Please wait..

(۱۰)

 
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

معانی: متاع: سامان ۔ بے بہا: یعنی ایسی قیمت جو ادا نہ ہو سکے ۔ مقام بندگی: اطاعت کا مقام ۔ شانِ خداوندی: اللہ کی شان کے مقابل ۔
مطلب: اس غزل کے مطلع میں اقبال نے کہا ہے کہ عشق حبیب میں سوز و درد ایسے عوامل ہیں جن کی قدر و قمیت کا اندازہ ناممکنات سے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنے وجود کی انفرادیت کے مقابلے میں آقائیت کی بے نیازی کا سودا کرنے کے لیے تیار نہ ہو سکوں گا ۔

 
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی

آزاد بندوں : جو ہر طرح بلند نظر ہوں ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال خداوند تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ باری تعالیٰ ہم انسان اپنے وجود میں کیسے آزاد ہوئے جب کہ زندگی میں تو ہم پر فنا ہونے کی پابندی عائد کی گئی ہے اور موت کے بعد دوبارہ جینا بھی ممکن نہیں ہے ۔ وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ انسان اپنی ذات میں خودمختار کیسے ہوا جب کہ اسے اپنی مرضی سے نہ تو مرنے کا اختیار ہے نا ہی بعد از فنا دوبارہ زندہ ہونے کے استطاعت رکھتا ہے ۔

 
حجاب اکسیر ہے آوارہَ کوئے محبت کو
مری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی

معانی: حجاب: پردہ ۔ اکسیر: بہترین دوا ۔ آوارہَ کوئے محبت: محبت کو کوچے میں پھرنے والا ۔ دیر پیوندی: دیر سے ملنے والا ۔
مطلب: محبت میں سرگردانی تو چاہنے والے کا مقدر ہوتی ہے تاہم یہ ضرورت ہے کہ محبوب کا پردے میں رہنا اس کے جذبات کے لیے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ کہ محبوب جب تا دیر پردے میں رہے تو سوز عشق میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ بالفاظ دگر ہجر کی گھڑیاں عاشق کے لیے اضطراب کا سبب بن جاتی ہیں ۔

 
گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی

معانی: گزر اوقات: گزارا کرنا ۔ کوہ و بیاباں : پہاڑوں اور جنگلوں میں ۔ شاہیں : باز ۔ ذلت: بے عزتی ۔ کار آشیاں بندی: گھونسلہ بنانا ۔
مطلب: اس شعر میں شاہیں کا استعارہ شاعر نے بلند حوصلہ اور جرات مند لوگوں کے لیے استعمال کیا ہے کہ جس طرح شاہیں اپنا گھونسلہ بنانے کو ذلت تصور کرتا ہے اس کے برعکس وہ آزادانہ پرواز کے ساتھ پہاڑوں اور جنگلوں میں بسیرا کرتا ہے اسی طرح مردان حر کو بھی کسی خاص مکان کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہاں اپنا سر چھپا کر بیٹھ جائیں بلکہ وہ جدوجہد کے ذریعے اپنا مستقبل استوار کرتے ہیں ۔

 
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

معانی: فیضانِ نظر: نظر کی عطا تھی ۔ مکتب: مدرسہ ۔ اسماعیل: حضرت اسماعیل ۔ آداب فرزندی: بیٹا ہونے کے آداب ۔
مطلب: حضرت اسماعیل نے اپنے پدر بزرگوار حضرت ابراہیم کے خواب کی تکمیل کے لیے جس طرح خود کو قربانی کے لیے پیش کیا ان کا یہ کردار کسی مدرسے کی تعلیمات کا نتیجہ نہ تھا بلکہ اس میں حضرت ابراہیم کی تربیت کا پوری طرح سے عمل دخل تھا ۔ اقبال کے مطابق نیک اور فرمانبردار اولاد کا ایسا ہی کردار ہونا چاہیے جیسا کہ حضرت اسماعیل کا تھا ۔ ان کی فرمانبرداری اور جذبہ قربانی ایک ایسی مثالی حیثیت کے حامل ہیں جو ہمیشہ یادگار رہیں گے ۔

 
زیارت گاہِ اہلِ عزم و ہمت ہے لحد میری
کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا رازِ الوندی

معانی: زیارت: دیکھنے کی جگہ ۔ اہل عزم و ہمت: ہمت والے بہادر لوگ ۔ لحد میری: میری قبر ۔ خاک راہ: آدمی ۔ الوندی: پہاڑ کا نام ۔
مطلب: اقبال اس شعر میں کہتے ہیں کہ موت کے بعد میری لحد مستحکم ارادہ رکھنے والے اور حوصلہ مند لوگوں کے لیے زیارت گاہ کی حیثیت اختیار کر لے گی کہ میری تعلیمات نے تو راستے کی خاک پر بھی قدرت الہٰی کے راز افشاں کر دیے ۔

 
مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

معانی: مشاطگی: کنگھی کرنا ۔ حسن معنی: علم کی خوبی ۔ فطرت: قدرت ۔ لالے: پھول ۔ حنا بندی: سرخ کرنا ۔
مطلب: فطری حسن کو کسی بناوٹ اور سنگھار کی ضرورت نہیں ہوتی جس طرح قدرت نے لالے کے پھول کو ایک فطری سرخ رنگ عطا کیا ہے اسی طرح سے سچائی کے اظہار میں کسی طمع سازی کی حاجت نہیں ہوتی ۔