Please wait..

(۲)

 
اگر کج رو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا

معانی: کج رو ہیں انجم: ٹیڑھے چلنے والے ستارے ۔
مطلب: اس غزل کے اس پہلے شعر میں اقبال خداوند عزوجل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ستاروں کی چال درست نہیں تو اس کے لیے مجھے تو سزاوار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ آسمان کا مالک بھی تو ہی ہے اور اس پر جگمگاتے ہوئے ستاروں پر بھی تیرا ہی اختیار ہے ۔ بے شک تو ہی قادر مطلق ہے اور میں تو ایک عاجز و لاچار بندہ ہوں ۔ اس جہان کی فکر بھی مجھے نہیں بلکہ تجھے ہی ہونی چاہیے کہ یہ جہاں یقینا تیرا ہی پیدا کردہ ہے ۔

 
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
خطا کس کی ہے یارب! لامکاں تیرا ہے یا میرا

معانی: ہنگامہ ہائے شوق: شوق کی رونقوں سے ۔ لامکاں خالی: جہاں کوئی نہ رہتا ہو ۔
مطلب: یہ لامکاں ، یہ فضائے بسیط بھی تیری ہی دسترس میں ہے ۔ اس کے باوجود اگر یہاں تجھ سے والہانہ شگفتگی کا اظہار نہیں ہوتا تو اس کی ذمہ داری بھی اے خدا تجھ پر ہے ۔ مجھ پر تو نہیں ہو سکتی ۔

 
اسے صبحِ ازل انکار کی جرات ہوئی کیونکر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا

معانی: اسے : ابلیس کو ۔ صبح ازل: پہلے دن ۔ رازداں تیرا: بھید جاننے والا ۔
مطلب: ابلیس نے جو تیرے احکام سے روگردانی کی تو اپنے مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اسے انکار کی جرات کیونکر ہوئی ۔ اس لیے کہ ابلیس تو تیرے وابستگان خاص میں سے تھا اور تیرا رازدان بھی تھا ۔ اس صورت میں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس ساری صورت حال کا تعلق مجھ سے تو نہیں تھا بلکہ تجھ سے اور صرف تجھ سے تھا ۔

 
محمدبھی ترا، جبریل بھی، قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرفِ شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا

معانی: اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خاتم الانبیاَ پیغمبر انقلاب حضور سرورکائنات احمد مصطفی ﷺ تیرے تھے ۔ تمام فرشتوں میں افضل و اعلیٰ حضرت جبرئیل جو تیری وحی انبیاَ کرام کو پہنچایا کرتے تھے ان کا تعلق بھی تجھ سے ہی تھا ۔ پھر وہ صحیفہَ کاملہ جب قرآن کی صورت میں پیغمبر آخر الزماں پر نازل ہوا وہ بھی تیرا تھا مگر وہ حرف شیریں جو وحی کی صورت میں نازل ہوا میرا تو نہیں تیرا ہی تھا ۔

 
اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوالِ آدمِ خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا

معانی: کوکب: ستارہ یعنی آدمی ۔ زوالِ آدم خاکی: آدمی کا اپنے رہتے اور مقام سے گر جانا ۔ زیاں : نقصان یعنی اے اللہ اس کو تو نے ہی بنایا اور اس کے گرنے سے نقصان تیرا ہی ہوا ۔
مطلب: کائنات میں انسان کی حیثیت اس تابندہ ستارے کی طرح ہے جس سے سارا جہاں منور ہوتا ہے اور یہ روشنی تیری شناخت کا سبب بنتی ہے ۔ چنانچہ اگر یہی انسان زوال سے دوچار ہوا تو اس میں نقصان تیرا ہی ہے میرا نہیں ۔

(۳)

 
ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے
بتا کیا تُو مرا ساقی نہیں ہے

مطلب: اقبال نے اس رباعی میں بھی گلہ مندی کا رویہ اختیار کیا ہے تاہم ابتدائی شعر میں قدرے طنز بھی ہے ۔ خداوند عزوجل سے مخاطب ہوتے ہوئے اقبال استفسار کرتے ہیں کہ قادر مطلق ہونے کے باوجود تو ضرورت مندوں کی پوری طرح کفالت کیوں نہیں کرتا ۔

 
سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم
بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے

معانی: تمثیلی سطح پر اگر سمندر کسی پیاسے کی تشنگی رفع کرنے کے لیے محض ایک قطرہ آب فراہم کرتا ہے تو اس سے اس کی پیاس کیسے بجھ سکتی ہے ۔ اس عمل کو تو رزاقی کی جگہ کنجوسی سے تعبیر کیا جانا چاہیے ۔