Please wait..

موٹر

 
کیسی پتے کی بات جُگندر نے کل کہی
موٹر ہے ذوالفقار علی خاں کا کیا خموش

معانی: موٹر: یہ اشارہ ہے نواب سر ذوالفقار علی خان مرحوم کی کار کی طرف جس میں ایک مرتبہ علامہ نے سر جگندر سنگھ اور مرزا جلال الدین بیرسٹر کے ہمراہ سیر کی تھی ۔ اس دور کی دوسری کاروں میں گھڑ گھڑاہٹ کی آواز پیدا ہوتی تھی جبکہ اس کار میں ایسی آواز نہ تھی ۔ پتے کی بات: بڑی ٹھیک بات ۔ جگندر: سردار جگندر سنگھ، سکھوں کے لیڈر ۔ ذوالفقار علی خاں : مالیر کوٹلہ کے حکمران خاندان سے تعلق تھا ۔
مطلب: اقبال نے بالعموم اپنی تخلیقات میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے بڑے نتاءج اخذ کیے ہیں ۔ زیر تشریح نظم بھی اسی نوع کی تخلیقات میں سے ایک ہے ۔ نواب ذوالفقار علی خاں جو اقبال کے احباب میں سے تھے انھوں نے ایک ایسی کار خریدی جو شور کم کرتی تھی ۔ یہ نظم اسی حوالے سے لکھی گئی ہے ۔ کہتے ہیں کل دوران گفتگو جگندر نے کتنے کام کی بات کہی کہ دوسری کاروں کی نسبت ذوالفقار علی خاں کی کار بالعموم خاموش رہتی ہے ۔

 
ہنگامہ آفریں نہیں اس کا خرامِ ناز
مانندِ برق تیز، مثالِ ہوا خموش

معانی: ہنگامہ آفریں : مراد شور پیدا کرنے والی ۔ خرامِ ناز: ادا سے چلنا ۔ مانند برق: بجلی کی طرح ۔
مطلب: اس کی چال ایسی ہے جس کا ہنگاموں اور شور شرابے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کار بجلی کی طرح تیز اور ہوا کے مانند خاموش رہتی ہے ۔

 
میں نے کہا نہیں ہے یہ موٹر پہ منحصر
ہے جادہَ حیات میں ہر تیز پا خموش

معانی: منحصر: جس پر انحصار کیا گیا ہو ۔ جادہَ حیات: زندگی کا راستہ ۔ تیز پا: تیز چلنے والی ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ جگندر کی زبان سے یہ بات سن کر میں نے کہا یہ معاملہ کار پر ہی موقوف نہیں بلکہ زندگی میں ہر وہ شے خاموش رہتی ہے جو تیز رفتار ہو ۔

 
ہے پا شکستہ شیوہَ فریاد سے جرس
نکہت کا کارواں ہے مثالِ صبا خموش

معانی: پا شکستہ: ٹوٹے ہوئے پاؤں والی ۔ شیوہ: طریقہ، ڈھنگ ۔ جرس: گھنٹی ۔ نکہت: خوشبو ۔ صبا: صبح سویرے کی خوش گوار ہوا ۔
مطلب: قافلے کی گھنٹی فریاد کے لہجے میں بے شک بہت شور مچاتی ہے جب کہ خوشبو کا قافلہ تیز رفتار ہوا کی طرح ساکن رہتا ہے ۔

 
مینا، مدام شورشِ قلقل سے پا بہ گِل
لیکن مزاجِ جامِ خرام آشنا خموش

معانی: مدام: ہمیشہ ۔ شورش: شور ۔ قلقل: صراحی سے شراب نکلنے کی آواز ۔ جامِ خرام آشنا: گردش میں رہنے والا پیالہَ شراب ۔
مطلب: صراحی شراب انڈیلے جانے کی پابند ہے اس لیے شور پیدا کرتی ہے جب کہ پیمانہ تیزی سے گردش کرتا ہے اس لیے وہ بھی خاموش رہتا ہے ۔

 
شاعر کی فکر کو پرَِ پرواز خامشی
سرمایہ دارِ گرمیِ آواز خامشی

معانی: پرِ پرواز: مراد خیالات کو بلندی کی طرف لے جانے کا باعث ۔ سرمایہ دار: مالامال ۔ گرمیِ آواز: آواز میں دل کو پگھلا دینے والی کیفیت ۔
مطلب: حد تو یہ ہے کہ شاعر کے تخیل کی اڑان کو بھی خاموشی پر پرواز عطا کرتی ہے اور خاموشی کے سبب ہی شاعر کے کلام میں جوش اور تاثیر پیدا ہوتی ہے ۔