Please wait..

وجود

 
اے کہ ہے زیرِ فلک مثل شرر تیری نمود
کون سمجھائے تجھے کیا ہیں مقاماتِ وجود

معانی: وجود: جسم، ہستی ۔ زیرِ فلک: آسمان کے نیچے ۔ مثل شرر: چنگاری کی مانند ۔ نمود: ظہور ۔ مقامات وجود: ہستی کے مراتب ۔
مطلب: عام آدمی کی مثال دیتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ اس آسمان کے نیچے یعنی دنیا میں تیری ہستی چنگاری کی مانند ہے کہ ابھی ہے اور ابھی نہیں ہے ۔ یعنی تو آنی اور فانی ہے لیکن ہستی آدمی کے اور مراتب بھی ہیں یہ تمہیں کون سمجھائے اگر تیری سمجھ میں ان مراتب کی بات آ جائے تو پھر تو آنی اور فانی نہیں رہے گا جاودانی ہو جائے گا اور یہ مراتب خودی کی تکمیل سے حاصل ہوتے ہیں ۔

 
گر ہنر میں نہیں تعمیرِ خودی کا جوہر
وائے صورت گری و شاعری و نائے و سرود

معانی: ہنر: فن ۔ تعمیر خودی: خودی کا پیدا کرنا ۔ جوہر: صلاحیت ۔ وائے : افسوس ہے ۔ صورت گری: مصوری ۔ نائے : ساز ۔ سرورد: نغمہ ، گانا ۔
مطلب: اے فن کار اگر تیرے فن میں خودی کی تعمیر نہیں ہے اورخودی کی جھلک موجود نہیں ہے تو تیرے ایسے فن پر افسوس ہے چاہے یہ فن مصوری کا ہو چاہے سازوموسیقی اور شعر و و ادب کا ۔

 
مکتب و میکدہ جُز درس نبودن ندہند
بودن آموز کہ ہم باشی و ہم خواہی بود

مطلب : جدید دور کے مدرسے اور میخانے طالب علموں اور شراب نوشوں کو اپنی ہستی کو فنا کر دینے کا درس دیتے ہیں سوائے اپنے نہ ہونے کے کوئی اور سبق نہیں دیتے ۔ اے شخص ایسا علم پڑھ اور ایسی شراب پی کہ جس کے پڑھنے اور پینے سے اس دنیا میں بھی تو قائم رہے اور تجھے بقا نصیب ہو اور مرنے کے بعد بھی تو زندہ رہے اور باقی رہے ۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم وہ شراب پئیں جو چودہ سو سال پہلے اسلام نے پلائی تھی اور جس کو پی کر مسلمان خود مست و خدا مست بن گئے تھے اور دنیا بھر میں سرفراز و حکمران ہو گئے تھے ۔