصائب کے بارے میں خدائے ذوالجلال کے حضور جو فریاد کرنی چاہیے تھی عشق حقیقی کے طفیل وہ فریاد بھی ہو چکی ۔ اب اس کے بعد یہی مناسب ہے کہ اس فریاد کے اثرات کا جائزہ لیا جائے کہ بارگاہ ایزدی میں اس فریاد کا کیا ردعمل ہوتا ہے ۔

 
تو نے دیکھا سطوتِ رفتارِ دریا کا عروج
موجِ مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھ

معانی: سطوتِ رفتار دریا: دریا کے بہاوَ کی شان و شوکت یعنی اسلام دشمنوں کی سازشیں ۔ عروج: بلندی ، ترقی ۔ موجِ مضطر: بے چین لہر یعنی غیر مسلمانوں کی شورشیں ۔ زنجیر: بیڑی یعنی ان کے لیے وبال جان ۔
مطلب: تو نے ابھی اس کی عظمت اور رفتار کی تیزی ہی دیکھی ہے اب ذرا یہ دیکھ کہ دریا کی تیز اور مضطرب موج خود اس کے لیے زنجیر کس طرح سے بنتی ہے ۔ مراد یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے مسلمانوں کو بے شک تہذیبی اور سیاسی سطح پر تو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے لیکن اس تہذیب کا اپنا کیا حشر ہو گا یہ حقیقت بھی عنقریب سامنے آ جائے گی ۔

 
عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھ

معانی: عا م حریت: سب انسانوں کے لیے آزادی ۔ تعبیر: خواب کی وضاحت ۔
مطلب: تمام دنیا کے لیے جو آزادی اور حریت فکر کا خواب اسلام نے دیکھا تھا وہ اب تعبیر کے مراحل میں داخل ہونے والا ہے ۔

 
اپنی خاکستر سمندر کو ہے سامانِ وجود
مر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہانِ پیر دیکھ

معانی: خاکستر: راکھ ۔ سمندر: چوہے کی قسم کا ایک جانور جو آگ میں رہتا ہے مگر جلتا نہیں ۔ جہانِ پیر: بوڑھی دنیا ۔
مطلب: اس کی مثال سمندر کی سی ہے ۔ سمندر وہ کیڑہ جو آگ میں پیدا ہوتا ہے پھر اسی میں جل کر خاک ہو جاتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی راکھ سے خود ہی جنم لیتا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ عالم اسلام اپنے انتہائی زوال کے بعد اب ترقی کی راہ پر ازسر نو گامزن ہو گا ۔

 
کھول کر آنکھیں مرے آئینہ گفتار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

معانی: کھول کر آنکھیں : پوری توجہ اور غور کے ساتھ ۔ آئینہ گفتار: باتوں کا آئینہ، مراد بصیرت سے بھری باتیں ۔ دھندلی سی: جو پوری طرح صاف نہ ہو ۔ آنے والے دور کی تصویر: مستقبل میں پیش آنے والے حالات و واقعات کا نقشہ، خاکہ ۔
مطلب: خضر کہتا ہے کہ اے شاعر! میری گفتگو میں تجھے آنے والے دور کی تصویر یقیناً نظر آئے گی ہر چند کہ یہ تصویر فی الحال قدرے دھندلی ہے تا ہم رفتہ رفتہ یہ تصویر واضح ہوتی چلی جائے گی ۔

 
آزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس
سامنے تقدیر کے رسوائی تدبیر دیکھ

معانی: آزمودہ: آزمایا ہوا ۔ گردوں :آسمان ۔ تدبیر: انسانی کوششیں ۔ رسوائی: ذلت، بے بسی ۔
مطلب: لیکن اس حقیقت کو نہ بھولو کہ فلک کج رفتار کے پاس ایک آزمودہ فتنہ بھی ہے جس کا نام تقدیر ہے ۔ جان لے کہ تقدیر وہ شے ہے جس کے بالمقابل تدبیر کے سارے حربے ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں ۔

 
مسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار
بر زماں پیشِ نظر لا یخلف المیعاد دار

معانی: تو اگر مسلمان ہے تو اپنے دل میں عظمت اسلام اور ملت اسلامیہ کی ترقی و سربلندی کی آرزو زندہ رکھ اور اس قرآنی آیت کو ہر وقت اپنے سامنے رکھ کہ خدا تعالیٰ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔