Please wait..

عشق اور موت
(ماخوذ از ٹینی سن)

 
سُہانی نمودِ جہاں کی گھڑی تھی
تبسم فشاں زندگی کی کلی تھی

معانی: ٹینی سن: مشہور انگریزی شاعر ۔ سہانی: دل پر اچھا اثر کرنے والی ۔ نمودِجہاں : دنیا کی پیدائش ۔ تبسم فشاں : مسکراہٹیں بکھیرنے والی ۔
مطلب: یہ نظم ممتاز برطانوی شاعر ٹینی سن کی نظم سے ماخوذ ہے اقبال نے نظم کے مرکزی اور بنیادی خیال کو پوری مہارت کے ساتھ اپنے مخصوص خوبصورت انداز میں اپنے ہاں منتقل کیا ہے ۔ اس نظم میں اقبال آغاز کائنات کے ان لمحات کا ذکر کرتے ہوئے کرتے ہیں جب تخلیق کے عمل کا آغاز ہوا تھا اور زندگی کی کلی کھلی رہی تھی

 
کہیں مہر کو تاجِ زَر مل رہا تھا
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی

معانی: تاجِ زر: سونے کا تاج، یعنی سنہری روشنی ۔
مطلب: ان لمحات میں خالق لم یزل کی جانب سے کہیں آٖفتاب کو کائنات پر دھوپ اور روشنی بکھیرنے کی صلاحیت ملی تھی اور کہیں ماہتاب کو چاندنی پھیلانے کی قوت عطا ہو رہی تھی ۔

 
سیہ پیرہن شام کو دے رہے تھے
ستاروں کو تعلیمِ تابندگی تھی

معانی: تابندگی: چمکنے کی حالت ۔
مطلب: شام کے وقت کو سیہ لباس فراہم کیا جا رہا تھا جب کہ ستاروں کو چمک کا تحفہ دیا جا رہا تھا ۔

 
کہیں شاخِ ہستی کو لگتے تھے پتے
کہیں زندگی کی کلی پھوٹتی تھی

مطلب: کرہَ ارض پر زندگی اور تخلیق کے جذبوں سے نوازا جا رہا تھا ۔ ان لمحات میں فرشتے شبنم کو آنسو بہانے کی تربیت دے رہے تھے اور کہیں پہلی بار کلی چٹک کر پھول کے لبوں کو خندہ زن کر رہی تھی ۔

 
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو
خودی تشنہ کام مئے بے خودی تھی

معانی: درد: مراد جذبہ عشق ۔ تشنہ کام: پیاسا، پیاسی ۔ مئے بے خودی: حالت وجد کی شراب ۔ خودی: اپنے وجود کا احساس ۔
مطلب: شاعر کے دل میں درد کی لذت بھی اسی لمحے فراہم کی گئی اور خودی کو بھی بے خودی کے جذبے سے مسحور کیا جا رہا تھا ۔

 
اٹھی اول اول گھٹا کالی کالی
کوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھی

معانی: چوٹی: چٹیا، گندھے ہوئے بال ۔ حور: جنت کی عورت،خوبصورت عورت ۔
مطلب: پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہلی بار کالی کالی گھٹاؤں کی اس طرح آمد ہوئی کہ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی حور اپنے گھنیرے بال کھولے ہوئے کھڑی ہے ۔

 
ز میں کو تھا دعویٰ کہ میں آسماں ہوں
مکاں کہہ رہا تھا کہ میں لا مکاں ہوں

معانی: دعویٰ: اپنی بات کی سچائی پر زور دینے کی حالت ۔ آسماں ہوں : بلند ہوں ، بلند مرتبہ ہوں ۔ مکاں : مراد یہ وجود کی دنیا ۔ لا مکاں : عالم بالا، اوپر کی دنیا ۔
مطلب: ز میں کا یہ دعویٰ تھا کہ میں آسمان کی طرح بلند ہو ں اور یہ وجود کی دنیا کہ رہی تھی کہ میں لامکاں ہوں ۔

 
غرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیارا
کہ نظارگی ہو سراپا نظارا

معانی: نظارگی: دیکھنے کی کیفیت، دیکھنے والا ۔ سراپا: پوری طرح ۔
مطلب: آغازِ کائنات کے لمحات بقول اقبال اس قدر خوبصورت اور نظر فریب تھے کہ یہ مناظر سراپا ایک دیکھنے کی چیز بنے ہوئے تھے ۔

 
ملک آزماتے تھے پرواز اپنی
جبینوں سے نورِ ازل آشکارا

معانی: ملک: فرشتے ۔ جبینوں : جمع جبین، پیشانیان ۔ نورِ ازل: کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے کا نور ۔
مطلب: ان لمحات میں آسمانوں پر فرشتے بھی اس قدر مسرور تھے کہ چاروں جانب اس طرح رواں دواں تھے جیسے اپنی قوت پرواز کی آزمائش کر رہے ہوں ۔ ان کی پیشانیوں سے نور ازل آشکار ہو رہا تھا ۔

 
فرشتہ تھا اک، عشق تھا نام جس کا
کہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارا

مطلب: ان میں ایک فرشتہ عشق کے جذبے کا بھی تھا جو دوسرے فرشتوں کی رہنمائی کیا کرتا تھا ۔

 
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابیوں کا
ملک کا ملک اور پارے کا پارا

معانی: پتلا: مجسمہ، تصویر ۔ پارا: سفید ماءع دھات جو ہر وقت ہلتی رہتی ہے ۔
مطلب: اس فرشتے میں ا ضطراب کا عنصر اس طرح نمایاں تھا جیسے اس کے وجود میں پارا متحرک ہو ۔

 
پئے سیرِ فردوس کو جا رہا تھا
قضا سے ملا راہ میں وہ قضا را

معانی: پئے سیر: سیر کے واسطے ۔ فردوس: جنت ۔ قضا: خدائی حکم، موت کا فرشتہ ۔ قضا را: اتفاق سے، اچانک ۔
مطلب: عشق کا یہ فرشتہ جنت کی سیر کو جا رہا تھا کہ اچانک اسے راستے میں موت کا فرشتہ یعنی ملک الموت مل گیا ۔

 
یہ پوچھا ترا نام کیا، کام کیا ہے
نہیں آنکھ کو دید تیری گوارا

معانی: گوارا: پسند، قابل برداشت ۔
مطلب: عشق کے فرشتے نے اس سے استفسار کیا کہ بتاوَ تو سہی تو کون ہے اور تیرا کام کیا ہے ۔ تجھے دیکھ کر مجھے کچھ ناگوار سی کیفیت محسوس ہو رہی ہے ۔

 
ہُوا سُن کر گویا قضا کا فرشتہ
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا

معانی: اجل: موت ۔
مطلب: اس مرحلے پر ملک الموت نے جواباً کہا! حیرت ہے کہ تو میری ذات سے واقف نہیں میں ہی تو ہوں جو ہر زندہ شے کو فنا کے گھاٹ اتارنے پر قادر ہوں ۔

 
اُڑاتی ہوں میں رختِ ہستی کے پرزے
بجھاتی ہوں میں زندگی کا شرارا

معانی: رخت ہستی کے پرزے اڑانا: زندگی کے لباس کو ٹکڑ ے ٹکڑے کر دینا، مراد زندگی ختم کر دینا ۔ زندگی کا شرارا بجھانا: مراد مارنا ۔
مطلب: میں ہی زندگی کے پرزے اڑاتی ہوں اور اسے ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلا دیتی ہوں ۔

 
مری آنکھ میں جادوئے نیستی ہے
پیام فنا ہے اس کا اشارا

معانی: جادوئے نیستی: مٹا دینے، ختم کر دینے کا جادو ۔ پیامِ فنا: موت کا سندیسہ ۔ ہستی: وجود ۔
مطلب: میری آنکھوں میں وہ جادو ہے جو وجود کو عدم وجود سے آشنا کرتا ہے اور جس کا پیغام فنا ہے ۔

 
مگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسی
وہ آتش ہے، میں سامنے اس کے پارا

معانی: ہستی: وجود، مراد عشق ۔ آتش: آگ، شرر ۔
مطلب: مگر ایک ہستی ایسی بھی ہے جو اس دنیا میں آگ کی مانند ہے اور حقیقت یہ ہے کہ میں اس کے مقابلے میں پارے کی حیثیت رکھتا ہوں ۔

 
شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میں
وہ ہے نورِ مطلق کی آنکھوں کا تارا

معانی: نورِ مطلق: مکمل نور، مراد محبوب حقیقی ۔ آنکھوں کا تارا: بہت پیارا ۔
مطلب: یہ ہستی قلب انسان میں ایک شعلے کی مانند پوشیدہ رہتی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ وہی خدائے لم یزل کی آنکھوں کا تارا ہے ۔ مراد یہ کہ خداوند عالم اسے بہت عزیز رکھتا ہے ۔

 
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا

معانی: تلخی: کڑواہٹ ۔
مطلب: یہی ہستی یعنی عشق انسان کے دل میں موجزن رہتا ہے اور اس کے وجود اس کے لیے تلخ ہونے کے باوجود ایک خوش گوار حیثیت رکھتا ہے ۔

 
سُنی عشق نے گفتگو جب قضا کی
ہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکارا

مطلب: عشق کے فرشتے نے جب ملک الموت کی گفتگو سنی تو اس لے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہو گئی ۔

 
گری اس تبسم کی بجلی اجل پر
اندھیرے کا ہو نور میں کیا گزارا

معانی: بجلی گرنا: تبسم: مسکراہٹ ۔ مصیبت آ پڑنا ۔
مطلب: اور اس کا یہی تبسم بجلی بن کر موت کے فرشتے پر گرا ۔

 
بقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہ
قضا تھی شکارِ قضا ہو گئی وہ

معانی:ہمیشگی ، باقی رہنے کی حالت ۔ شکارِ قضا ہو گئی ۔ فنا ہو گئی ۔
مطلب: جب موت کے فرشتے نے عشق کے فرشتے کو دیکھا تو قضا ہونے کے باوجود خود قضا کا شکار ہو گئی ۔ اس لیے کہ روشنی کے روبرو تاریکی کا وجود باقی نہیں رہتا ۔ عشق تو زندگی کا مظہر ہے ۔ ظاہر ہے موت اس کے روبرو کیسے ٹھہر سکتی تھی ۔