Please wait..

نصیحت

 
میں نے اقبال سے از راہِ نصیحت یہ کہا
عاملِ روزہ ہے تو، اور نہ پابندِ نماز 

معانی: ازراہِ نصیحت: سمجھانے کے طور پر ۔ عامل: عمل کرنے والا ۔
مطلب: یہ نظم عملاً سیاسی اور مذہبی رہنماؤں پر طنز کی حیثیت رکھتی ہے کہ علامہ اقبال نے آج کی مانند اپنے عہد میں بھی ان لوگوں کا کردار منافقت اور مصلحت کیشی پر منبی پایا لیکن براہ راست ان پر طنز کرنے کی بجائے یہاں اقبال نے اپنی ذات کو ہی ہدف بنایا ہے ۔ نظم کا آخری شعر حافظ شیرازی کا ہے ۔ دیکھا جائے تو یہ اسی شعر کی تضمین ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ میں نے اقبال کو نصیحت کرتے ہوئے ایک روز یہ کہا کہ نہ تو تو روزہ رکھتا ہے نا ہی نماز کا پابند ہے ۔

 
تو بھی ہے شیوہَ اربابِ ریا میں کامل
دل میں لندن کی ہوس، لب پہ ترے ذکرِ حجاز

معانی: شیوہ: طور طریقہ ۔ اربابِ ریا: مکار لوگ ۔ کامل: مراد ماہر ۔ لندن: انگلستان کا مشہور شہر ۔ ہوس: مراد تمنا ۔ ذکرِ حجاز: مراد اسلام کی باتیں ۔
مطلب: تو بھی لگتا ہے کہ منافقت اور ریاکاری میں بعض دوسرے لوگوں کی طرح انتہائی کامل اور پختہ کار ہے ۔ ہر چند کہ لبوں پر تو تیرے مدینے کا تذکرہ ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دل میں یہ خواہش پوشیدہ رہتی ہے کہ لندن یاترا کی جائے ۔

 
جھوٹ بھی مصلحت آمیز ترا ہوتا ہے
تیرا اندازِ تملُّق بھی سراپا اعجاز

معانی: مصلحت آمیز: مراد جس میں دھوکا فریب اور اپنی بھلائی کا خیال ہو ۔ اندازِ تملق: چاپلوسی کا طریقہ ۔ سراپا: پورے طور پر ۔ اعجاز: غیر معمولی کارنامہ ۔
مطلب: اے اقبال! تیرے جھوٹ میں بھی مصلحت کی آمیزش ہوتی ہے یعنی ذاتی فائدے کے لیے تو جھوٹ بولنے سے نہیں چوکتا اور تیری خوشامد کا انداز بھی ایسا ہی ہے جیسے معجزے دکھا رہا ہو اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔

 
ختم تقریر تری مدحتِ سرکار پہ ہے
فکرِ روشن ہے ترا موجدِ آئینِ نیاز

معانی: مدحتِ سرکار: حکومت کی تعریف کرنا ۔ فکرِ روشن: مراد عمدہ سوچ سمجھ، عقل ۔ موجدِ : ایجاد کرنے والا ۔ آئینِ نیاز: عاجزی کا طور طریقہ ۔
مطلب: تیری تقریر کا خاتمہ بھی سرکار یعنی حکمران طبقے کی خوشامد اور تعریف و توصیف پر ہوتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ تیرے تازہ اور روشن خیالات عاجزی اور انکساری کے نئے نئے طریقوں کی ایجاد میں لگے رہتے ہیں ۔

 
درِ حکام بھی ہے تجھ کو مقامِ محمود
پالسی بھی تری پیچیدہ تر از زلفِ ایاز

معانی: درِ حکام: حاکموں کا دروازہ یعنی بارگاہ ۔ مقامِ محمود: بہت تعریف کی جگہ ۔ پالسی: پالیسی، حکمت عملی ۔ پیچیدہ تر: زیادہ الجھی ہوئی ۔ زلفِ ایاز: ایاز کی زلف ۔
مطلب: حکام کا دروازہ اے اقبال! تیرے لیے گویا مقام محمود ہے اور تیرے سیاسی داوَ پیچ ایاز کی زلف کے مانند ہی ہوتے ہیں ۔

 
اور لوگوں کی طرح تو بھی چھپا سکتا ہے
پردہَ خدمت دیں میں ہوس جاہ کا راز

معانی: پردہَ خدمتِ دیں : دین کی خدمت کے بہانے ۔ ہوس جاہ: عزت و مرتبہ حاصل کرنے کا لالچ ۔
مطلب: بعض دوسرے لوگوں کی طرح تو بھی دنیاوی جاہ و جلال کے حصول کی خواہش کو دین کی خدمت کرنے کے پردے میں چھپا سکتا ہے ۔

 
نظر آ جاتا ہے مسجد میں بھی تو عید کے دن
اثرِ وعظ سے ہوتی ہے طبیعت بھی گداز

معانی: طبیعت گداز ہونا: مراد طبیعت پر بیحد اثر ہونا ۔
مطلب: کم از کم عید کی نماز کے موقع پر تو مسجد میں بھی اس طرح نظر آ جاتا ہے کہ واعظ کی تقریر سے تیرا دل بھی پگھل جاتا ہے ۔ یعنی یوں لگتا ہے جیسے واعظ کی تقریر نے تیرے دل پر بہت زیادہ اثر ڈالا ہے ۔ اور تو اس سے بے حد مرعوب ہواہے ۔

 
دست پرورد ترے ملک کے اخبار بھی ہیں
چھیڑنا فرض ہے جن پر تری تشہیر کا ساز

معانی: دستِ پرورد: ہاتھ کا پالا ہوا ، جسے مال وغیرہ دیا گیا ہو ۔ فرض ہے: لازم ہے ۔ تشہیر کا ساز چھیڑنا: مراد شہرت کا سامان کرنا(پبلسٹی) ۔
مطلب: اور تو اور یہ جو ملک کے اخبارات ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی تیرے بے حد ممنون احسان ہیں کہ جن پر تری تشہیر فرض ہے ۔ بلکہ یہ اخبار تو جائز و ناجائز طور پر تیری قصیدہ گوئی میں ہر لمحے مصروف رہتے ہیں ۔

 
اس پہ طُرّہ ہے کہ تو شعر بھی کہہ سکتا ہے
تیری مینائے سخن میں ہے شرابِ شیراز

معانی: اس پہ طرہ: یعنی اس سے بڑھ کر ۔ مینائے سخن: شاعری کی شراب کی صراحی ۔ شرابِ شیراز: مراد حافظ شیرازی کی شاعری کا انداز ۔
مطلب: اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تو شاعر بھی ہے اور تخلیق کار بھی ۔ تو اپنی شاعری کے حوالے سے حافظ شیرازی کے مماثل ہے ۔

 
جتنے اوصاف ہیں لیڈر کے، وہ ہیں تجھ میں سبھی
تجھ کو لازم ہے کہ ہو اٹھ کے شریکِ تگ و تاز

معانی: شریک ِ تگ و تاز: دوڑ دھوپ یعنی سیاسی مقابلے میں شامل ۔
مطلب: اے اقبال! ایک لیڈر میں آج جتنے بھی اوصاف ہونے چاہیں وہ تجھ میں بھی موجود ہیں لہذا تیرے لیے لازم ہے کہ تو بھی قومی سیاست کی اس دوڑ میں شریک ہو جا ۔

 
غمِ صیاد نہیں اور پر و بال بھی ہیں
پھر سبب کیا ہے نہیں تجھ کو دماغِ پرواز

معانی: پر و بال: مراد جن خوبیوں کی ضرورت ہے ۔ دماغِ پرواز: مراد فائدہ اٹھانے کا خیال، فکر ۔
مطلب: مرا د یہ کہ ان خصوصیات کے باوصف تو بھی قومی لیڈر بننے کی کوشش کیوں نہیں کرتا ۔

 
عاقبت منزل ما وادیِ خاموشان است
حالیا غلغلہ در گبندِ افلاک انداز

مطلب: ہماری منزل تو آخر کار قبرستان ہے تو اس وقت تجھے چاہیے کہ آسمان کے گنبد میں ہنگامہ برپا کر دے یعنی تیرے نعروں سے کائنات گونج اٹھے ۔