Please wait..

(۱۲)

 
ضمیر لالہ مئے لعل سے ہوا لبریز
اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز

معانی: ضمیر لالہ: لالے کے پھول کی اندرونی حالت ۔ مئے لعل: سرخ شراب ۔ لب ریز: بھر گیا ۔ اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز: صوفی نے پرہیز چھوڑ دی تو شراب کی طرف لپکا ۔
مطلب: اس غزل کے مطلع میں اقبال کہتے ہیں کہ میں تو ایک ایسے لالے کے پھول کے مانند ہوں جس کا ضمیر شراب سرخ سے لبریز ہو چکا ہے ۔ بالفاظ دگر ایک عام فرد تو ہر جائز و ناجائز شے کو قبول کر لیتا ہے لیکن وہ لوگ جو مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ان کو کیا ہو گیا ہے کہ چشم زدن میں ہی اپنے مفادات کی خاطر مذہبی اصولوں کی نفی کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔

 
بچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط اپنی
کیا ہے اس نے فقیروں کو وارثِ پرویز

معانی: بساط: چوپٹ، بچھونا ۔ پرویز: ایرانی بادشاہ ۔
مطلب: عشق الہٰی اتنی بڑی قوت ہے کہ جب وہ کسی فرد کے دل میں گھر کر لیتا ہے تو لاچار و نامراد ہونے کے باوجود تخت شاہی کا مالک بن جاتا ہے یعنی عشق الہٰی کے طفیل ایک بے سروسامان فرد بھی انتہائی ارفع اور بلند مدرج پر پہنچ جاتا ہے ۔

 
پرانے ہیں یہ ستارے فلک بھی فرسودہ
جہاں وہ چاہیے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز

معانی: فرسودہ: پرانا ۔ نوخیز: نیا نیا ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال اپنے رب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے مالک دوسرا تیری پوری کائنات اور اس کا نظام بوسیدہ اور پرانا ہو چکا ہے ۔ میں تو ایک ایسی کائنات اور نظام کا خواہاں ہوں جو نیا اور منفرد ہو جس میں تازگی بھی ہو اور شگفتگی بھی ہو ۔

 
کسے خبر ہے کہ ہنگامہَ نشور ہے کیا
تری نگاہ کی گردش ہے میری رُستاخیز

معانی: ہنگامہَ نشور: قیامت کو اٹھنا ۔ رُستاخیز: گرنا اٹھنا وغیرہ ۔
مطلب: قیامت کا حشر کیا ہے اس کی ہیءت اور نوعیت کیا ہے یہ تو ایک سوالیہ نشان کے مانند ہے جس کا جواب اس لیے ممکن نہیں کہ قیامت کی حقیقت سے تو اسی وقت کوئی آشنا ہو سکتا ہے جب وہ اسے اپنی آنکھ سے دیکھ لے ۔ میرے لیے تو اے محبوب تیری نگاہ التفات اور لطف عنایات سے محرومی کا عمل ہی قیامت سے کم نہیں ہے یعنی میں تو اس صورت حال کو ہی قیامت تصور کرتا ہوں ۔

 
نہ چھین لذتِ آہِ سحر گہی مجھ سے
نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز

معانی: لذت آہِ سحر گہی: صبح سویرے اٹھ کر عبادت کا مزا ۔ التفات آمیز: ملنے والا یعنی تغافل ۔
مطلب: خدائے ذوالجلال علی الصبح مجھے تجھ سے آہ و فریاد میں جو لطف حاصل ہوتا ہے مجھے تو وہی کافی ہے اپنے تغافل میں لطف و کرم کی آمیزش نہ کر کہ یہ میرے جذبہ عشق سے مطابقت نہیں رکھتی ۔

 
دلِ غمیں کے موافق نہیں  ہے موسمِ گل
صدائے مرغِ چمن ہے بہت نشاط انگیز

معانی: دلِ غمیں : غمزدہ دل ۔ موسمِ گل: موسم بہار ۔ صدائے مرغِ چمن: باغ کے پرندے کی چہچہاہٹ ۔ نشاط انگیز: خوشگوار ۔
مطلب: موسم بہار میرے دل رنجور کو راس نہیں آتا کہ یہ ماحول میری فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا ہر چند کہ اس موسم میں خوشنما اور خوش نوا پرندوں کی صدائیں بڑی کیف آور ہوتی ہیں تاہم میرے دل رنجور کو یہ بھی پسند نہیں ۔

 
حدیث بے خبراں ہے، تو با زمانہ بساز
زمانہ با تو نسازد ، تو با زمانہ ستیز

مطلب: بے خبر لوگوں کی بات ہے کہ زمانے سے صلح کرنی چاہیے لیکن اگر زمانہ صلح نہ کرے تو اس سے لڑائی کرنی چاہیے یعنی اس پر حاوی ہونا چاہیے ۔