Please wait..

(45)

 
رہا نہ حلقہَ صوفی میں سوزِ مشتاقی
فسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقی

معانی: سوزِ مشتاقی: عشق کا سوز ۔ فسانہ ہائے: جھوٹی کہانیاں ۔
مطلب: نظم کے اس مطلع میں کہا گیا ہے کہ صوفی اور درویشوں کی خانقاہوں کی صورت حال آج کل بس ایسی ہے کہ عشق و عمل کی جگہ محض جھوٹی کرامتیں دکھا کر اپنے پیرووَں کو لوٹنے کی روش باقی رہ گئی ہے ۔

 
خرابِ کوشکِ سلطان و خانقاہِ فقیر
فغاں کی تخت و مصلیٰ کمالِ زرّاقی

معانی: کوشک: تکیہ ۔ زراقی: فریب دنیا ۔
مطلب: اس شعر میں پہلے شعر کی مانند اقبال نے صوفی اور درویش کے ساتھ بادشاہوں کے کردار کا جائزہ لیا ہے کہ شاہی محلات اور درویشوں کی خانقاہیں دونوں کی کیفیت ان دنوں انتہائی خراب اور ناقص ہے ۔ دونوں انتہائی مکاری اور عیاری کے اڈے بن گئے ہیں ۔

 
کرے گی داورِ محشر کو شرم سار اک روز
کتابِ صوفی و ملا کی سادہ اوراقی

مطلب: اس شعر میں کہا گیا ہے کہ صوفی اور ملا جو دین مذہب کے اجارہ دار بنے ہوئے ہیں لیکن ان کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو صفر کے برابر ہے ۔ ان کے کورے اعمال نامے جب داور محشر کے روبرو پیش کئے جائیں گے تو اسے خود دکھ ہو گا کہ یہی لوگ تھے جو مذہب کے نام پر کیا کیا گل کھلاتے رہے ہیں ۔ کہ خداوند عالم نے انہیں مواقع فراہم کیے لیکن وہ اپنی بے عملی اور بدنیتی کے سبب کوئی شایان شان کام نہ کر سکے ۔

 
نہ چینی و عربی وہ نہ رومی و شامی
سما نہ سکا دو عالم میں مردِ آفاقی

معانی: آفاقی: بلند فکر آدمی یعنی مومن ۔
مطلب: اسلام تو رنگ و نسل کی پابندی سے ہٹ کر ایک آزاد مذہب کی حیثیت کا حامل ہے ۔ اس میں شامل ہونے والا کوئی بھی شخص خواہ چینی ہو یا عربی، رومی ہو یا شامی بہرحال مسلمان ہے اور اسلام سے وابستہ ہے ۔

 
مئے شبانہ کی مستی تو ہو چکی لیکن
کھٹک رہا ہے دلوں میں کرشمہَ ساقی

مطلب: رات پی جانے والی شراب کا خمار تو اب ختم ہو گیا لیکن ساقی کی عنایات کا کرشمہ ابھی تک ذہن میں محفوظ ہے ۔

 
چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

معانی: کارِ تریاقی: زہر کی دوا ۔
مطلب: عربی کا مقولہ ہے جس کے معنی ہیں کہ سچ ہمیشہ تلخ ہوتا ہے اسی حوالے سے اقبال کہتے ہیں بے شک میری باتیں بھی اے مسلمان تجھے کڑوی اور تلخ محسوس ہوں گی لیکن نہ بھول کہ یہ باتیں تلخ سچائی پر مبنی ہیں ۔

 
عزیز تر ہے متاعِ امیر و سلطاں سے
وہ شعر جس میں ہو بجلی کا سوز و برّاقی

معانی: متاع امیر و سلطان: بادشاہوں کی دولت ۔ برّاقی: چمک ۔
مطلب: جو شعر جو حقائق پر مبنی ہے اور جس میں روح عصر جھلکتی ہو وہ تو یقینا بادشاہوں اور امراء کے مال و دولت سے بھی زیادہ قیمتی ہے ۔ مرا د یہ ہے کہ اس نوعیت کے شعر کی افادیت تو مال و دولت سے بھی زیادہ ہے کہ یہ حقیقی رہنمائی کا حامل ہوتا ہے ۔