Please wait..

خفتگانِ خاک سے استفسار

 
مہرِ روشن چھپ گیا، اُٹھی نقابِ رُوئے شام 
شانہَ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گیسوئے شام 

معانی: خفتگان: جمع خفتہ، سوئے ہوئے، مراد مردے ۔ خاک: مٹی، مراد قبر ۔ استفسار: سوال ۔ مہرِ روشن: چمکتا ہوا سورج ۔ روئے شام: شام کا چہرہ ۔ شانہَ ہستی: مراد کائنات کا کندھا ۔ گیسوئے شام: رات کی زلفیں ۔
مطلب: اس نظم کے پہلے حصے میں اقبال شام کے اوقات قبرستان کا منظر پیش کرتے ہیں ۔ دوسرے اور تیسرے حصے میں حیات و کائنات کے بالمقابل حیات بعد از ممات کا تقابلی جائزہ ہے ۔ کہتے ہیں شام ڈھل رہی ہے اور سورج غروب ہو چکا ہے ۔ چاروں طرف شام کے سائے پھیل رہے ہیں ۔

 
یہ سیہ پوشی کی تیاری کسی کے غم میں ہے 
محفلِ قدرت مگر خورشید کے ماتم میں ہے 

معانی: سیہ پوشی: کالا لباس پہننے کی حالت ۔ خورشید: سورج ۔
مطلب: یوں محسوس ہوتا ہے کہ قدرت اپنے تمام مناظر کے ساتھ ڈوبنے والے سورج کے غم میں ماتم کنا ں ہے ۔

 
کر رہا ہے آسماں جادو لبِ گفتار پر 
ساحرِ شب کی نظر ہے دیدہَ بیدار پر 

معانی: لبِ گفتار: بولنے والے ہونٹ ۔ جادو کرنا: اشارہ ہے نیند کی طرف ۔ ساحرِ شب: رات کا جادوگر ۔ دیدہَ بیدار: جاگتی ہوئی آنکھیں ۔
مطلب: یوں تو نہیں کہ آسمان نے گفتگو کرنے والے لبوں پر سحر پھونک دیا ہے اور رات کا کردار ایک ایسے ساحر کی مانند ہے جو زندہ انسانوں پر خواب طاری کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے ۔

 
غوطہ زن دریائے خاموشی میں ہے موجِ ہوا 
ہاں مگر اک دُور سے آتی ہے آوازِ درا 

معانی: غوطہ زن: ڈبکی لگانے والا ۔ دریائے خاموشی: مراد رات کے وقت ہر طرف چھائی ہوئی خاموشی ۔ آوازِ درا: گھنٹے کی آواز ۔
مطلب: ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔ یہاں تک کہ ہوا بھی ساکت ہو کر رہ گئی ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس کیفیت میں بھی ایک ایسی آواز سنائی دے رہی ہے جیسے کسی سرگرم سفر قافلے میں ہراول دستے کے اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز ہو ۔

 
دل کہ ہے بے تابی الفت میں دنیا سے نفور 
کھینچ لایا ہے مجھے ہنگامہَ عالم سے دور 

معانی: بیتابیِ الفت: محبت کے سبب ہونے والی بے چینی ۔ نفور: نفرت کرنے والا ۔ ہنگامہَ عالم: اس دنیا کا غل غپاڑا ۔
مطلب: یہی وہ عالم ہے جس نے مجھے اس عالم فانی سے متنفر کر دیا ہے اور اس کو ترک کر کے اس قبرستان میں آ گیا ہوں ۔

 
منظرِ حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں میں 
ہم نشینِ خفتگانِ کُنج تنہائی ہوں میں 

معانی: حرماں نصیبی: نامرادی کی قسمت ۔ کُنجِ تنہائی: الگ تھلگ رہنے کا کونا ۔
مطلب:اور اس کو ترک کر کے اس قبرستان میں آ گیا ہوں جہاں زندگی سے گزر جانے والے کنج تنہائی میں خاموش سو رہے ہیں ۔ یہاں میں بھی ان کا ہم نشیں ہوں ۔

 
تھم ذرا بے تابی دل! بیٹھ جانے دے مجھے 
اور اس بستی پہ چار آنسو گرانے دے مجھے 

معانی: تھم: رک ۔ چار آنسو گرانا: تھوڑی دیر تک رونا ۔
مطلب: اقبال بڑے دکھ بھرے اور اضطراب انگیز لہجے میں اہل قبور سے استفسار کرتے ہیں کہ تمہاری اس غمناک اور اندوبگیں بستی پر میں اشک افشانی کرنے پر مجبور ہوں ۔

 
اے مے غفلت کے سرمستو! کہاں رہتے ہو تم 
کچھ کہو اس دیس کی آخر جہاں رہتے ہو تم 

معانی: مے غفلت: بے ہوشی کی شراب، غفلت مرا د موت ۔ سرمستو: سرمست کی جمع، مدہوش لوگو یعنی مردو ۔ دیس: ملک ۔
مطلب: اے بے ہوشی کی شراب میں مست لوگو یعنی مردو! اتنا تو بتاوَ کہ جس بستی میں تمہاری بودوباش ہے اس کی کیفیت کیا ہے ۔

 
وہ بھی حیرت خانہَ امروز و فردا ہے کوئی 
اور پیکارِ عناصر کا تماشا ہے کوئی 

معانی: حیرت خانہَ امروز و فردا: آج اور آنے والے کل کی حیرتوں کا گھر، مراد یہ دنیا جہاں وقت بدلتا رہتا اور انقلاب آتے رہتے ہیں ۔ پیکارِ عناصر: مراد آگ، مٹی، ہوا کا آپس میں ٹکراوَ جو پیدائش یا فنا کا سبب بنتا ہے ۔
مطلب: کیا یہ بستی بھی میری دنیا کی مانند ہے جہاں ہر لمحہ انسان، انسان سے برسر پیکار رہتا ہے ۔

 
آدمی واں بھی حصارِ غم میں ہے محصور کیا 
اس ولایت میں بھی ہے انساں کا دل مجبور کیا 

معانی: حصار: قلعہ، چار دیواری ۔ محصور: گھرا ہوا، قید ۔ ولایت: ملک ۔
مطلب: کیا یہاں بھی تم میری دنیا کے باشندوں کی طرح مجبور و معذور ہونے کے ساتھ ہر طرح کی محرومیوں کا شکار ہو

 
واں بھی جل مرتا ہے سوزِ شمع پر پروانہ کیا 
اس چمن میں بھی گل و بلبل کا ہے افسانہ کیا 

معانی: سوز: جلنے کی حالت ۔
مطلب: اے اہل قبور! کیا تمہاری بستی میں بھی شمع کی روشنی پر پروانہ اپنی جان نثار کر دیتا ہے پھول اور بلبل کے بارے میں جو روایتی داستانیں ہماری دنیا میں موجود ہیں کیا تمہاری بستی بھی اس نوعیت کی داستانوں سے مزین ہے ۔

 
یاں تو اک مصرع میں پہلو سے نکل جاتا ہے دل 
شعر کی گرمی سے کیا واں بھی پگھل جاتا ہے دل 

معانی: مصرع شعر کا ایک ٹکڑا ۔ دل پہلو سے نکل جانا: دل کا تڑپ اٹھنا ۔ شعر کی گرمی: شعر میں جذبے ابھارنے والی تاثیر ۔
مطلب: میری دنیا میں تو شاعر کا ایک مصرعہ ہی دل کو تڑپانے کا موجب ہوتا ہے کیا تمہارے ساتھ تمہارا دل بھی شعر کی حدت سے پگھل جاتا ہے

 
رشتہ و پیوند یاں کے جان کا آزار ہیں 
اس گلستاں میں بھی کیا ایسے نکیلے خار ہیں  

معانی: رشتہ و پیوند: رشتے داریا ں اور آپس کے تعلقات ۔ یاں کے: اس دنیا کے ۔ جان کا آزار: روح کے لیے تکلیف کا باعث ۔ نکیلے خار: نوکیلے، تیز کانٹے ۔
مطلب: جس طرح اس دنیا میں انسانی رشتے باہمی نفرتوں کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں کیا تم لوگ بھی اسی صورت حال سے دوچار ہو ۔

 
اس جہاں میں اک معیشت اور سو اُفتاد ہے 
روح کیا اس دیس میں اس فکر سے آزاد ہے 

معانی: معیشت: مراد زندگی ۔ سُو افتاد: کئی مصیبتیں ۔
مطلب: اس دنیا کی معیشت تو بے شمار جھمیلوں میں گھری ہوئی ہے ۔ کیا وہاں بھی روح فکر سے آزاد ہے ۔

 
کیا وہاں بجلی بھی ہے، دہقاں بھی ہے، خرمن بھی ہے 
قافلے والے بھی ہیں ، اندیشہَ رہزن بھی ہے 

معانی: خرمن: غلے کا ڈھیر ۔
مطلب: یہ تو بتاوَ کہ ہمارے معاشرے کی طرح کیا تمہارے بھی بجلی، کسان اور کچے گھروندے ہیں ۔ کیا وہاں بھی اہل قافلہ کو رہزنوں سے لٹ جانے کا خوف ہوتا ہے

 
تنکے چنتے ہیں وہاں بھی آشیاں کے واسطے 
خشت و گل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے 

معانی: خشت و گل: اینٹ اور مٹی جس سے عمارت بناتے ہیں ۔
مطلب: کیا وہاں کے پرندے بھی اپنے گھونسلوں کے تنکے چنتے ہیں اور کیا ہماری طرح تم لوگ بھی مکانوں کی تعمیر کے لیے اینٹ اور گارے کا استعمال کرتے ہو ۔

 
واں بھی انساں اپنی اصلیت سے بیگانے ہیں کیا 
امتیازِ ملت و آئیں کے دیوانے ہیں کیا 

مطلب: یہ بھی بتا دو کہ جس طرح ہمارے لوگ اپنی حقیقت کو فراموش کر بیٹھے ہیں اور ذاتی عقیدوں کے جنون میں مبتلا ہیں کیا تمہارے ہاں بھی یہی معاملات ہیں

 
واں بھی کیا فریادِ بلبل پر چمن روتا نہیں  
اس جہاں کی طرح واں بھی دردِ دل ہوتا نہیں  

معانی: دردِ دل: ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ ۔
مطلب: کیا وہاں بھی بلبل کے فریاد کرنے سے چمن میں کوئی نہیں روتا ۔ کیا اس جہاں کی طرح وہاں بھی کوئی دردِ دل رکھنے والا نہیں ہوتا ۔

 
باغ ہے فردوس یا اک منزلِ آرام ہے 
یا رُخِ بے پردہَ حُسنِ ازل کا نام ہے 

معانی: فردوس: جنت ۔ منزلِ آرام: آرام کرنے کا ٹھکانا ۔ رُخِ بے پردہ: مراد کھلا چہرہ ۔ حُسنِ ازل: قدرت کا حسن ۔
مطلب: تمہاری دنیا میں جس خطے کا نام بہشت ہے کیا وہ کوئی باغیچہ ہے یا آرامگاہ ہے یا پھر اس مقام پر حسن ازل بے نقاب ہو کر سامنے آ گیا ہے ۔

 
کیا جہنم معصیت سوزی کی اک ترکیب ہے 
آگ کے شعلوں میں پنہاں مقصدِ تادیب ہے 

معانی: معصیت سوزی: گناہ جلانے کا عمل ۔ مقصدِ تادیب: ادب سکھانے، تنبیہ کی غرض ۔
مطلب: اقبال خفتگان خاک سے سوال کرتے ہیں کہ یہ تو بتاوَ! کیا جہنم جو ہے اس کے شعلوں میں گنہگاروں کو ڈال کر سزا دینا ہے یا پھر یہی شعلے گنہگاروں کو بھسم کرنے کا ذریعہ ہیں ۔

 
کیا عوض رفتار کے اس دیس میں پرواز ہے 
موت کہتے ہیں جسے اہلِ ز میں ، کیا راز ہے 

معانی: رفتار: زمین پر چلنا ۔
مطلب: اس دنیا میں تو انسان اپنے مادی جسم کے باوجود محو پرواز رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن تمہاری دنیا میں بھی کیا یہی صورت ہے یہ بھی بتاوَ! کہ ہم جس شے کو موت کہتے ہیں کیا تم اس راز سے آگاہ ہو

 
اضطرابِ دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے 
علمِ انساں اس ولایت میں بھی کیا محدود ہے 

معانی: ہست و بود: مراد موجودات کی دنیا، یہ کائنات ۔ محدود: مختصر ۔
مطلب: اے اہلِ قبور! ہماری دنیا میں تو زندگی اور موت کا مسئلہ انتہائی اضطراب کا سبب ہے ۔ کیا تمہاری دنیا میں بھی علم اتنا ہی محدود ہے ۔

 
دید سے تسکین پاتا ہے دلِ مہجور بھی 
لن ترانی کہہ رہے ہیں یا وہاں کے طور بھی 

معانی: دید: مراد محبوب حقیقی کا دیدار ۔ مہجور: ہجر، فراق کا شکار ۔ لن ترانی: تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ۔ طور: طورِ سینا۔
مطلب: محبوب کی ایک جھلک سے کیا وہاں بھی سکون قلب حاصل ہوتا ہے یا پھر کوہ طور پر اس دنیا میں حضرت موسیٰ کو خدا نے اپنا جلوہ دکھانے سے انکار کیا تھا کیا وہاں بھی ایسا ہوتا ہے ۔

 
جستجو میں ہے وہاں بھی روح کو آرام کیا 
واں بھی انساں ہے قتیلِ ذوقِ استفہام کیا 

معانی: جستجو: تلاش ۔ قتیل: مراد جان چھڑکنے والا ۔ ذوقِ استفہام: سوال کرنے کا شوق ۔
مطلب: کیا تمہاری دنیا میں بھی تحقیق و جستجو سے روح کو آسودگی نصیب ہوتی ہے اور کیا وہاں بھی فرد عقل و فہم کا ادرا رکھتا ہے ۔

 
آہ! وہ کشور بھی تاریکی سے کیا معمور ہے 
یا محبت کی تجلی سے سراپا نور ہے

معانی: کشور: ملک ۔ معمور: بھری ہوئی ۔
مطلب: مجھے اتنا بتادو کہ تمہاری محبت کی تجلی سے نور کا سراپا بنی ہوئی ہے یا وہاں بھی نفرتوں کی تاریکی چھائی ہوئی ہے ۔

 
تم بتا دو راز جو اس گبندِ گرداں میں ہے 
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دلِ انساں میں ہے 

مطلب: کائنات کا سب سے بڑا راز موت ہے جو منکشف نہ ہونے کے سبب قلب انسان میں کانٹے کی طرح معلق ہے ۔