Please wait..

اشتراکیت

 
قوموں کی روش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم
بے سُود نہیں رُوس کی یہ گرمیِ رفتار

معانی: اشتراکیت: کمیونزم، کارل مارکس یہودی کا دیا ہوا اقتصادی نظام جو دین ور اخلاق سے عاری ہے اور مساوات کے غیر فطری اور غیر انسانی سبق کا حامل ہے مطلب: روش: طریقہ ۔ بے سود: بے فائدہ ۔ روس: یورپ کے ایک ملک کا نام ۔ گرمی رفتار: چال میں تیزی یعنی تیز ترقی، جوش بھرا طریقہ کار ۔
مطلب: ایک جرمن یہودی نے جس کا نام کارل مارکس تھا اپنی فکر شیطانی سے دنیا کے سامنے ایک ایسا بے دین اور بے اخلاق سیاسی اور اقتصادی نظام رکھا جو عام طور پر کمیونزم کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس نظام میں سب کچھ سرکاری ملکیت میں لے لیا جاتا ہے اور مزدوروں اور کسانوں کو یہ فریب دے کر کہ اس نظام میں ان کے لیے بہتری ہے لوٹا جاتا ہے ۔ اس شعر میں علامہ اس پس منظر میں کہتے ہیں کہ کارل مارکس کی اشتراکیت کے جس نظام کو لینن نے یہ جبر روش میں نافذ کیا تھا بعض دوسری قوموں کے طور طریقے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی روس کی ترقی کے اس نئے انداز کو بے فائدہ نہیں سمجھتیں اور اپنے ہاں بھی اس نظام کو راءج کرنے کے لیے تیار ہیں ۔

 
اندیشہ ہوا شوخیِ افکار پہ مجبور
فرسودہ طریقوں سے زمانہ ہوا بیزار

معانی: اندیشہ: انسانوں کے سوچنے کا انداز ۔ شوخی افکار: خیالات کی شوخی ۔ فرسودہ: گھٹیا ، گھسا پٹا، پرانا ۔
مطلب: اشتراکی نظام کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کی سوچ کا انداز اور ان کے خیالات کے طریقوں نے انہیں شوخی پر مجبور کر دیا ہے اور وہ پرانے سیاسی اور اقتصادی طور طریقے سے چاہے وہ ان کے لیے فائدہ والے ہی کیوں نہ ہوں اکتائے ہوئے نظر آتے ہیں اور اشتراکی نظام کو اس کی خرابیوں کے باوجود قبول کرنے پر تلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔

 
انساں کی ہوس نے جنھیں رکھا تھا چھپا کر
کھُلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ اسرار

معانی: ہوس: شیطانی آرزو ۔ بتدریج: آہستہ آہستی ۔ اسرار: سر کی جمع، بھید ۔
مطلب: انسانوں نے اپنی جن شیطانی خواہشات کو اخلاق و دین یا کسی اور وجہ سے اپنے سینوں میں دبا رکھا تھا اور وہ ان پر عمل کرنے سے ڈرتے تھے اشتراکی نظا م کی ہوس کارانہ حیثیت کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ وہ شیطانی بھید اب وہ ان کو آہستہ آہستہ اور تسلسل کے ساتھ عمل میں لا رہے ہیں ۔

 
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں 
اللہ کرے تجھ کو عطا جدّتِ کردار

معانی: قرآن میں غوطہ زن ہو: قرآن کے معانی اور مطالب غور سے اور اچھی طرح سمجھ ۔ جدت کردار: عمل کا نیا پن ۔
مطلب: اشتراکیت کی خرابیوں کو دیکھ کر علامہ اقبال سوچتے ہیں کہ کہیں مسلمان بھی بعض دوسری قوموں خصوصاً روس کی طرح اشتراکی نظام حکومت کو پسند نہ کرنے لگیں اس لیے وہ انہیں خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم کارل مارکس کی کتاب بنام سرمایہ پڑھ کر اس کے ہوس کارانہ اور غیر فطری خیالات سے متاثر نہ ہو جانا بلکہ تمہارے پاس قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی آخری الہامی کتاب ہے وہ ایک وسیع سمندر کی طرح ہے اس کے اندر غوطہ لگانا اور جو کچھ اس نے سیاسی اور اقتصادی نظام کے متعلق بتایا ہے اس کو پڑھ کر اس پر عمل کرنا تا کہ اللہ تمہیں عمل کا نیا جذبہ عطا کرے اور تم اشتراکیت کے چنگ میں نہ پھنس جاوَ ۔

 
وہ حرفِ قُل العَفو میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار

معانی: قل العفو: قرآن مجید کی ایک آیت کی طرف اشارہ ہے جس کے معنی ہے اے نبی ﷺ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ۔ تم کہہ دو قل العفو یعنی تمہاری جائز ضرورتوں سے جو کچھ بھی زیادہ ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دو ۔ پوشیدہ: چھپی ہوئی ۔ نمودار: ظاہر ۔
مطلب: علامہ نے اس آخری شعر میں مسلمان کو قرآن پڑھ کر نظام اقتصادیات کو سمجھنے اور سمجھانے کا جو طریقہ استعمال کیا ہے اس کے لیے قل العفو (اپنی جائز ضرورت سے جو کچھ زیادہ ہے خرچ کردو) کی طرف اشارہ کیا ہے اور امید رکھی ہے کہ شاید اس دور میں غلط نظریات سے تنگ آ کر لوگ صحیح فکر کی تلاش میں قرآن اور اسلام کی طرف رجوع کریں اوراس حقیقت کو ظاہر کرتے ہوئے جو قل العفو والی آیت میں موجود ہے دنیا کے سامنے اسلامی نظام اور اقتصادیات کا وہ تصور پیش کریں جس سے تقریباً بارہ تیرہ سو سال انسانی فلاح کا کام کیا ہے ۔ اور آج ہم انگریزی اور مغربی تہذیب و تمدن اور افکار سیاسیات و اقتصادیات کی بنا پر اسے بھول چکے ہیں اور اشتراکیت جیسی مصیبت میں گرفتار ہیں ۔