Please wait..

بلال

 
لکھا ہے ایک مغربی حق شناس نے
اہلِ قلم میں جس کا بہت احترام تھا

معانی: بلال: حضرت بلال، حضور اکرم کے ایک خاص صحابی اور موذن جو حبشی غلام تھے ۔ حق شناس: یعنی حقیقت بیان کرنے، سچی بات کہنے والا ۔ اشارہ ہے ڈوءچ کی طرف یہودی نسل کا جرمن فاضل تھا ۔
مطلب: مغرب کا ایک حقیقت پسند دانشور جو انتہائی قابل احترام گردانا جاتا ہے نے لکھا ہے ۔

 
جولانگہِ سکندرِ رومی تھا ایشا
گردوں سے بھی بلند تر اس کا مقام تھا

معانی: جولاں گہ: جولان گاہ، دوڑنے کی جگہ، میدان ۔ سکندرِ رومی: مشہور یونانی بادشاہ سکندرِ اعظم ۔ ایشیا: براعظم ایشیا جس میں چین، جاپان، عرب ، پاکستان ، ہند وغیرہ شامل ہیں ۔ بلند تر: زیادہ اونچا ۔
مطلب: کہ ایشا روم کے جلیل القدر بادشاہ سکندر ایشا کو ہمیشہ اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے روندتا رہا ۔ مقدونیہ میں پیدا ہونے والا یہ عظیم سپہ سالار اوائل عمری میں ہی ایشیا کے متعدد ممالک فتح کر چکا تھا ۔ بظاہر اس کا مرتبہ آسمان سے بھی بلند تھا ۔

 
تاریخ کہہ رہی ہے کہ رومی کے سامنے
دعویٰ کیا جو پورس و دارا نے، خام تھا

معانی: دعویٰ کرنا: اپنے آپ کو طاقتور ظاہر کرنا ۔ پورس: ہندوستان کا مشہور راجا جسے سکندر نے وادیِ سندھ میں شکست دی تھی ۔ دارا: قدیم ایران کا مشہور بادشاہ دارا یوش، دارا سوم، سکندرکے ساتھ لڑائی میں مارا گیا اور سکندر اس کے ملک فارس پر قابض ہو گیا ۔ خام: کچا، بے حقیقت ۔
مطلب: تاریخ عالم اس امر کی گواہی دے رہی ہے کہ ہندوستان کے پورس اور ایرانی بادشاہ دارا نے اپنی جرات و ہمت کے دعوے کیے تھے وہ غلط تھے ۔ سکندر کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔

 
دنیا کے اس شہنشہِ انجم سپاہ کو
حیرت سے دیکھتا فلکِ نیل فام تھا

معانی: شہنشہِ انجم سپاہ: ایسا شہنشاہ جس کی فوج ستاروں کی طرح لاتعداد ہو ۔ فلک: آسمان ۔ نیل فام: نیلے رنگ کا ۔
مطلب: سکندر دنیا میں ایسا بادشاہ گزرا ہے جس کی فوجوں کی تعداد ستاروں جتنی تھی ۔ اس لیے غالباً آسمان بھی اس کو حیرت سے دیکھا کرتا تھا ۔

 
آج ایشیا میں اس کو کوئی جانتا نہیں
تاریخ دان بھی اسے پہچانتا نہیں

مطلب: لیکن صورتحال یہ ہے کہ اس سطوت و جلال کے باوجود ایشیا میں آج کوئی شخص اسے جانتا تک نہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ مورخ بھی اس کے کارناموں سے واقف نہیں ۔

 
لیکن بلال، وہ حبشی زادہَ حقیر
فطرت تھی جس کی نورِ نبوت سے مستنیر

معانی: حبشی زادہ: حبشی نسل کا ، سیاہ فام نسل ۔ نورِ نبوت: حضور اکرم کی روشنی، اسلام کی محبت ۔ مستنیر: روشن ۔
مطلب: لیکن بلال جو ایک معمولی حبشی زادہ تھا جس نے انوار نبوت سے روشنی پائی تھی ۔

 
جس کا ا میں ازل سے ہوا سینہَ بلال
محکوم اس صدا کے ہیں شاہنشہ و فقیر

معانی: سینہ: مراد دل ۔ اس صدا: یعنی اذان ۔ شاہنشہ و فقیر: مراد بلند مرتبہ اور حقیر سبھی لوگ ۔
مطلب: آواز اس کے سینے میں خالق حقیقی کی امانت تھی وہ آج بادشاہ سے لے کر فقیر تک سب پر حکومت کرتی ہے ۔

 
ہوتا ہے جس سے اَسود و اَحمر میں اختلاط
کرتی ہے جو غریب کو ہم پہلوئے امیر

معانی: اسود: سیاہ، کالا ۔ احمر: سرخ ۔ اختلاط: ملاپ، مراد نماز میں کھڑے ہوتے وقت کسی رنگ ، نسل یا مرتبے کا فرق نہیں رہتا ۔ ہم پہلو: یعنی کندھے کے ساتھ کندھا ملانے والا ۔
مطلب: یہی اذان کی آواز ہے جس کو سن کر دنیا بھر کے مسلمان سجدے میں جھک جاتے ہیں ۔ یہی اذان مسلمانوں میں اخوت اور میل جول پیدا کرتی ہے اور جس کے سبب محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر عبادت خداوندی کرتے ہیں ۔

 
ہے تازہ آج تک وہ نوائے جگر گداز
صدیوں سے سُن رہا ہے جس گوشِ چرخ پیر

معانی: نوائے جگر گداز: دل کوجذبہ عشق کی گرمی سے پگھلانے والی آواز ۔ گوش: کان ۔ چرخ پیر: بوڑھا آسمان ۔
مطلب: یہی اذان کی آواز جو دلوں کو جذبہ عشق کی گرمی سے پگھلا دیتی تھی صدیوں سے تازگی کی مظہر ہے اورر دلوں کو گرماتی رہتی ہے ۔

 
اقبال کس کے عشق کا یہ فیضِ عام ہے
رومی فنا ہوا حبشی کو دوام ہے

معانی: فیض عام: سب کو فائدہ پہنچانے کی کیفیت ۔ رومی: یعنی سکندر رومی، یونانی ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ یہ آواز تو نبوت کا فیض عام ہے ۔ یعنی سکندر جیسا فاتح فنا ہو گیا جب کہ اسی آواز کے طفیل بلال حبشی کو دائمی زندگی حاصل ہے ۔