Please wait..

زُہد اور رندی

 
اک مولوی صاحب کی سُناتا ہوں کہانی
تیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانی

معانی: زُہد: پارسائی ۔ رِندی: شرابی، عاشق ۔ طبیعت کی تیزی: سوچ و فکر کی قدرتی قوت ۔ دکھانا: ظاہر کرنا ۔
مطلب: زہد اور رندی ایک ایسی نظم ہے جس میں ایک جانب تو علامہ اقبال نے بڑے خوبصورت اور واضح انداز میں اپنے عقائد کا ذکر کیا ہے اور دوسری جانب ان تضادات کی نشاندہی بھی کی ہے جو ملازم اور پاپائیت کے تعصبات کی پیداوار ہیں ۔ اس نظم کے عملی سطح پر دو کردار ہیں ۔ ایک مولوی اور دوسرا ایسا آزاد خیال مسلمان جو اسلام کو انتہائی وسیع المشرب مذہب تصور کرتا ہے جب کہ مولوی اسے اپنے ذاتی تعصبات کی عینک سے ہی دیکھتا ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں میں یہاں آپ کو ایک مولوی صاحب کی داستان سنانے لگا ہوں ۔ میرے اس عمل کا مقصد قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ محض اپنی طبع کی تیزی کا اظہار کروں بلکہ کچھ ایسے حقائق ہیں جن کا تذکرہ ناگزیر ہے ۔

 
شہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا
کرتے تھے ادب ان کا اعلی و ادانی

معانی: شہر: چرچا، مشہور ۔ صوفی منشی: صوفیوں کی سی زندگی بسر کرنا ۔ اعالی: جمع اعلیٰ، بڑے بڑے لوگ ۔ ادانی: جمع ادنیٰ، عام یا معلولی لوگ ۔
مطلب: جن مولوی صاحب کی داستان سنائی جا رہی ہے ان کے بارے میں یہی شہرت تھی کہ وہ تصوف کے فلسفہ سے پوری طرح آگاہ ہیں اس سبب ہر چھوٹا بڑا موصوف کا بہت احترام کرتا تھا ۔

 
کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعت
جس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانی

معانی: پنہاں : چھپی ہوئی ۔ تصوف: دنیا سے بے نیاز اور اللہ کی ذات میں فنا ہونا ۔ مضمر: چھپے ہوئے ۔ معانی: جمع معنیٰ مطلب ۔
مطلب: ان مولوی صاحب کا عقیدہ یہ تھا کہ تصوف کے فلسفے میں شریعت اس طرح پوشیدہ ہے جیسے کہ الفاظ میں معانی چھپے ہوئے ہیں ۔

 
لبریز مئے زہد سے تھی دل کی صراحی
تھی تہ میں کہیں دُردِ خیالِ ہمہ دانی

معانی: لبریز: بھری ہوئی ۔ مئے زہد: پارسائی کی شراب ۔ صراحی: شراب کا برتن، مراد دل ۔ دُرد: تلجھٹ، مَیل ۔ خیال ہمہ دانی: ہر بات، سب کچھ جانے کا گھمنڈ ۔
مطلب: ان کا دل بھی کہا جاتا ہے کہ زہد سے لبریز تھا یوں بھی وہ خود بہت حیر و عاقل تصور کرتے تھے اور کسی دوسرے کو خاطر میں بھی نہیں لاتے تھے ۔

 
کرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنی
منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی

معانی: کرامات: جمع کرامت، ایسے کام جو عام آدمی کی طاقت سے باہر ہوں ۔
مطلب: اپنی کرامات کا خود سے بہت چرچا کرتے تھے ۔ ان کے اس رویے کا بنیادی مقصد فی الواقع اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ اپنے مریدوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ۔

 
مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرے
تھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانی

معانی: رند: ایسا انسان جو عشق کی شراب میں مست ہو ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ یہ مولوی صاحب عرصہ دراز سے میری پڑوس میں سکونت اختیار کیے ہوئے تھے ۔ میں تو خیر رند ہی تھا لیکن زہد کے ان دعویدار سے پڑوسی ہونے کے ناطے میری پرانی واقفیت تھی ۔

 
حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھا
اقبال، کہ ہے قُمری شمشادِ معانی

معانی: شناسا: واقف، جاننے والا ۔ قمری: کبوتر سے چھوٹا ایک خوش آواز پرندہ، فاختہ ۔ شمشاد: ایک سیدھا لمبا درخت، بلندی ۔ معانی: معنوں یعنی شاعری میں نئے نئے مضامین پیدا کرنا ۔
مطلب: ایک روز انھوں نے میری بجائے میرے ایک واقف کار سے استفسار کیا کہ یہ شخص اقبال جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بلند پایہ شاعر ہے ۔

 
پابندیِ احکامِ شریعت میں ہے کیسا
گو شعر میں ہے رشکِ کلیمِ ہمدانی

معانی:احکامِ شریعت: شریعت کے حکم، فراءض ۔ کیسا ہے: یعنی اچھا یا بُرا ہے ۔ شعر: شاعری ۔ رشک: دوسروں کی خوبی خود میں پیدا کرنے کی خواہش ۔ کلیمِ ہمدانی: ابو طالب کلیم، فارسی کا مشہور شاعر ۔
مطلب: گو کہ اس کی شاعری ابوطالب کلیم کی طرح رشک آمیز ہے ذرا یہ تو بتاوَ احکام شرعی کا بھی پابند ہے یا نہیں

 
سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا
ہے ایسا عقیدہ اثرِ فلسفہ دانی

معانی: عقیدہ: اعتقاد، مذہبی خیال ۔ فلسفہ دانی: علم فلسفہ جاننا ۔
مطلب: اس کے متعلق سنا ہے کہ ہندو کو کافر نہیں سمجھتا اس نوع کا عقیدہ تو محض ایسے شخص کا ہو سکتا ہے جو صرف فلسفے پر یقین رکھتا ہو ۔

 
ہے اس کی طبیعت میں تَشیُّع بھی ذرا سا
تفضیلِ علی ہم نے سُنی اس کی زبانی

معانی: تشیع: شیعہ عقیدہ رکھنے کا عمل ۔ تفضیل: فضیلت ، دوسروں پر برتری دینا ۔ علی: حضرت علی علیہ السلام ۔
مطلب: مزید براں یہ بھی کہا جا تا ہے کہ اقبال کی فطرت میں شیعت کے عقیدے کا بھی کچھ عمل دخل ہے ۔ اس لیے کہ وہ خلفاء میں حضرت علی کو افضل تصور کرتا ہے ۔

 
سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخل
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی

معانی: مقصود: غرض، مقصد ۔ مگر: شاید ۔ مذہب کی خاک اڑانا: مذہب کو رسوا کرنا، ذلیل کرنا ۔
مطلب: اس کے علاوہ را گ رنگ کو بھی عبادت کا ایک حصہ خیال کرتا ہے ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ مذہب کا مذاق اڑاتا ہے ۔

 
کچھ عار اسے حُسن فروشوں سے نہیں ہے
عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی

معانی: حُسن فروش: حسن بیچنے والی، مراد بازاری عورتیں ۔
مطلب: یہی نہیں بلکہ وہ تو طواءفیت کو بھی برا نہیں سمجھتا ۔ مگر محض اقبال سے ہی یہ شکایت نہ ہونی چاہیے اس لیے کہ ہمیشہ سے ہمارے شعراء کا یہی وطیرہ رہا ہے ۔

 
گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی

معانی: سحر: صبح کے وقت ۔ رمز: بھید ۔ معانی نہ کھلنا: حقیقتِ حال سمجھ میں نہ آنا ۔
مطلب: وہ یہی تو کرتے ہیں کہ رات کو گانے سے محظوظ ہونا اور صبح دم قرآن کریم کی تلاوت کرنا! یہ صورت حال بحر حال ایک ایسا راز ہے جس کی تعبیر سے کم از کم ہم ابھی تک آگا ہ نہیں ہیں ۔

 
لیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نے
بے داغ ہے مانندِ سحر اس کی جوانی

معانی: بے داغ: برائی سے پاک ۔ مانند سحر: صبح کی طرح ۔
مطلب: اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے مریدوں سے یہ بھی سنا ہے وہ عالم شباب میں بھی بے داغ کردار کا مالک ہے ۔

 
مجموعہَِ اضداد ہے، اقبال نہیں ہے
دل دفترِ حکمت ہے، طبیعت خفقانی

معانی: مجموعہ اضداد: ایسا شخص جس میں متضاد یعنی باہم مخالف باتیں جمع ہوں ۔ دفتر حکمت: فلسفہ کی کتاب ۔ خفقانی: دل دھڑکنے کی بیماری میں مبتلا ۔
مطلب: مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اقبال تضادات کا مجموعہ ہے یعنی اس کا دل تو حکمت و دانش کا خزینہ ہے جب کہ طبیعت میں قدرے جنون کے آثار دکھائی دیتے ہیں ۔

 
رندی سے بھی آگاہ، شریعت سے بھی واقف
پوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانی

معانی: منصور: مراد حسین بن منصور حلاج جنھیں انا الحق کہنے پر پھانسی دی گئی تھی ۔ ثانی: مراد مانند ۔
مطلب: اقبال تو رندی سے بھی آگاہ ہے اور شریعت سے اچھی طرح واقفیت رکھتا ہے اگر اس سے تصوف کے بارے پوچھو تو منصور حلاج کا ثانی لگتا ہے ۔

 
اس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتی
ہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی

معانی: حقیقت نہ کھلنا: صحیح صورت حال معلوم نہ ہونا ۔
مطلب: مولوی صاحب استفسارات کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھ پر اس شخص کی حقیقت واضح نہیں ہوتی کیا وہ کسی نئے اسلام کا بانی تو نہیں ہے ۔

 
القصہ بہت طُول دیا وعظ کو اپنے
تا دیر رہی آپ کی یہ نغز بیانی

معانی: القصہ: مختصر یہ کہ ۔ تادیر: دیر تک ۔ نغز بیانی: بڑی پیاری گفتگو(طنزیہ ) ۔
مطلب: مختصر یہ کہ مولوی صاحب نے اپنے وعظ کو بہت طول دیا اور ان کی لمبی چوڑی تقریر کافی دیر تک جاری رہی ۔

 
اس شہر میں جو بات ہو، اُڑ جاتی ہے سب میں
میں نے بھی سُنی اپنے احِبّا کی زبانی

معانی: بات اُڑ جانا: بات مشہور ہو جانا ۔ احبا: جمع حبیب، دوست ۔
مطلب: چونکہ اس شہر میں کوئی بات چھپی نہیں رہتی اس لیے مولوی صاحب کے ارشادات کا ہر طرف جو چرچا ہوا اس کی داستان مجھ تک بھی پہنچی ۔

 
اک دن جو سرِ راہ ملے حضرت زاہد
پھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانی

معانی: سرراہ ملنا: راستے میں اچانک ملاقات ہونا ۔ حضرت زاہد: مراد وہی مولوی صاحب ۔ بات چھڑنا: باتیں شروع ہو جانا ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ بعد میں ایک روز مولوی صاحب سر راہ اچانک مل گئے تو آپس میں وہی پرانی بات چھڑ گئی ۔

 
فرمایا، شکایت وہ محبت کے سبب تھی
تھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانی

معانی: راہ دکھانا: صحیح راستے پر ڈالنا ۔
مطلب: وہ باتیں جو تم تک پہنچیں دراصل وہ تو محبت کے سبب کہی گئیں تھیں ۔ میرا مقصد تو تمہیں محض شریعت کی راہ سے آگاہ کرنے کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔

 
میں نے کہا کوئی گلہ مجھ کو نہیں ہے
یہ آپ کا حق تھا زرہِ قربِ مکانی

معانی: حق: فرض ۔ زرہِ قرب مکانی: قریب، ہمسائیگی میں رہنے کی وجہ سے ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں اس مرحلے پر میں نے جواباً کہا کہ پڑوسی ہونے کے ناطے آپ نے جو کچھ فرمایا وہ یقیناً آپ کا حق تھا مجھے اس پر کوئی گلہ اور شکا یت نہیں ۔

 
خم ہے سرِ تسلیم مرا آپ کے آگے
پیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی

معانی: خم ہے: جھکا ہوا ہے ۔ سر تسلیم خم ہونا: دوسروں کی مرضی پر راضی رہنا ۔ پیری: بڑھاپا ۔ تواضع: عاجزی، انکساری ۔
مطلب: مولانا! میں تو آپ کا نیاز مند ہوں ۔ ویسے بھی آپ میرے بزرگ ہیں ۔

 
گر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقت
پیدا نہیں کچھ اس سے قصورِ ہمہ دانی

معانی: قصورِ ہمہ دانی: سب کچھ جاننے کا قصور ۔
مطلب: رہا یہ مسئلہ کہ اگر آپ میری حقیقت سے آگاہ نہیں تو اس پر حیرت بھی نہیں ہوتی نا ہی اس میں کسی دانش کا دخل ہے ۔

 
میں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا
گہرا ہے مرے بحرِ خیالات کا پانی

معانی: بحر خیالات: خیالوں کا سمندر ۔
مطلب: اس لیے کہ میں تو خود بھی اپنی حقیقت سے واقفیت نہیں رکھتا میرے خیالات میں جو گہرائی ہے اس کا علم تو مجھے بھی نہیں ۔

 
مجھ کو بھی تمنا ہے کہ اقبال کو دیکھوں
کی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانی

معانی: اشک فشانی: آنسو بہانے کی حالت ۔
مطلب: میری بھی یہی خواہش ہے کہ اقبال کو خود بھی دیکھوں ۔ میں نہیں جانتا کہ میں کیا شے ہوں ۔

 
اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں ، واللہ نہیں ہے

معانی: اقبال سے: یعنی اپنی ذات، حقیقت سے ۔ تمسخر: مذاق ۔ واللہ: خدا کی قسم
مطلب: سچی بات تو یہ ہے کہ اقبال خود بھی اقبال کی حقیقت سے آگاہ نہیں ۔ اور اس معاملے میں کسی طرح طنز و مزاح کی گنجائش نہیں ہے ۔