Please wait..

شعاع امید
(1)

 
سورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام
دنیا ہے عجب چیز! کبھی صبح کبھی شام

معانی: شعاعوں : کرنوں ۔ پیغام: یعنی سمجھایا ۔
مطلب:سورج نے اپنی کرنوں کو یہ پیغام دیا کہ اس دنیا کو بھی اللہ تعالیٰ نے عجیب بنایا ہے کبھی اس میں میرے نکلنے سے صبح طلوع ہوتی ہے اور کبھی میرے غروب ہونے سے شام کا اندھیراچھا جاتا ہے ۔

 
مدت سے تم آوارہ ہو پہنائے فضا میں
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بے مہریَ ایام

معانی: پہنائے فضا: فضا کی وسعت ۔ بے مہری ایام: زمانے کا ظلم ۔
مطلب : سورج مزید کہتا ہے کہ اے کرنو! تم ایک عرصہ سے فضا کی وسعت میں منتشر ہو اور اشیائے زمانہ پر تم اپنا پرتو ڈال رہی ہو لیکن اس کے مقابلے میں زمانے کے ظلم کو دیکھو کہ وہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے تمہیں روندتا ہوا چلا جا رہا ہے ۔ اور تمہارے احسان اور محبت کی کوئی قدر نہیں کر رہا ۔

 
نے ریت کے ذرّوں پہ چمکنے میں ہے راحت
نے مثلِ صبا طوفِ گل و لالہ میں آرام

معانی: نے: نہ ۔ راحت: آرام ۔ مثل: مانند ۔ صبا: صبح کی نرم اور لطیف ہوا جس کے اثر سے پھول کھلتے ہیں ۔ طواف گل و لالہ: گلا ب کے اور لالہ کے پھولوں کے پھیرے لینا ۔
مطلب: سورج اپنی کرنوں کو مزید یہ کہتا ہے کہ تم مٹی اور ریت کے ذروں میں چمک پیدا کرتی ہو لیکن جواب میں وہ تمہیں کوئی آرام نہیں پہنچاتے ۔ جس طرح صبح کی نرم اور لطیف ہوا پھولوں کو کھلانے کے لیے گلاب اور لالہ کے پھولوں کے پھیرے لیتی ہے لیکن اس احسان کے بدلے میں وہ صبا کو آرام تک بھی نصیب نہیں کرتے اسی طرح تمہارے احسان کا بھی کوئی شے بدلہ نہیں چکاتی ۔

 
پھر میرے تجلی کدہَ دل میں سما جاوَ
چھوڑو چمنستان و بیابان و در و بام

معانی: تجلی کدہَ دل: تجلیات بھرا دل ۔ چمنستان: گلستان، باغ ۔ دروبام: آبادی، شہر ۔
مطلب: سورج کہتا ہے اے میری کرنو! جب تمہارے رحم کے بدلے تم پر ظلم کیا جاتا ہے اور جب تمہارے احسانات کا کوئی بدلہ نہیں چکایا جاتا تو بہتر یہ ہے کہ تم سمٹ جاوَ اور میرے دل کی جلوہ گاہ میں بند ہو جاوَ ۔ باغ، بیابان اور آبادیوں کو بلکل چھوڑ دو اور کہیں بھی چمکنا اور دمکنا بند کر دو ۔

(۲)

 
آفاق کے ہر گوشہ سے اٹھتی ہیں شعاعیں
بچھڑے ہوئے خورشید سے ہوتی ہے ہم آغوش

معانی: آفاق: افق کی جمع، دنیا، کائنات ۔ شعاعیں : کرنیں ۔ ہم آغوش: بغل گیر ۔ خورشید: سورج ۔
مطلب: پہلے حصے میں سورج کی کرنوں کو یہ کہنے پر کہ تم اشیاء پر چمکنا چھوڑ دو کائنات کے ہر کونے میں کرنوں نے اٹھنا شروع کیا اور اس طرح سے بغل گیر ہو گئیں (دوبارہ سورج میں سما گئیں ) جس طرح سے الگ ہو کر وہ دنیا اور اس کی اشیاء کو چمکا رہی تھیں ۔

 
اک شور ہے مغرب میں اجالا نہیں ممکن
افرنگ مشینوں کے دھوئیں سے ہے سیہ پوش

معانی: اجالا: روشنی ۔ افرنگ: اہل مغرب ۔ سیہ پوش: کالے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ۔
مطلب: علامہ سورج کو اپنی کرنیں واپس لینے پر کہتے ہیں کہ ان کرنوں سے چیزیں تو ضرور روشن ہو رہی ہیں لیکن مغربی تہذیب و تمدن کی تاریکی ان کرنوں کی روشنی کو تاریکی میں بدل رہی ہے اس لیے ہر طرح شور برپا ہے کہ مغربی تہذیب و تمدن کی تاریکی ان کرنوں کی روشنی کو تاریکی میں بدل رہی ہے اس لیے ہر طرف شور برپا ہے کہ مغرب میں روشنی کا ہونا ممکن نہیں ۔ اہل مغرب کو دیکھیں کہ وہ مادہ کے پجار ی ہو چکے ہیں اور مشینیں (کارخانے) لگا کر اس کی چمنیوں کے دھوئیں کی وجہ سے سیاہ کپڑے پہننے والے بن گئے ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ نہ ان کے جسم (طہارت نہ ہونے کی وجہ سے) پاک اور نہ ان کے دلوں میں نور ہے ۔ ایسے حالات میں کرنوں کا ان پر چمکنا بے فائدہ ہے ۔

 
مشرق نہیں گو لذّتِ نظارہ سے محروم
لیکن صفتِ عالمِ لاہوت ہے خاموش

معانی: لذت نظارہ: چیزوں کو دیکھنے کا شوق ۔ محروم: بیگانہ ۔ صفت عالم لاہوت: فرشتوں کے جہان کی مانند ۔
مطلب: اہل مغرب کے مقابلے میں اہل مشرق میں نظاروں کو دیکھنے کی چاشنی موجود ہے اور وہ اس ذوق سے بیگانہ نہیں ہیں لیکن وہ عملاً کچھ نہیں کر رہے ۔ ان کی مثال تو فرشتوں کی دنیا کی سی ہے جہاں کوئی ہنگامہ نہیں ہے ۔

 
پھر ہم کو اسی سینہَ روشن میں چھپا لے
اے مہرِ جہاں تاب نہ کر ہم کو فراموش

معانی: مہر جہاں تاب: دنیا کو روشن کرنے والا سورج ۔ فراموش کرنا: بھول جانا ۔
مطلب: اس پس منظر میں جس کا ذکر اہل مغرب اور اہل مشرق کے سلسلے میں مذکورہ بالا شعروں میں ہوا ہے کرنیں اتنی مایوس ہو جاتی ہیں کہ وہ جہان کے روشن کرنے والے اس سورج کو جس سے وہ جدا ہوئی ہیں فریاد کرتی ہیں کہ اے سورج تو ہمیں بھول مت اور ہمیں سمیٹ کر دوبارہ اپنے روشن سینے میں بند کر لے کیونکہ ایسی دنیا میں ہمارا چمکنا بے کار اور فضول ہے ۔

(۳)

اک شوخ کرن، شوخ مثالِ نگہِ حُور
آرام سے فارغ صفتِ جوہر سیماب

معانی: صفتِ جوہر سیماب: پارے کی اصلیت کی مانند جس کی صفت ہر وقت تڑپتے رہنا ہے ۔ شوخ: نخرے والی ۔ کرن: شعاع ۔ حور: جنت کی حسین عورت ۔ صفت: مانند ۔
مطلب: جب کرنوں نے سورج سے یہ کہا کہ ہمیں سمیٹ لے اور اپنے اندر جذب کر لے تو ان میں سے ایک کرن جو جنت کی حور کی نگاہ کی مانند شوخ تھی اور پارے کی تڑپ کی صفت کی مانند چین اور آرام سے فارغ تھی یعنی بیقرار تھی کہنے لگی

 
بولی کہ مجھے رخصتِ تنویر عطا ہو
جب تک نہ ہو مشرق کا ہر اک ذرہ جہاں تاب

معانی: سورج کی ان گنت کرنوں میں سے ایک کرن جو بڑی شوخ تھی، سورج سے کہنے لگی کہ ساری کرنیں چاہیں تو سمٹ جائیں لیکن میں نہیں سمٹنا چاہتی ۔ اے سورج مجھ کو اجازت دے کہ میں اس روئے زمین پر اس وقت تک چمکتی رہوں جب تک کہ میں مشرقی دنیا کے ایک ایک ذرے کو ، پورے جہان کو روشن کرنے والا ذرہ نہ بنا لوں ۔ مراد ہے جملہ اہل مشرق میں بیداری نہ پیدا کر لوں ۔

 
چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضا کو
جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردانِ گراں خواب

معانی: مردانِ گراں خواب: گہری نیند سوئے ہوئے لوگ ۔ ہند: ہندوستان ۔ تاریک: سیاہ ۔
مطلب: وہ شوخ کرن سورج سے مزید کہنے لگی مجھے چمکنے کی اس وقت تک کی مہلت دو جب تک کہ میں ہند کی اندھیری فضا کو روشن نہ کر لوں اور جب تک اس ملک کے گہری نیند سوئے ہوئے لوگ نیند سے جاگ نہیں پڑتے اور ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو جاتے ۔

 
خاور کی امیدوں کا یہی خاک ہے مرکز
اقبال کے اشکوں سے یہی خاک ہے سیراب

معانی: خاور: مشرق ۔ اشک: آنسو ۔ خاک: مٹی ۔ زمین: ملک، مرکز: محور ۔ سیراب ہونا: نم والی ہونا ۔
مطلب: یہ خاک یعنی برصغیر کی مٹی چونکہ اقبال کے آنسووَں سے سیراب ہو چکی ہے اس لیے اس میں سے مشرق اور اہل مشرق کی امیدوں کے پودوں کا نکلنا اور بڑھنا ممکن ہے ۔ اسی لیے برصغیر کی خاک تمام مشرقی ممالک اور جملہ اہل مشرق کی امیدوں کا مرکز ہے ۔

 
چشم مہ و پرویں ہے اسی خاک سے روشن
یہ خاک کہ ہے جس کا خرف ریزہ دُرِ ناب

معانی: چشم مہ و پرویں : چاند اور ثریا کی آنکھیں ۔ خرف ریزہ: ٹھیکری ۔ درناب: خالص موتی، سچا موتی ۔
مطلب: اس ملک کی یعنی برصغیر کی مٹی کو خالق نے ایسی روشنی عطا کی ہے کہ جس سے چاند اور ثریا ستارے کی آنکھیں بھی روشن ہیں ۔ یہ مٹی وہ ہے کہ اس کی ہر ٹھیکری یا سنگ ریزہ خالص اور سچے موتی کے برابر ہے ۔

 
اس خاک سے اٹھے ہیں وہ غواصِ معانی
جن کے لیے ہر بحرِ پر آشوب ہے پایاب

معانی: غواص معانی: معانی کے دریا میں غوطہ لگانے والے ۔ بحر پر آشوب: طوفان بھرا اور تلاطم خیز سمندر ۔ پایاب: پاؤں پر چل کر گزر جانےوالا یعنی قدر براربر چوڑا ۔
مطلب: برصغیر کی مٹی سے ایسے ایسے لوگ اٹھے ہیں جنھوں نے معانی کے سمندر میں غوطے لگائے ہیں یعنی یہاں اعلیٰ درجے کے مفکر اور درویش پیدا ہوئے ہیں اور یہ معانی کے سمندر میں غوطہ لگانے والی شخصیتیں ایسی بلند ارادہ اور بلند حوصلہ تھیں کہ طوفانی سمندروں کو بھی خاطر میں نہیں لاتی تھیں اور ان کو صرف ایک قدم کا فاصلہ سمجھتی تھیں ۔

 
جس ساز کے نغموں سے حرارت تھی دلوں میں 
محفل کا وہی ساز ہے بیگانہَ مضراب

معانی: مضراب: ساز کو بجانے والی وہ چیز جو سازندہ کی انگلی میں ہوتی ہے ۔ ساز: موسیقی کا آلہ ۔ نغمہ: راگ ۔
مطلب: اس شعر میں شاعر نے برصغیر کو ایک ساز کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ جس طرح ساز کو بجانے والے انگلی میں موجود آلہ سے جب کوئی سازندہ محروم ہوتا ہے تو وہ ساز کے تاروں سے نغموں کو باہر نہیں لا سکتا اسی طرح برصغیر کی بھی یہی حالت ہو گئی ہے کہ جس میں کبھی بڑے بڑے رشی، منی ، مجدد، ولی، درویش ، شاعر، ادیب ، مفکر ، مصور اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ پیدا ہوتے تھے اب بدقسمتی سے اس ملک میں پیدا نہیں ہو رہے ۔

 
بُت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے برہمن
تقدیر کو روتا ہے مسلماں تہِ محراب

معانی: تہ محراب: مسجد کی محراب کے نیچے ۔ برہمن: ہندووَں کا مذہبی پیشوا ۔
مطلب: برصغیر میں چونکہ دو بڑی قو میں موجود ہیں جن میں سے ایک قوم بتوں کو پوجنے والی یعنی ہندو قوم ہے اور دوسری توحید خدا کو ماننے والی یعنی مسلمان قوم ہے ۔ ان دونوں قوموں کے متعلق اقبال کہتے ہیں کہ ہندووَں کے پیشوا یعنی برہمن بت خانوں کے دروازوں پر پڑے غافل سو رہے ہیں اور مسلمانوں کے پیشوا مسجدوں کی محرابوں کے تلے بیٹھے اپنی بدقسمتی پر آنسو بہا رہے ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ دونوں قو میں آرزوئے آزادی و ترقی سے محروم غفلت کی نیند سوئی ہوئی ہیں ۔

 
مشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

معانی: حذر کرنا: بچنا ۔ شب: رات ۔ سحر: صبح ۔ بیزار: دل برداشتہ ۔ فطرت: قدرت ۔
مطلب: ان جملہ مایوس کن حالات کے ہوئے ہوئے وہ کرن جس نے دوسری کرنوں سے الگ چمکتے رہنے کا فیصلہ کیا تھا کہتی ہے کہ نہ میں مشرق اور اہل مشرق سے دل برداشتہ ہوں اور نہ میں مغرب اور اہل مغرب سے دامن کو بچانا چاہتی ہوں ۔ میرے ذمے تو قدرت نے چمکتے رہنے کا فرض سونپا ہوا ہے اور ہر رات کو صبح میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری لگائی ہوئی ہے اس لیے میں تو اس امدی پر مشرق اور مغرب دونوں کی سرزمین پر چمکتی رہوں گی کہ شاید ان میں سے کوئی یا دونوں میری روشنی سے منور ہو جائیں اور حقیقت کو پا لیں ۔