Please wait..

خودی کی زندگی

 
خودی، ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہِ فقیر

معانی: فقر: لغوی معنی تنگ دستی، اصلاح اور درویشی ۔ سنجر و طغرل: طغرل خاندان سلجوق کا ایک بادشاہ ۔ سنجر: ایک شان والا شاہ ۔ شکوہ: ہیبت، جلال ۔ فقر: صاحب فقر، درویش ۔
مطلب: اگر خودی (خود معرفتی) زندہ ہو اور درویش کو اپنے مقام کا علم ہو اور وہ صحیح فقیر ہو تو اس کا فقر شہنشاہی سے کم نہیں ہے ۔ ایک صاحب فقیر کی ہیبت اور جلال طغرل اور سنجر جیسے پرشکوہ اور پر ہیبت بادشاہوں سے کم نہیں ہوتی ۔ شرط یہ ہے کہ فقیر واقعی اسلامی فقر کا حامل ہو گداگر اور مکار نہ ہو ۔

 
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیان و حریر

معانی: دریائے بیکراں : وہ دریا جس کا کوئی کنارہ نہ ہو ۔ پایاب: دریا کی اتنی سطح کہ آدمی پاؤں رکھ کر اس پر سے گزر سکے ۔ پرنیان و حریر: ریشمی کپڑوں کے نام ہیں ۔ کہسار: پہاڑوں کا سلسلہ ۔
مطلب: اگر مرد فقیر کی خودی (خود معرفتی) زندہ ہو تو وہ دریا جو کنارہ نہیں رکھتے یعنی بڑے جوڑے ہوتے ہیں وہ ان کی سطح پر بھی پاؤں رکھ کر گزر جاتا ہے ۔ اس کے لیے وہ دریا ایک قدم کی عبوری سے زیادہ نہیں ہوتے اور پہاڑوں کا سنگلاخ سلسلہ ان کے نرم و ملائم ہو جاتا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ مرد فقیر کے آگے سخت سے سخت اور مشکل سے مشکل کام اور مہ میں آسان ہوتی ہیں ۔ اس کی ایمانی اور روحانی طاقت کے آگے ہر بڑی طاقت اورہر بڑی مشکل زیر ہو جاتی ہے ۔

 
نہنگ زندہ ہے اپنے محیط میں آزاد
نہنگِ مردہ کو موجِ سراب بھی زنجیر

نہنگ: مگر مچھ ۔ محیط: سمندر ۔ سراب: خیالی پانی جو صحرا میں ریت کی گرمی کی وجہ سے نظر آتا ہے ۔ زنجیر: قید ۔
مطلب: اس شعر میں شاعر نے مسلمان مرد فقیر، صادق اور سچے درویش اسلامی کو ایسے زندہ مگر مچھ سے تشبیہ دی ہے جو سمندر کی وسعت میں آزادی سے جیتا ہے اور جو شخص جعلی فقیر ہو اور مری ہوئی خودی والا درویش ہے اس کی مثال ایسے مردہ مگر مچھ سے دی ہے جو سراب یعنی ریت سے پیدا شدہ غلط اور خیالی پانی کے سمندر میں قید ہوتا ہے ۔ صاحب خودی فقر کے لیے بڑے بڑے سمندروں کی موجیں یعنی بڑی بڑی مشکلات بھی کچھ حیثیت نہیں رکھتیں لیکن وہ درویش جو خودی سے بے گانہ ہو اسے خیالی پانی سراب پار کرنا بھی مشکل لگتا ہے اور سراب کی موجیں اس کو قید کر لیتی ہیں وہ کسی کام کا نہیں ۔ وہ مشکلات سے ٹکراتا نہیں گھبراتا ہے ۔ اس کے پاس کوئی روحانی اور ایمانی قوت نہیں ہوتی ۔