Please wait..

ملا زادہ ضیغم لولابی کشمیری کا بیاض
(۱۱)

 
تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ
کوئی بتائے یہ مسجد ہے یا کہ میخانہ

معانی: تمام: سب ۔ عارف: خدا کی پہچان کرنے والے ۔ عامی: عام آدمی ۔ خودی: اپنی پہچان کرنا ۔ بے گانہ: خالی ۔ مسجد: مسلمانوں کی عبادت کی جگہ ۔ میخانہ: شراب خانہ ۔
مطلب: علامہ نے اس شعر میں عہد حاضر کے کشمیری مسلمانوں کو خصوصاً اور دنیا کے سارے مسلمانوں کو عموماً پیش نظر رکھتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے مسلمان چاہے ان میں خدا تک پہنچنے کا دعویٰ کرنے والے صوفی و عالم کیوں نہ ہوں اپنی معرفت اور اپنے خدا کی معرفت سے بے گانہ ہیں ۔ عام مسلمان آدمی کی بات چھوڑئے جب خواص کا یہ حال ہے تو مسلمان بحیثیت فرد اور بحیثیت قوم اگر ذلت اور غلامی کی زندگی بسر کر رہا ہے تو اس میں حیرانی کیا ہے ۔ اگر مسلمان کو معلوم ہوتا کہ اللہ نے ان کا کیا مرتبہ بنایا ہے اور ان کے ذمہ دنیا کو ہدایت پر رکھنے کے لیے کیا فراءض عائد ہیں تو وہ ان کے پیش نظر اپنی زندگیوں کو ڈھالتے ہوئے غلامی کی بجائے حکمرانی کا فریضہ ادا کر رہے ہوتے ۔ آج کے مسلمان نے مسجد کو شراب خانہ بنا رکھا ہے ۔ مراد یہ نہیں کہ واقعی وہاں شراب بکتی اور پی جاتی ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ مسلمان نے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اللہ کے احکام کو چھوڑ کر غیر اللہ کے احکام کو نافذ کر رکھا ہے ۔ جن مسلمانوں کو قرآن و شریعت کی روشنی میں زندگی بسر کرتے ہوئے دوسروں کی راہنمائی کرنی چاہیے تھی وہ آج خود دوسروں کی راہنمائی میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اور اس طرح مسلمان ہوتے ہوئے اسلامی کی بجائے غیر اسلامی ماحول میں سانس لے رہے ہیں ۔

 
یہ راز ہم سے چھپایا ہے میرِ واعظ نے
کہ خود حرم ہے چراغِ حرم کا پروانہ

معانی: راز: بھید ۔ میر واعظ: وعظ سے مراد دینی نصیحت ۔ میر واعظ: بڑا نصیحت کرنے والا ۔ حرم: کعبہ ۔ چراغ کعبہ: کعبہ کا دیا، شمع ۔ پروانہ: پتنگا ۔
مطلب: کشمیری دینی حلقہ میں وعظ کرنے والوں میں بڑے واعظ کا لقب چونکہ میر واعظ ہے اس لیے اس شعر میں کشمیر کے بڑے واعظ کے حوالے سے خصوصاً اور ہر جگہ کے مسلمان واعظوں کے متعلق عموماً یہ بات کہی گئی ہے کہ اس نے مسلمانوں کی راز کی یہ بات نہیں بتائی کہ کعبہ خود اپنے چراغ کا پتنگا ہے ۔ یہاں کعبہ کنایہ یا اشارہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف اور چراغ حرم کنایہ یا اشارہ ہے اللہ سے محبت کرنے والے مسلمانوں کی طرف ۔ قرآن و حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جو مسلمان اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں اللہ ان سے محبت کرتا ہے ۔ یہ ایسی پتہ کی بات ہے جس کو اگر ہمارے واعظ ہمیں بتاتے تو ہم اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی محبت میں گرفتار نہ ہوتے اورا سکے نتیجے میں غلامی کی زندگی بسر نہ کرتے اور ذلیل و خوار نہ ہوتے ۔

 
طلسمِ بے خبری، کافری و دیں داری
حدیثِ شیخ و برہمن فسوں و افسانہ

معانی: طلسم: جادو ۔ بے خبری: بے عملی ۔ کافری: خدا کا انکار کرنا، غیر اسلامی ۔ دینداری: خدا کا اقرار کرنا ۔ حدیث: کہانی، داستان ۔ شیخ: مسلمانوں کا مذہبی راہنما ۔ برہمن: ہندووَں کا مذہبی رہنما ۔ فسون: جادو ۔ افسانہ: خیالی کہانی ۔
مطلب: آج کل کے مسلمان علما بے علمی کے جادو میں گرفتار معلوم ہوتے ہے اور دین اور بے دینی میں واضح تمیز سے ناواقف دکھائی دیتے ہیں ۔ شیخ اور برہمن میں فرق کی داستان جادو کی اور خیالی کہانی کی سی رہ گئی ہے ۔ مسلمان علما دین کی صحیح روح سے بے خبری اور بے علمی کی بدولت مسلمانوں کو کافر بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اگرچہ وہ خود کافرانہ روایات کے پرستار نظر آتے ہیں ۔

 
نصیبِ خطہ ہو یارب وہ بندہَ درویش
کہ جس کے فقر میں انداز ہوں کلیمانہ

معانی: نصیب ہو: قسمت میں ہو ۔ خطہ: علاقہ، یہاں مراد کشمیر کا علاقہ ۔ بندہ درویش: فقیر، ولی ۔ فقر: درویشی، ولایت ۔ انداز: اسلوب، طریقہ ۔ کلیمانہ: حضرت موسیٰ کی طرح اللہ تعالیٰ سے کلام کرنا ۔
مطلب: اس شعر میں علامہ نے ملا ضیغم لولابی کی زبان سے آرزو کی ہے اور اللہ سے دعا مانگی ہے کہ یا رب کشمیر کے علاقہ میں کوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا زمانے کے فرعونوں سے ٹکر لینے والا درویش بھیج جو کشمیریوں کو ہندووَں کے راج سے اسی طرح نجات دلائے جس طرح حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلائی تھی ۔ ظاہر ہے مسلمان درویش، جو بخود فانی اور بحق باقی ہوتا ہے پیغمبر تو نہیں ہوتا لیکن پیغمبروں کے علم اور روایات کا وارث ہونے کی بنا پر اس کی زندگی کا انداز پیغمبرانہ ہوتا ہے ۔

 
چھپے رہیں گے زمانہ کی آنکھ سے کب تک
گہر ہیں آبِ ولر کے تمام یک دانہ

معانی: گہر: موتی ۔ آب: پانی ۔ ولر: کشمیر کی ایک جھیل کا نام ۔
مطلب: کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے قریب ولر نامی جو جھیل ہے اس کے سارے موتی سڈول ہموار اور بے مثل ہیں ان کی صحیح شناخت اور ان کی قیمت زمانے کے جوہریوں سے کبھی تک چھپی رہے گی ۔ یہاں جھیل ولر کیایہ ہے خطہ کشمیر کی طرف اور گہر کنایہ ہے کشمیریوں کی طرف جوبے مثل موتیوں کی طرح اپنے اندر بہت سی خوبیاں اور صلاحتیں رکھتے ہیں لیکن غلامی کی وجہ سے ان کی یہ صلاحتیں بروئے کار نہیں آ رہی ہیں اور ان کی خوبیاں اجاگر نہیں ہو رہی ہیں ۔ خدا کرے انہیں آزادی کی فضا میں سانس لینا نصیب ہو تا کہ ان کے پوشیدہ جوہر دنیا والوں کے سامنے آ سکیں ۔

(۱۲)

 
دِگر گوں جہاں ان کے زورِ عمل سے
بڑے معرکے زندہ قوموں نے مارے

معانی: دگر گوں : انقلاب سے دوچار ہونا ۔ جہاں : دنیا ۔ زور عمل: عمل کی طاقت ۔ زندہ قوم: جو قوم آزاد اور باعمل ہے ۔ معرکے مارنا: مشکلات پر قابو پانا، فتوحات کرنا، تسخیر کرنا ۔
مطلب: علامہ غلام کشمیری مسلمانوں کو بتا رہے ہیں کہ اپنی حالت کو بدلنے کے لیے اپنے اندر عمل کی قوت پیدا کرنی چاہیے جو قو میں عمل کی وجہ سے آزاد اور دوسروں پر فوقیت و غلبہ رکھتی ہیں انھوں نے عمل کی بدولت دنیا میں بڑے بڑے انقلاب پیدا کیے ہیں ۔ دنیا کو اور اس کی پوشیدہ طاقتوں کو تسخیر کر کے انھوں نے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیئے ہیں ۔ بڑی بڑی فتوحات کی ہیں نت نئی ایجادات دنیا کے سامنے لائے ہیں ۔ اس لیے تمہیں بھی پہلے اپنے اندر ان کی طرح کا زور عمل پیدا کرنا چاہیے جب تم بدل جاوَ گے تمہارے حالات بدل جائیں گے ۔

 
منجم کی تقویمِ فردا ہے باطل
گرے آسماں سے پرانے ستارے

معانی: منجم: ستاروں کا علم جاننے والا، ستاروں کے علم کے ذریعے پیشین گوئی کرنے والا، نجومی ۔ تقویم فردا: آنے والی کل کی متعلق بتانے والی جنتری ۔ تقویم: ستاروں کا حساب کتاب بتانے والی کتاب ۔ فردا: آنے والی کل ۔ باطل: جھوٹ ۔
مطلب: زندہ قو میں نجومیوں کی ان پیش گوئیوں پر بھروسہ نہیں کرتیں جو وہ ستاروں کے برجوں اور چالوں کے علم کے ذریعے کرتے ہیں ۔ ان پر یقین کرنا غلام اور بے عمل قوموں کا شیوہ ہے کہ اس طرح وہ آئندہ کے اندازوں پر یقین کر کے اس امید پر ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھی رہتی ہیں کہ نجومی کے کہنے کے مطابق بھلا وقت آنے والا ہے آزاد قو میں ان نجومیوں کی پیش گوئیوں کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے عمل کی راہ پر گامزن رہتی ہیں اور اپنی طاقت، ہمت اور حوصلے سے اپنی حالت کو بدل دیتی ہیں ۔ وہ آسمان پر چمکنے والے ستاروں کو اپنی قسمت کے بدلنے یا نہ بدلنے والے نہیں سمجھتی اور اس لحاظ سے آسمانوں پر ان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتیں اور نجومیوں کے مستقبل کے متعلق خبریں بتانے والی کتاب کو جھوٹ کا ایک پلندہ جانتی ہیں ۔

ضمیرِ جہاں اس قدر آتشیں ہے
کہ دریا کی موجوں سے ٹوٹے ستارے

معانی: ضمیر: دل، اندرون ۔ آتشیں : آگ سے بھری ہوئی ۔
مطلب: جہان کا دل آگ سے اس قدر بھرا ہوا ہے کہ بعض اوقات آسمان کی بجائے دریاؤں سے ستارے ٹوٹنے لگتے ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ انقلاب کی اس قوت کی وجہ سے جو جہان کی ذات میں آگ کی طرح پوشیدہ ہے ایسے ایسے معرکے اور کارنامے ظاہر ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے ۔

 
زمیں کو فراغت نہیں زلزلوں سے
نمایاں ہیں فطرت کے باریک اشارے

معانی: فراغت ۔ فرصت ۔ زلزلہ: بھونچال ۔ نمایاں : ظاہر ۔ فطرت: قدرت ۔
مطلب: علامہ نے مسلمانوں کو بھونچال کی مثال دے کر انقلاب برپا کرنے کی طرف رغبت دلائی ہے اور کہا ہے دیکھو زمین کے اندر زلزلے پوشیدہ ہیں اور زمین ان سے کسی وقت خالی نہیں رہتی ۔ جب کہیں الٹ پلٹ کرنا ہو تو زلزلے جاگ اٹھتے ہیں اور زمین کی حالت کو دگرگوں کر دیتے ہیں ۔ تبدیل کر دیتے ہیں ۔ زلزلوں کے اس عمل سے قدرت تمہیں یہ اشارہ دے رہی ہے کہ زلزلوں کی طرح کی قوت انقلاب تمہارے اندر بھی موجود ہے اس قوت سے کام لو اور اپنی غلامی کے جہان کو تہ و بالا کر کے آزادی کی نئی دنیا بساوَ ۔

 
ہمالہ کے چشمے اُبلتے ہیں کب تک
خضر سوچتا ہے وُلر کے کنارے

معانی: ہمالہ کے چشمے: وہ چشمے جو ہمالہ پہاڑ میں ہیں ۔ خضر: ایک شخص جو بھولے بھٹکوں کی راہنمائی کرنے اور ڈوبتے بیڑوں کو پار لگانے کے لیے بیابانوں اور دریاؤں میں رہتا ہے ۔ ولر: جھیل ولر جو کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے پاس ہے ۔
مطلب: آخر میں علامہ کہتے ہیں کہ جھیل ولر کے کنارے کھڑا خضر یہ سوچ رہا ہے کہ جب ہر جگہ انقلاب برپا ہو رہا ہے ہمالہ کے دامن میں آباد کشمیر کے خطے کی جھیل ولرکا پانی اور اس میں موجود چشموں کا پانی کب اپنے اندر حرارت پیدا کر کے ابلے گا ۔ مراد یہ ہے کہ اہل کشمیر جو اس وقت غلامی میں جکڑے ہوئے بے بسی اور بے چارگی کی زندگی بسر کر رہے ہیں دیکھیے ان کے اندر غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزاد ہونے کا جذبہ اور انقلاب برپا کرنے کا خیال کب پیدا ہوتا ہے ۔