Please wait..

ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام

 
لا کر برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں
زناریوں کو دیرِ کہن سے نکال دو

معانی: برہمن: ہندووَں کا پیشوا ۔ زنار: ایک دھاگہ جو ہندو خاص کر برہمن اپنی برہمنی اور ہندو پن ثابت کرنے کے لیے گلے اور کمر کے گرد باندھتے ہیں ۔ اسے جنیو بھی کہتے ہیں ۔ دیر کہن: پرا نا مند ۔
مطلب: یورپ کے سیاست دانوں نے تہذیب کے نام پر دنیا میں تین چار سو سال سے غارت گری کا جو بازار گرم کر رکھا ہے وہ دراصل شیطان کے چیلوں کی طرز کاکام ہے ۔ شیطان نے ان کو جو کچھ سکھایا ہے اس نظم میں اقبال نے اس کا پردہ فاش کر دیا ہے ۔ صرف مسلمانوں کو ہی نہیں ان یورپ کے شیطانی اقوام نے غیر مسلم قوموں کو بھی لوٹا اور غارت کیا ہے ۔ اس شعر میں برصغیر میں رہنے والے ہندووَں کی بات کی ہے ۔ شیطان اپنے سیاسی بیٹوں یا چیلوں کو کہتا ہے کہ ہندو مذہب کو بھی اور ہندووانہ روایات کو بھی ختم کر دو ۔ ہندووَں کے پیشواؤں یعنی برہمنوں کو اپنی سیاست کے داوَ پیچ میں اس طرح لاوَ کہ وہ اپنے پرانے مندروں سے نکل آئیں ۔ یعنی انہیں ترک کر دیں اور جو جنیو انھوں نے پہن رکھے ہیں ان کو توڑ ڈالیں اور وہ اپنی تہذیب و ثقافت کو چھوڑ کر یورپ کی شیطانی ثقافت کے زیر اثر آ جائیں ۔

 
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو

معانی: فاکہ کش: فاقے کاٹنے والا، بھوکا رہنے والا ۔
مطلب: برصغیر کے ہندووَں کی بات اقبال نے اس لیے کرنا ضروری سمجھی تھی کہ یہ اس کا اپنا ملک تھا اب اس ملک کے مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس ملک کے مسلمان اگرچہ غریب ہیں اور زیادہ تر بھوک کا شکار ہیں لیکن عشق محمد مصطفی ﷺ میں سرشار ہیں اور اگر اسلام پر یا بانی اسلام پر کوئی آنچ آتی دیکھتے ہیں تو اپنی زندگیاں قربان کرنے سے بھی نہیں ڈرتے ۔ اس لیے ابلیس اپنے سیاسی فرزندوں سے کہہ رہا ہے کہ ان مسلمانوں کے بدنوں کو حضرت محمد مصطفیﷺ کے عشق کی روح سے خالی کر دو تا کہ یہ موت سے ڈرنا شروع کر دیں اور اس طرح ان میں شیطانی روح داخل کرنے میں آسانی سے کامیاب ہو جائیں ۔

 
فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

معانی: فرنگی: یورپ والو ں کے ۔ حجاز: عرب کا ایک علاقہ جہاں مکہ اور مدینہ کے شہر ہیں ۔ یمن: ایک ملک کا نام ہے جو عرب سے ملحقہ ہے ۔ تخیلات: خیالات، افکار، تصورات ۔
مطلب: برصغیر کے بعد علامہ ملک عرب کی بات کرتے ہیں جہاں سے اسلام کے سوتے پھوٹتے ہیں ۔ ابلیس اپنے سیاسی فرزندوں کو کہہ رہا ہے کہ ان عربوں کے اسلامی ، دینی اور ثقافتی خیالات کو ان کے دلوں سے نکال کر ان کے قلب و ذہن میں اہل مغرب کی تہذیب و ثقافت کے خیالات بھر دو اور اس طرح سے اسلام کو اس ملک عرب سے جس میں حجاز اور یمن کے اسلامی تہذیب و تمدن والے علاقے بھی شامل ہیں دیس نکالا دے دو تا کہ عرب بھی اسلامی اقدار کو بھول جائیں ۔

 
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
مُلاّ کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو

معانی: کوہ و دمن: پہاڑ اور وادیاں ۔ افغانی: ملک افغانستان کے رہنے والے ۔ غیرت: خودداری ۔
مطلب: اس شعر میں علامہ نے افغانستان کی بات کی ہے جہاں کے مسلمان دین کے معاملے میں بڑے غیرت مند ہیں اور اس غیرت دینی کا ان میں موجود ہونا ان ملاؤں کی دینی اور اسلامی تعلیم کی وجہ سے ہے جو ان کے علاقوں میں موجود ہیں اور جملہ افغان جن کے زیر اثر ہیں ۔ ان افغانیوں کو غیرت دین سے خالی کرنے کا علاج ابلیس نے یہ سوچا ہے کہ افغانستان کے پہاڑوں اور وادیوں سے کسی نہ کسی طریقے سے ان ملاؤں کو باہر نکال دو ۔ نہ یہ ملا وہاں ہوں گے نہ افغانیوں کو دینی غیرت سے آشنا کریں گے اور اس بنا پر نہ وہ ہمارے ابلیسی پروگرام کی مزاحمت کر سکیں گے ۔

 
اہلِ حرم سے ان کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزارِ ختن سے نکال دو

معانی: اہل حرم: کعبے والے، جو لوگ مکہ مدینہ میں رہتے ہیں ۔ روایات: صدیوں کے طور طریقے ۔ آہو: ہرن ۔ مرغزار: سبزہ زار، چراگاہ ۔ ختن: وسط ایشیا کا ایک علاقہ جہاں وہ ہرن پیدا ہوتے ہیں جن کی ناف میں مشک ہوتی ہے ۔
مطلب : جس طرح ملک ختن کے سبزہ زاروں سے اگر مشک کے نافے بھرے ہرنوں کو نکال دیا جائے تو خوشبو وہاں کے علاقوں سے خود بخود ختم ہو جائے گی اسی طرح ابلیسی سیاست کے داوَ پیچ جاننے والو تم حرم سے وہاں کے لوگوں سے ان کی پرانی ، تہذیبی ، ثقافتی اور اسلامی روایات چھین لو ۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ دنیائے اسلام کو دین کی روایات سے آشنا کرانے والوں کے موجود نہ ہونے سے ساری اسلامی دنیا سے اسلام کی روح غائب ہو جائے گی اور مسلمان، نام کا مسلمان رہ جائے گا ۔

 
اقبال کے نَفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سَرا کو چمن سے نکال دو

معانی: نفس: سانس، یہاں مراد شاعری ۔ لالہ: سرخ رنگ کا ایک پھول ہوتا ہے جس کا نصف اندرون سیاہ ہوتا ہے اقبال نے اسے عاشق کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ غزل سرا: غزل کہنے والا ۔
مطلب: ابلیس نے اپنے سیاسی چیلوں کو یہ بھی کہا ہے کہ اگر اپنی شیطانی روایات کو جاری کرنا ہے تو وہ شخص جس کا نام اقبال ہے اس کو بھی خاموش کر دو کیونکہ اس کی شاعری کے ذریعے دنیائے اسلام کے جو لالہ کی طرح کے عاشق مزاج مسلمان ہیں ان میں آگ کی سی تیزی پیدا ہو رہی ہے اور اس سے ہمارے شیطانی پروگرام کو خطرہ ہے ۔ بہتر ہے کہ اس چمن سے ایسے غزل گانے والے کو نکال دیا جائے ۔