Please wait..

(2)

 
یہ کون غزل خواں ہے، پر سوز و نشاط انگیز
اندیشہَ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز

معانی: غزل خواں : غزل پڑھ رہا ہے ۔ پُر سوز: جس میں سوز اور خوشی بھری ہوتی ہے ۔ اندیشہَ دانا: دانا کی عقل ۔ جنوں آمیز: مسرت انگیز ۔
مطلب: اس غزل کے مطلع میں اقبال سوالیہ انداز میں خود اپنے بارے میں یوں گویا ہیں کہ یہ کون سخن ور ہے جس کے کلام میں سوز و گداز بھی ہے اور کیف و سرور بھی ۔ اور جن لوگوں کو اپنی دانشوری پر ناز ہے ان کی عقل پر بھی ۔ اس کلام سے ایک طرح کے جنون کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ۔ مراد یہ ہے کہ اس کلام میں دانشوروں کے لیے عمل کی ترغیب فراہم کی گئی ہے ۔ اس شعر میں اقبال اپنی سیرت و کردار کے حوالے سے خود ہی موجود نظر آتے ہیں ۔

 
گو فقر بھی رکھتا ہے اندازِ ملوکانہ
ناپختہ ہے پرویزی، بے سلطنتِ پرویز

معانی: فقر: درویشی، فقیری ۔ ملوکانہ: شاہانہ ۔ سلطنت پرویز: ایران کے آخری بادشاہ کی سلطنت ۔
مطلب: یہ درست ہے کہ فقیری اور بادشاہی دونوں میں کچھ باتیں قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ فقیر بھی بادشاہ کی طرح بے نیاز ہوتا ہے تاہم دونوں کے مابین بنیادی فرق یہ ہے کہ فقیر اپنی شان و شوکت کو نمایاں کرنے کے لیے کسی حکومت یا سلطنت کا محتاج نہیں ہوتا جب کہ بادشاہی سلطنت و مملکت کے بغیر ناتمام اور بے معنی شے ہے ۔ بالفاظ دگر فقیر تو اپنی روحانی قوت سے کام لیتا ہے جب کہ بادشاہ کے پاس ہر طرح کے لاوَ و لشکر کے علاوہ ہر نوع کے ہتھیاروں کی بہتات ہوتی ہے ۔

 
اب حجرہَ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی
خونِ دل شیراں ہو، جس فقر کی دستاویز

معانی: حجرہَ صوفی: صوفی کی کوٹھڑی ۔ خونِ دلِ شیراں : شیروں کے دل کا خون ۔ دستاویز: سند، کتاب ۔
مطلب: اب اگر یہ کہا جائے کہ صوفی میں پہلے جیسی صلاحیت اور روحانی قوت برقرار نہیں رہی تو بے جا نہ ہو گا ورنہ ماضی میں تو صوفی اور درویش میں ایسی روحانی قوت ہوا کرتی تھی جس کے روبرو شیر بھی لرزہ براندام رہتے تھے ۔ مراد یہ ہے کہ اس عہد کا صوفی اور درویش تو فقر و غنا سے انحراف کر کے دنیاوی مال و منال کے چکر میں الجھ کر رہ گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں وہ روحانی قوت باتی نہیں رہی جو ہر نوع کی بڑی قوت پر بھاری ہوتی تھی ۔

 
اے حلقہ درویشاں وہ مردِ خدا کیسا
ہو جس کے گریباں میں ہنگامہَ رُستاخیز

معانی: حلقہَ درویشاں : اللہ والے لوگ ۔ رُستاخیز: طوفان کا شور ۔
مطلب: اقبال اس شعر میں استفسار کرتے ہیں کہ ذرا اس حقیقی اور سچے درویش کے متعلق تو سوچو جو اپنے سینے میں زبردست روحانی قوت رکھتا ہے ۔ ایسی روحانی قوت جو کسی بھی قوم میں انقلاب انگیز صفات پیدا کر دیتی ہے ۔ اقبال کا اس شعر میں بنیادی مقصد یہ ہے کہ اپنے عہد کے ان صوفیوں اور درویشوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ تم لوگ تو بے حسی اور بے عملی کے سبب اپنی روحانی قوت اور قدرت کی بخشی ہوئی صلاحیت کھو چکے ہو لیکن آج بھی ایسے مرد درویش موجود ہیں جو قوموں میں انقلاب کی جوت جگانے کے اہل ہیں ۔

 
جو ذکر کی گرمی سے شعلے کی طرح روشن
جو فکر کی سرعت میں بجلی سے زیادہ تیز

معانی: سرعت: تیزی ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال اسی انقلابی درویش کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایسا مرد حق ہوتا ہے کہ جب اس کے روبرو خالق حقیقی کا ذکر کیا جائے تو اس کے دل و دماغ جوش عقیدت میں شعلے کی طرح روشن ہو جاتے ہیں اور جب فکری سطح پر اس کا تجزیہ کرتے ہیں تو ان کا ذہن اسی سرعت سے کام کرتا ہے جس طرح برقی رو تیزی سے دوڑتی ہے ۔

 
کرتی ہے ملوکیت آثارِ جنوں پیدا
اللہ کے نشتر ہیں تیمور ہو یا چنگیر

معانی: ملوکیت: بادشاہت ۔
مطلب: یہ فطری امر ہے کہ ملوکیت میں ظلم و جبر بالاخیر ایک جنون کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ اس کے ردعمل کے طور پر تیمور و چنگیز جیسے قاہر و جابر فرمانروا پیدا ہوتے ہیں جو اس جنون کو انتہا پر پہنچا کر اعتدال پر لے آتے ہیں ۔

 
یوں دادِ سخن مجھ کو دیتے ہیں عراق و پارس
یہ کافرِ ہندی ہے بے تیغ و سناں خونریز

معانی: کافرِ ہندی: خود اقبال ۔ تیغ و سناں خونریز: تلوار کے بغیر جنگ کر رہا ہے
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ نہ میرے پاس باطل کی قوتوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوئی ہتھیار ہے نہ ہی کوئی اور وسیلہ ۔ اگر ہے تو شعر کی وہ تخلیقی قوت ہے جو شاید کسی بھی ہتھیار سے زیادہ کارآمد ہے ۔ ایران و عراق کے دانشور اسی لیے مجھے داد دینے پر مجبور ہیں کہ میں شاعری کو ہتھیارر بنا کر باطل سے نبرد آزما ہوں ۔