Please wait..

مرزا بیدل

 
ہے حقیقت یا مری چشمِ غلط بیں کا فساد
یہ ز میں ، یہ دشت، یہ کہسار، یہ چرخ کبود

معانی: بیدل: تخلص مرزا عبدالقادر نام، مغلوں کے آخری دور کے مشہور تصوف گو فارسی شاعر تھے اور برصغیر کے مشہور شہر عظیم آباد کے رہنے والے تھے ۔ اسی لیے انہیں بیدل عظیم آبادی بھی کہتے ہیں ۔ چشم غلط بیں : غلط دیکھنے والی آنکھ ۔ فساد: خرابی ۔ کہسار: پہاڑوں کا سلسلہ ۔ چرخ کبود: نیلا آسمان ۔
مطلب: حکما یا فلسفیوں میں یہ بحث دیر سے چل رہی ہے کہ جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے وہ حقیقت میں موجود ہے بھی یا نہیں ہے ۔ علامہ نے اسی فلسفیانہ موضوع کو اس نظم کے پہلے دو شعروں میں بیان کیا ہے ۔ اور آخری دو شعروں میں مرزا بیدل کی زبان سے اس کا حل بتایا ہے ۔ اس شعر میں علامہ یہی کہتے ہیں کہ یہ زمین، یہ بیابان، یہ پہاڑوں کا سلسلہ ، یہ نیلا آسمان غرض کہ پوری کائنات جس کو کہ ہم دیکھتے ہیں یہ واقعی موجود ہے یا صرف میری غلط دیکھنے والی نگاہ کی خرابی ہے کہ وہ اسے حقیقت سمجھ رہی ہے ۔

 
کوئی کہتا ہے نہیں ، کوئی کہتا ہے کہ ہے
کیا خبر! ہے یا نہیں ہے تیری دنیا کا وجود

معانی: وجود: موجود ہونا ۔
مطلب: مفکروں میں سے کوئی تو یہ کہتا ہے کہ یہ کائنات اپنی جملہ اشیا سمیت حقیقت میں موجود ہے اور کوئی یہ کہتا ہے کہ دیکھنے میں یہ موجود تو ہے لیکن اس کا موجود ہونا میری نظر کا محتاج ہے اس لیے اے شخص کیا خبر ہے کہ یہ دنیا جس میں تو رہتا ہے واقعی موجود ہے یا صرف ہماری نظر کادھوکا ہے ۔

 
میرزا بیدل نے کس خوبی سے کھولی یہ گرہ
اہلِ حکمت پر بہت مشکل رہی جس کی کشود

معانی: گرہ: گانٹھ، مشکل ۔ اہل حکمت: مفکر، فلسفی ۔ کشود: کھولنا ۔
مطلب: علامہ کہتے ہیں کہ اس پیچیدہ اور اختلافی مسئلہ کو جس کا مذکورہ بالا شعروں میں ذکر ہوا ہے اور جس کا کھولنا مفکروں پر بڑا مشکل رہا ہے دیکھیے مرزا عبدالقادر بیدل نے اس مشکل کو کس خوش اسلوبی کے ساتھ حل کر دیا ہے ۔

 
دل اگرمی داشت وسعت بے نشاں بو ایں چمن
رنگِ مے بیروں نشست از بسکہ مینا تنگ بود

مطلب: دل اگر اتنا کھلا ہوتا تو یہ دنیا کا چمن موجود ہی نہ ہوتا ۔ اگرچہ شراب کی صراحی کا منہ تنگ تھا مگر اس کا رنگ شیشے میں سے باہر نظر آنے لگا ۔ یہ مرزا کا فارسی شعر ہے جس کے لفظی معنی یہ بنتے ہیں کہ اگر دل وسعت رکھتا تو یہ چمن یا کائنات بے نشان یا غیر موجود نظر آتی ۔ ہوا یوں ہے کہ چونکہ صراحی تنگ تھی اس لیے اس میں جو شراب ڈالی گئی وہ یا اس کا رنگ صراحی سے باہر آ گیا ۔ خمریات کی ان علامات سے مرزا نے یہ بتا یا ہے ہمارا دل چونکہ تنگ تھا اس لیے اس میں خدا کی تمام تجلیات نہیں سما سکیں اور جو دل کی صراحی سے باہر رہ گئیں وہ دنیا کا نشان بن گئیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا جو بھی نشان ہمیں نظر آتا ہے وہ خدا کی ان تجلیات کا پرتو ہے جو دل میں نہیں سما سکیں ۔