Please wait..

رباعی (36)

 
کھلے جاتے ہیں اسرار نہانی
گیا دور حدیث لن ترانی
 
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار
وہی مہدی وہی آخر زمانی

معانی: اسرار: راز ۔ نہانی: خفیہ ۔ لن ترانی: تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ۔
مطلب: مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جب دنیا فسق و فجر سے بھر جائے گی تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ایک ایسا مہدی بھیجے گا جو باطل کی قوتوں کو مٹا کر رکھ دے گا ۔ اسلام کا ڈنکا نئے سرے سے بجے گا ۔ اس آنے والے کو وہ آخری زمانے کا مجدد سمجھتے ہیں ۔ اس کو اقبال نے مہدی اور آخر زمانی کے لقبوں سے یاد کیا ہے ۔ اس رباعی کے مطابق اب وہ دور آ گیا ہے جب کائنات کے تمام راز ہائے سربستہ کھلے چلے جا رہے ہیں ۔ اب وہ زمانہ بھی نہیں رہا کہ حضرت موسیٰ کی طرح جواب ملے لن ترانی یعنی تم ہمارا جلوہ نہیں دیکھ سکتے ۔ چنانچہ بقول اقبال اب تک تو صورت حال اس مرحلے تک آ پہنچی ہے کہ جو شخص بھی اول اول خودی کی معرفت حاصل کر سکا وہی مہدی آخر الزمان ٹھہرے گا ۔

رباعی (37)

 
زمانے کی یہ گردش جاودانہ
حقیقت ایک تو باقی فسانہ
 
کسی نے دوش دیکھا ہے نہ فردا
فقط امروز ہے تیرا زمانہ

معانی: جاودانہ: ہمیشہ رہنے والی ۔ دوش: گزرا ہوا دن ۔ فردا: آگے آنے والا دن ۔ امروز: آج کا دن ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ زمانے کی گردش تو ماضی میں بھی جاری رہی ۔ حال میں بھی جاری ہے اور مستقبل میں بھی جاری رہے گی ۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ اصل شے وجود انسانی ہے باقی عناصر کو افسانے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جو انسان عملی جدوجہد کا قائل ہے وہ گزرے زمانے کی تلخیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے ۔ اور مستقبل کی نامعلوم جہتیں بھی اس کے نزدیک زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں کہ ان کا علم تو شاید کسی کو بھی نہ ہو گا ۔ اس گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ انسان کا حقیقی مقصود تو دور حاضر ہے کہ یہ وقت اس کا اپنا ہے اور اس پر ہی ایک فرد بڑے اعتماد کے ساتھ بات کر سکتا ہے ۔

رباعی (38)

 
حکیمی، نامسلمانی خودی کی
کلیمی رمزِ پنہانی خودی کی
 
تجھے گُر فقر و شاہی کا بتا دوں
غریبی میں نگہبانی خودی کی

معانی: حکیمی: حکمت، فلسفہ ۔ نامسلمانی: اسلام سے باہر ہونا ۔ کلیمی: حضرت موسیٰ کا اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونا ۔ پنہائی: خفیہ اشارے ۔ گُر: طریقہ ۔ نگہبانی: حفاظت ۔
مطلب: عقل و دانش اور خودی کے بارے میں علامہ اقبال کے جو تصورات ہیں وہ ان کے بیشتر اشعار اور نظموں کے حوالے سے سامنے آ چکے ہیں ۔ زیر تشریح رباعی بھی انہی تصورات کی آئینہ دار ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جو انسان حکمت و دانش اور فلسفے کی گتھیوں میں الجھا رہتا ہے اس کا یہ عمل خودی کی نفی ہے اس لیے کہ حکمت و دانش اور فلسفہ اپنے اپنے انداز میں مسائل کا تجزیہ تو کرتے ہیں لیکن ان مباحث اور جائزوں میں نہ تو یقین و اعتماد ہوتا ہے نا ہی وہ عرفان جو ایمان کا جوہر ہے ۔ خودی کے اسرار و رموز کو جاننے کے لیے تو حضرت موسیٰ جیسے اولو العزم پیغمبروں کا کردار پیش نظر رکھنا ہو گا کہ جابروں سے مظلوموں کو نجات دلانا جذبہ خودی کا ہی کارنامہ ہے ۔ ایسے ہی کردار میں خودی کے راز مضمر ہوتے ہیں ۔ رباعی کے دوسرے شعر میں اقبال ایک اور نکتہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فقیری اور درویشی میں بھی بادشاہوں جیسی عظمت اور وقار کا حصول اس صورت میں ممکن ہے کہ انسان اپنی خودی کو حرص و ہوس اور ہر نوع کی غلاظت سے بچائے رکھے ۔ یہی وہ گر ہیں جن کے ذریعے خودی کا حقیقی نقشہ سامنے آتا ہے ۔

رباعی (39)

 
ترا تن رُوح سے نا آشنا ہے
عجب کیا آہ تیری نارسا ہے
 
تنِ بے روح سے بیزار ہے حق
خدائے زندہ، زندوں کا خدا ہے

معانی: تن: جسم ۔ نا آشنا: ناواقف ۔ نارسا: بے کار ۔
مطلب: اس رباعی میں بے عمل انسان سے خطاب کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں کہ جس طرح روح کے بغیر جسم ایک تو وہ خاک کے مانند ہوا ہے ۔ یہی صورت ایک بے عمل شخص کی ہے حتیٰ کہ خدائے عزوجل جو رحیم و کریم ہے وہ بھی ایسے بے عمل اور بے روح لوگوں کی دعائیں نہیں سنتا اس لیے کہ فی الواقع وہ اس نوع کے افراد سے بیزار رہتا ہے ۔ اور وہ تو چونکہ خود زندہ ہے لہذا خدا بھی زندہ لوگوں کا خدا ہے ۔ زندہ لوگ وہی ہوتے ہیں جن کے جسم میں روح زندہ ہے اور اپنی بقاء کے لیے عملی جدوجہد کے قائل ہیں ۔

رباعی (40)

 
اقبال نے کل اہلِ خیاباں کو سنایا
یہ شعر نشاط آور و پُر سوز و طرب ناک
 
میں صورتِ گُل دستِ صبا کا نہیں محتاج
کرتا ہے مرا جوشِ جنوں میری قبا چاک

معانی: خیاباں : کھجوروں وغیرہ کا باغ ۔ نشاط آور: دل کو خوش کرنے والا ۔ پُر سوز: گرم، مسرت آمیز ۔ دستِ صبا: صبح کی ہوا کا ہاتھ جسے لہرانے سے پھول کھلتے ہیں ۔ مرا جنوں میری قبا چاک: میرا جذبہ محبت مجھے کامیابی عطا کرتا ہے ۔
مطلب: یہ چار مصرعے ایک دلچسپ صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہیں اس صورت حال کو اقبال نے قطعہ میں منکشف کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ کائنات کی ہر شے عملاً ایک دوسرے کی محتاج ہوتی ہے ۔ اس کی مثال غنچے کی ہے کہ باد صبا کی جھونکوں کے بغیر وہ پھول بننے کی استطاعت نہیں رکھتا تا ہم صرف انسان کو یہ شرف حاصل ہے کہ کسی کی پرو اکیے بغیر اپنی منزل مقصود تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ انسان تو خودی کے جذبے کی بدولت اپنی پہچان اور معرفت الہٰی سے بہرہ ور ہو جاتا ہے جب کہ دوسری اشیاء کے لیے یہ ممکن نہیں ۔