Please wait..

جدت

 
دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے
افلاک منور ہوں ترے نورِ سحر سے

معانی: جدت: نیا پن ۔ افلاک: فلک کی جمع، آسمان ۔ نور سحر: صبح کی روشنی ۔
مطلب: تو چونکہ اپنی خودی سے نا آشنا ہے اس لیے تو زمانے کو دوسروں کی نظر سے دیکھتا ہے اسی لیے تجھے اس میں کوئی نیا پن نظر نہیں آتا ۔ اگر تو خود آشنا ہو کر اپنی نظر سے زمانے کو دیکھے تو یقین رکھ کہ آسمان اس صبح کی روشنی سے جسے تو نے اپنی نظر کے زاویے سے دیکھا ہو گا روشن ہو جائے گا اور یہ تیرا زمانہ تجھے نیا نظر آئے گا ۔

 
خورشید کرے کسبِ ضیا تیرے شرر سے
ظاہر تری تقدیر ہو سیمائے قمر سے

معانی: خورشید: سورج ۔ کسب ضیا: روشنی حاصل کرنا ۔ شرر: چنگاری ۔ سیمائے قمر: چاند کی پیشانی ۔
مطلب: اگر تو خودآشنا اور خودی آشنا ہو کر اپنی نظر سے جہان کو دیکھے اور غیر کی نظر سے نہ دیکھے تو تو دیکھے گا کہ تیری نظر کی اس چنگاری سے سورج روشنی حاصل کرے گا اور تیری قسمت چاند کی پیشانی سے ظاہر ہو گی یعنی یہ سب تیری مرضی کے تابع ہو ں گے ۔

 
دریا متلاطم ہوں تری موجِ گہر سے
شرمندہ ہو فطرت ترے اعجازِ ہنر سے

معانی: متلاطم ہوں : طوفان آ جائے، ہلچل پیدا ہو جائے ۔ موج گہر: موتی کی لہر ۔ اعجاز ہنر: جن کی انوکھی شان ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال نے پہلے شعر کی طرح خود آشنا اور خودی آشنا نظر کے متعلق مزید بات کرتےہوئے کہا ہے کہ یہ موتی کی ایک ایسی لہر ہے جس سے دریاؤں میں طوفان آ جائے اور اس نظر سے جو انوکھا فن تو پیدا کرے گا قدرت اس کے سامنے شرمندہ ہو گی کہ ایسا فن تو میں بھی پیدا نہیں کر سکتی ۔

 
اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی
کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی

معانی : اغیار: غیر کی جمع ۔ فکار: خیالات ۔ تخیل کی گدائی: غیروں کے افکار کی بھیک مانگنا ۔ رسائی: پہنچ ۔
مطلب: اس آخری شعر میں شاعر نے پہلے تین اشعار کا نچوڑ بیان کیا ہے کہ جب تک آدمی کی اپنی خودی تک پہنچ نہیں ہو گی یعنی وہ خود آشنا نہیں ہو گا اور جب تک وہ غیروں کے خیالات کی بھیک مانگتا رہے گا اور اپنے خودی آشنا خیالات سے زمانے کو نہیں دیکھے گا زمانے میں اس کے لیے نیا پن پیدا نہیں ہو سکتا ۔ شاعر کے نزدیک جدت یعنی نیا پن کے لیے اپنی خودی تک رسائی ضروری ہے اور غیروں کے افکار و خیالات پر جینا چھوڑنا لازمی ہے ۔