Please wait..

(۴)

 
اثر کرے نہ کرے سُن تو لے مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندہَ آزاد

معانی: مری فریاد: شکایت ۔ داد: شاباش ۔ طالب: خواہشمند ۔
مطلب: مولائے کائنات! یہ امر تو اپنی جگہ کہ میری فریاد میں اثر ہے یا نہیں تاہم اس کو سننے میں تو کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے کہ میں تو ان افراد میں سے ہوں جو داد کا طلب گار ہونے کے بجائے اس نوع کے جھمیلوں سے آزاد ہوتے ہیں ۔

 
یہ مشتِ خاک، یہ صرصر، یہ وسعتِ افلاک
کرم ہے یا کہ ستم، تیری لذتِ ایجاد

معانی: مشتِ خاک: آدمی ۔ صرصر: تیز ہوا ۔ وسعتِ افلاک: آسمانوں کی فراخی ۔ کرم: رحمت ۔
مطلب: انسان جو ایک مشت خاک کے مانند ہے گوناگوں مصائب اور بلاؤں کے ہجوم میں گھرا ہوا ہے ۔ یہ بلائیں او ر مصائب آسمانوں کی تمام تر وسعت کا احاطہ کئے ہوئے ہیں ۔ اب اس کا اندازہ کیسے ہو کہ تیرے ذوق تخلیق میں یہ عمل قہر و غضب پر مبنی ہے یا لطف و عنایت کا حامل ہے ۔

 
ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمہَ گل
یہی ہے فصلِ بہاری یہی ہے بادِ مراد

معانی: خیمہَ گل: پھولوں کا خیمہ ۔ فصلِ بہاری: بہار کا موسم ۔ بادِ مراد: وہ ہوا جس سے خواہش پوری ہو ۔
مطلب: یہ درست ہے کہ بہار آئی تو باغوں میں پھول کھلے لیکن خزاں کے جھونکوں سے وہ سب کے سب مرجھا گئے ۔ کیا یہی وہ مختصر عرصہ زیست ہے جسے بہار کے موسم اور باد مراد سے منسوب کیا جاتا ہے ۔

 
قصور وار، غریب الدیار ہوں ، لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

معانی: غریب الدیار: بے وطن ۔ ترا خرابہ: غیر آباد جہان ۔
مطلب: خداوندا! بے شک تو نے آدم کو ایک گناہ کی پاداش میں کرہَ ارض پر جلاوطن تو کر دیا تاہم اس نے اس خراب کو ایک گلشن میں تبدیل کر دیا ظاہر ہے کہ یہ عمل تیرے فرشتوں کے بس کا روگ نہ تھا ۔

 
مری جفاطلبی کو دعائیں دیتا ہے
وہ دشتِ سادہ، وہ تیرا جہانِ بے بنیاد

معانی: جفا طلبی: محنت مشقت ۔ دشت سادہ: صحرا، غیر آباد علاقہ ۔ بے بنیاد: جس کی کوئی بنیاد نہ ہو ۔
مطلب: یہ آدم کی محنت اور جفاکشی تھی جس نے ویران خطہَ ارض کو گل و گلزار بنا دیا ۔ یہاں کے موجود عناصر آج بھی اس حقیقت کے معترف ہیں ۔

 
خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد

معانی: خطر پسند طبیعت: خطرے پسند کرنے والی طبیعت ۔ سازگار: درست نہیں ۔ گلستاں :باغ ۔ صیاد: شکاری ۔
مطلب: خطروں اور مشکلات سے نبردآزما ہونے والی طباءع کسی ایسے گلستان کو بھی ناپسند کرتی ہیں جہاں کوئی مدمقابل موجود نہ ہو ۔

 
مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انھی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

معانی: مقام شوق: عشق کی دنیا ۔ قدسیوں : فرشتوں ۔ حوصلے ہیں زیاد: زیادہ حوصلے والے، یہاں مراد انسان ہے ۔
مطلب: اے خدا یہ جاں نثاری کا عمل تیرے فرشتوں کے بس کا نہیں ہے اس کے سزاوار تو وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن میں جرات و ہمت کی کمی نہ ہو ۔ اس شرط پر فرشتے نہیں بلکہ آدم ہی پورا اتر سکتا ہے ۔