Please wait..

ناظرین سے

 
جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر
تیرا زجاج ہو نہ سکے گا حریف سنگ

معانی: ناظرین: دیکھنے والے عقل مند لوگ ۔ حقائق: حقیقتیں ۔ زجاج: شیشہ ۔ حریف سنگ: مقابلہ کرنے والا پتھر ۔
مطلب: جب تک تجھے زندگی کے حقائق سے آگاہی حاصل نہ ہو گی تیرا شیشہ پتھر کے مدمقابل آنے کی صلاحیت یا اس سے ٹکرانے کی طاقت پیدا نہیں کر سکتا ۔ مراد یہ ہے کہ اے ایشیائی اقوام تمہیں مغرب کے مدمقابل آنے کے لیے اپنے اندر صلاحتیں پیدا کرنی ہوں گی ۔

 
یہ زورِ دست و ضربتِ کاری کا ہے مقام
میدانِ جنگ میں نہ طلب کر نوائے چنگ

معانی: زورِ دست: ہاتھ کا بازور ۔ ضربت کاری: کاری چوٹ ۔ نوائے چنگ: باجے کی آواز ۔
مطلب: زندگی آسان نہیں ہے ۔ اس میں کامیاب ہونے کے لیے قوت بازو اور اپنی راہ کی رکاوٹوں پر سخت ضرب کاری لگانی پڑتی ہے ۔ زندگی خصوصاً ایشیائی اقوام کی مغربی اقوام کے مقابلے میں زندگی میدان جنگ میں اتر کر کامیاب ہو سکتی ہے ۔ اس لیے تم ساز کے طلب گار نہ بنو ۔ جنگ کے لیے جس قوت اور جن آلات کی ضرورت ہوتی ہے اس کے طالب بنو ۔ ً

 
خونِ دل و جگر سے ہے سرمایہَ حیات
فطرت لہو ترنگ ہے غافل! نہ جل ترنگ

معانی: سرمایہَ حیات: زندگی کا سامان ۔ فطرت: قدرت ۔ لہو ترنگ: خون کا سرخ رنگ ۔ جل ترنگ: پانی کے ساز کی آواز ۔
مطلب: اے ناظر! زندگی کا سرمایہ اپنے دل اور اپنے جگر کو خون کرنے سے پیدا ہوتا ہے ۔ یعنی خلوص اور محنت و مشقت سے ہاتھ آتا ہے ۔ تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ فطرت لہو کے ساز کا نغمہ مانگتی ہے نہ کہ پانی کے ساز کا نغمہ ۔ مراد یہ کہ جو شخص اور جو قوم اپنا خون دینا جانتی ہو گی وہی کامیاب ہو گی اور جو محفل میں ساز کی آواز پر کان دھرے بیٹھی رہے گی وہ ناکام رہے گی ۔