Please wait..

(52)

 
نے مہرہ باقی، نے مہرہ بازی
جیتا ہے رومی ہارا ہے رازی

معانی: مہرہ: شطرنج کی گوٹ ۔ مہرہ بازی: عقل و فلسفہ کے انداز ۔ جیتا ہے رومی: یعنی عشق کامیاب ہو گیا ۔ ہارا ہے رازی: مراد عقل نے شکست کھائی گویا عقل و فلسفہ خدائی تجلیات سے بے بہرہ رہا ۔
مطلب: زندگی کی تکمیل کے لیے محض علم و حکمت اور فلسفہ کافی نہیں بلکہ اس کے لیے بنیادی مسئلہ عشق حقیقی ہے ۔ یہ استدلال اس شعر میں علامہ اقبال نے امام رازی اور مولانا روم کے حوالوں سے پیش کیا ہے ۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ امام رازی جو حکمت و فلسفہ میں اپنا جواب نہیں رکھتے لیکن وہ عشق حقیقی کے بغیر منزل تک نہ پہنچ سکے ۔ ان کے مقابلے میں مولانا روم نے اس لیے منزل پا لی کہ وہ عشق حقیقی کے محرم تھے ۔

 
روشن ہے جامِ جمشید اب تک
شاہی نہیں ہے بے شیشہ بازی

مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ بادشاہت عیاری کے بغیر نہیں چل سکتی اس کا ثبوت جام جمشید ہے جو اب تک باقی ہے یعنی جمشید نے بلور کا جو مشہور زمانہ جام تیار کرایا تھا وہ بناوٹ اور تصنع کا منبع تھا ۔ جمشید کی بادشاہت اور شہرت کا راز یہی حربہ تھا ۔ مراد یہ ہے کہ بادشاہی کو قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ کی طرح آج بھی اسی نوع کے حربے اور مکاری درکار ہے ۔

 
دل ہے مسلماں میرا نہ تیرا
تو بھی نمازی، میں بھی نمازی

مطلب: مسلمانوں سے مخاطب ہو کر علامہ کہتے ہیں کہ دکھانے کے لیے نماز میں بھی پڑھتا ہوں اور تو بھی ! اس کے باوجود نہ باطنی سطح پر میں مسلمان نہ تو! یعنی میرے اور تیرے دلوں میں ا سلام کا جذبہ برائے نام ہے ۔

 
میں جانتا ہوں انجام اس کا
جس معرکے میں مُلّا ہوں غازی

مطلب: اور یہ بھی جان لے کہ جس معرکے میں ملا آپس میں ٹکرا جائیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے ہر طرح کا حربہ استعمال کریں اس معرکے کا انجام جو کچھ بھی ہو گا اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

 
ترکی بھی شیریں ، تازی بھی شیریں
حرفِ محبت، ترکی نہ تازی

مطلب: محبت کسی زبان اور رنگ و نسل کی پابند نہیں ۔ اسی موضوع پر گفتگو ترکی زبان میں ہو یا عربی میں یہ باتیں بہرحال میٹھی لگتی ہیں ۔

 
آزر کا پیشہ خارا تراشی
کارِ خلیلاں خارا گدازی

معانی: آذر: حضرت ابراہیم کا چچا جو بت تراش تھا ۔ خارا گدازی: سنگ تراشی، بت بنانا ۔ کارِ خلیلاں : بت شکنوں کے کام ۔ مطلب: آزر بت تراش تھا اور اپنے ہم پیشہ افراد کی طرح پتھروں کو تراش کر بت بنایا کرتا تھا ۔ اس کے برعکس پیغمبر خدا حضرت ابراہیم خلیل اللہ تو اپنی شیریں بیانی سے پتھر دل لوگوں کے سینوں میں گداز پیدا کر دیتے تھے ۔ مراد یہ ہے کہ آزر اتنا بڑا بت تراش ہونے کے باوجود اس انسانی عظمت سے محروم رہا جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو ان کی شیریں بیانی اور انسانی راہنمائی کے سبب حاصل ہوئی ۔

 
تو زندگی ہے پائندگی ہے
باقی ہے جو کچھ سب خاک بازی

مطلب: خاک بازی: مٹی کا کھیل، ناپائیدار
مطلب: علامہ نظم کے اس آخری شعر میں اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تو ہی میری زندگی ہے اور تجھی سے بہت کچھ حاصل ہوا ہے باقی سب بے معنی بات ہے ۔