Please wait..

(۱۱)

 
تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ
وہ ادب گہِ محبت، وہ نگہ کا تازیانہ

معانی: ادب گہ محبت: پہلی محبت کی ادب گاہ ۔ نگہ: منظر ۔ تازیانہ: کوڑا ۔
مطلب: اس غزل کے مطلع میں اقبال اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ کیا تجھے وہ زمانہ یاد نہیں جب پہلے پہل میرا دل تیری جانب ملتفت ہوا تو ہم دونوں کے رویے ایک دوسرے کے جذبات سے ہم آہنگ تھے لیکن اس ادب گہ محبت میں پر تیری نگاہ کسی تازیانے سے کم نہ تھی ۔

 
یہ بتانِ عصر حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں
نہ ادائے کافرانہ، نہ تراشِ آزرانہ

معانی: بتانِ عصرِ حاضر: نئے دور کے معشوق ۔ مدرسے: سکول، مکتب ۔ ادائے کافرانہ: محبوب کی ادا ۔ تراشِ آزرانہ: آزر کی بت تراشی کی خوبی ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال نے عہد کی درس گاہوں سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد کی ذہنی صلاحیت کی جانب اشارہ کیا ہے کہ یہ بے شعور لوگ کسی بت کی مانند ساکت و بے حس ہیں ۔ نہ تو ان میں کافروں کی سی خصوصیات ہیں نا ہی ان کی تراش خراش میں آذر کی سی ہنر مندی کا کوئی شائبہ دکھائی دیتا ہے بالفاظ دگر مذکورہ قسم کے افراد کی تربیت میں کوئی صلاحیت موجود نہیں ہوتی ۔

 
نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشہَ فراغت
یہ جہاں عجب جہاں ہے، نہ قفس نہ آشیانہ

معانی: فراغت: آرام ۔ قفس: پنجرہ ۔ آشیانہ: گھونسلہ ۔
مطلب: یہ ماحول کتنا ہی آزاد روی کا حامل ہو لیکن عملاً اس میں کہیں بھی کشادگی اور فراغت محسوس نہیں ہوتی ۔ یہ عجیب جہاں ہے جس میں نہ قید خانے کا پتہ چلتا ہے نہ ہی آشیانے کا وجود ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ہمارا جو ماحول ہے اس پر گھٹن کی ایسی فضا محیط ہے جہاں اضطراب اور بے چینی کے سوا کچھ نہیں ۔

 
رگِ تاک منتظر ہے تری بارشِ کرم کی
کہ عجم کے میکدوں میں نہ رہی مئے مغانہ

معانی: رگِ تاک: انگور کی بیل جس سے شراب کشید کرتے ہیں ۔ میکدے: جہاں شراب ملتی ہے ۔ مغانہ: شراب بنانے والے ۔
مطلب: اقبال مالک حقیقی سے ملتمس ہیں کہ ہماری تہذیب تباہی و بربادی کے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے ۔ مولا اب تیرا ہی لطف و کرم اس کی بقا اور تعمیر کا سبب بن سکتا ہے ۔

 
مرے ہم صفیر اسے بھی اثرِ بہار سمجھے
انہیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نوائے عاشقانہ

معانی: ہم صفیر: ہم آواز ۔ نوائے: عشق کی آواز ۔
مطلب: میں نے جو عشق و محبت کے نغمے الاپے تو میرے ہمراہیوں نے یہ سمجھا کہ جس طرح موسم بہار میں مرغان چمن مست ہو کر اپنی اپنی لے میں گاتے ہیں میرے یہ اشعار بھی شاید موسم بہار کے اثرات سے ہم آہنگ ہیں ۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ یہ لوگ عشق و محبت کے نغموں میں جو سوز و کرب پوشیدہ ہوتا ہے اس سے قطعی واقف نہیں ۔

 
مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا
صلہَ شہید کیا ہے تب و تابِ جاودانہ

معانی: مرے خاک و خوں : میری وجہ سے ۔ صلہَ شہید: شہید کا انعام ۔ تب و تاب: چمک دمک ۔ جاودانہ: ہمیشہ ۔
مطلب: خداوندا یوں لگتا ہے کہ تو نے انہی لوگوں کے خاک و خون سے بطور انعام اس جہان کی تخلیق کی ہے اس لیے کہ شہادت اور قربانی کا صلہ ہمیشہ کی تب و تاب ہی تو ہے ۔