Please wait..

(3)

 
وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
خدا مجھے نفسِ جبرئیل دے تو کہوں

معانی: جنوں : دیوانگی ۔ نفس: سانس ۔
مطلب: عشق الہٰی کے جنون نے بقول اقبال مجھے ایسا شعور بخش دیا ہے جس کے طفیل میں ایسے رازہائے دروں پردہ سے آگاہ ہو گیا ہوں کی جن کا انکشاف خود اپنی زبان سے کیا جانا ممکن نہیں کہ اس مقصد کے لیے جبرئیل ا میں جیسی صلاحیت درکار ہے ۔ جبرئیل ہی کو فرشتوں میں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وحی الہٰی پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد کو پہنچایا کرتے تھے ۔ اقبال کا کہنا ہے کہ جو الہامی کیفیت رازوں کی شکل میں میرے پاس محفوظ ہیں ان کے انکشاف اور ترسیل کے لیے جبرئیل جیسے کسی فرشتے کی ضرورت ہے ۔

 
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبوں

معانی: تقدیر کی خبر: قسمت کے حال کا علم ۔ فراخیِ افلاک: آسمان کی وسعت ۔ خوارو زبوں : بے وقعت ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال اپنی ذات کے حوالے سے ان نجومیوں کی کارکردگی پر طنز کرتے ہیں جو ستاروں کے حساب سے لوگوں کی تقدیر اور ان کے احوال کے بارے میں انکشافات کا دعویٰ کر کے محض مادی مفادات حاصل کرتے ہیں ۔ اقبال کا کہنا ہے کہ ستارے تو خود آسمانوں کی پہنائیوں میں سرگرداں رہتے ہیں ۔ انہیں تو خود ہی اپنے وجود کے بارے میں کسی قسم کا علم نہیں تو پھر دوسروں کے مقدر کا انکشاف ان کے ذریعے کیسے ممکن ہے ۔

 
حیات کیا ہے خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناں گوں

معانی: حیات: زندگی ۔ مجذوبی: پاگل پن ، دیوانگی ۔ خودی: اپنی پہچان ۔ اندیشہ: خیال ۔ گوناں گوں : طرح طرح کے ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال فلسفہَ حیات پر ایک سوال کے ذریعے استفسار کرتے ہیں اور خود ہی اس کا جواب بھی دیتے ہیں کہ اگر یہ پوچھا جائے کہ زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ انسانی فکر اور تعقل کے مابین ارتباط ہی زندگی کے فلسفے کا مظہر ہو سکتا ہے ۔ اور فکر و تعقل کے مابین اگر یقین و اعتماد کا رشتہ موجود نہ ہو تو خود وجود انسانی اور اس کی روحانی قوت منتشر ہو کر رہ جاتی ہے ۔

 
عجب مزا ہے مجھے لذتِ خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں

معانی: لذت: مزا ۔
مطلب: یہ کس قدر دلچسپ معاملہ ہے کہ حق تعالیٰ نے خود ہی مجھے وہ صلاحیت عطا کی ہے کہ اپنی ذات اور اپنے وجود کو شناخت کر سکوں ۔ اس کے بعد یہ امر کس قدر عجیب و غریب ہے کہ مجھ سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ اپنی ذات اور اپنے وجود کو فراموش کر بیٹھوں ۔ اقبال کے پیش نظر یہ حقیقت ہے کہ خدائے عزوجل نے ہی انہیں یہ اہلیت عطا کی ہے کہ وہ اپنی ذات کی حقیقت سے آگا ہ ہوں ۔ اس کے ساتھ ہی وہ یعنی خدا اس امر کا بھی خواہاں ہے کہ اپنے وجود سے بے نیاز ہو کر بھی اس کی محبت اور چاہت میں گم ہو جاؤں یعنی اپنی شخصیت کو بھی بھول جاؤں ۔

 
ضمیرِ پاک و نگاہِ بلند و مستیِ شوق
نہ مال و دولتِ قاروں ، نہ فکرِ افلاطوں

معانی: ضمیرِ پاک: پاکیزہ دل ۔ نگاہ بلند: اونچی نظر ۔ مستی شوق: شوق کی بے نیازی ۔ مال و دولت: خزانہ ۔ فکرِ افلاطوں : افلاطون کی بلند سوچ ۔
مطلب: حالانکہ میرا ضمیر ہر نوع کے لہو و لعب سے پاک ہے اور عشق الہٰی کے علاوہ اپنی فکری سطح کو بھی بلند رکھتا ہوں ان کے علاوہ نہ تو یہ خواہش ہے کہ قارون کی طرح مال و دولت حاصل کروں نا ہی افلاطون کی طرح رعونت کا قائل ہوں ۔ میں تو ہر طرح سے ان لوازم سے بے نیاز ہوں ۔

 
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفی سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں

معانی: عالمِ بشریت: انسان کا جہان ۔
مطلب: حضور پاک جس طرح شب معراج عالم بالا پر تشریف لے گئے اس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عالم افلاک انسانی دسترس سے باہر نہیں ہے بشرطیکہ انسان میں صلاحیت اور ایسی علمیت موجود ہو جو اس مقصد کے لیے ضروری ہے ۔

 
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کُن فیکوں

معانی: ناتمام: نامکمل ۔ دمادم: لگاتار ۔ صدائے کن فیکوں : پیدا ہو جا کی آواز ۔ قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جس چیز کو پیدا کرنے چاہے کن فرما دیتا ہے اور وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے ۔
مطلب: خدائے عزوجل نے ایک لفظ کن کے ذریعے کائنات کو تخلیق کیا ۔ آج تک کانوں میں یہی لفظ بار بار گونج رہا ہے ۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کائنات ابھی تک ناتمام ہے اور پایہ تکمیل کو نہیں پہنچی ۔

 
علاج آتشِ رومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

معانی: آتش رومی: مراد رومی کا علم و فکر ۔ خرد: عقل ۔ فرنگیوں : انگریزوں ۔ فسوں : جادو ۔
مطلب: آج کے انسان سے مخاطب ہو کر علامہ اقبال کہتے ہیں کہ تیرے مسائل محض اسی صورت میں حل ہو سکتے ہیں کہ تجھ میں مولانا روم کا سوز و ساز پیدا ہو جائے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ تو مغرب کے افسوں کا شکار ہے اور اس سے ہی تیرا ذہن مفلوج ہو کر رہ گیا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ انسان مغرب کی تہذیب سے اس قدر مسحور ہے کہ مولانا روم کی تعلیمات کو فراموش کر بیٹھا ہے ۔ عملاً یہ خطاب اقبال کا مسلمانوں سے ہے ۔

 
اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن
اُسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں

معانی: سبو: مٹکے ۔ جیحوں : دریائے جیحوں ۔
مطلب: حالانکہ امر واقع یہ ہے کہ یہ مولانا روم کی تعلیمات کا فیض ہی ہے جس سے میرے (اقبال) دل و دماغ روشن ہیں اور شعور میں وسعت پیدا ہوئی ہے ۔ مولانا کے علم و عرفاں کے طفیل ہی میرے علم و دانش میں اضافہ ہوا ہے اور سب چیزوں کو ان کے اصل روپ میں دیکھنے کے قابل ہو سکا ہوں ۔