Please wait..

ابلیس کی مجلسِ شوریٰ
(شیطان کے مشورے کی پارلیمنٹ)
1936ء

ابلیس

 
یہ عناصر کا پرانا کھیل! یہ دنیائے دُوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمناؤں کا خوں

تعارف: جس طرح موجودہ دور میں ملک پر حکومت کرنے کے لیے انتخابات یا کسی اور ذریعہ کو کام میں لا کر قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ بنائی جاتی ہے اوراس میں مختلف معاملات پر بحث کے بعد ان کے متعلق فیصلے کیے جاتے ہیں اسی انداز میں علامہ اقبال نے ایک خیالی اسمبلی تشکیل دی ہے ۔ جس میں حکمران پارٹی شیطان کا ٹولہ اورا س کا سربراہ شیطان خود ہے ۔ اس مجلس شوریٰ میں زیر بحث آنے والے معاملات و مسائل آج کے دور سے تعلق رکھتے ہیں جن پر شیطان کے ساتھ پانچ ارکان اظہار خیال کرتے ہیں اور آخر میں شیطان فیصلہ کن رائے دیتا ہے ۔
معانی: عناصر : عنصر کی جمع، مراد آگ، پانی ، مٹی ، ہوا وغیرہ کے مادی عنصر یا اجزا ۔ عناصر کا پرانا کھیل : مراد ہے کائنات جو مادی عناصر ، آگ، پانی، مٹی اور ہوا وغیرہ کی ترکیب خاص سے معرض وجود میں آئی ہے اور اسے وجود میں آئے ہوئے اتنا طویل عرصہ ہو گیا ہے جس کا اندازہ نہیں اس لیے یہ پرانی ہے ۔ دوں : کمینہ، رذیل ۔ دنیائے دوں : کمینی دنیا ۔ ساکنان: ساکن کی جمع، رہنے والے ۔ عرش: تخت ۔ عرش اعظم: بلند و بالا اور عظمت والے خدا کا تخت جو کہیں آسما نوں سے بھی آگے ہے ۔ یہ تخت کوئی مادی نہیں دراصل یہ اللہ تعالیٰ کے انوار کا ایک جہان ہے جسے خدا کی عظمت اور حقیقی بادشاہت کی بنا پر تخت کا نام دیا گیا ہے ۔ تمنا: آرزو ۔ تمناؤں کا خون: آرزووَں کا برباد ہونا ۔ ابلیس: شیطان ۔
مطلب: شیطان اپنی مجلس شوریٰ میں سب سے پہلے تقریر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ دنیا ایک پرانا کھیل ہے جو آگ، پانی، مٹی، ہوا وغیرہ سے تشکیل دیا گیا ہے۔ اسے کھیل اس لیے کہا ہے کہ جس طرح کھیل کی کوءی مستقل حیثیت نہیں ہوتی اسی طرح کاءنات کی بھی کوءی مستقل حیثیت نہیں ہے۔ یہ کھیل اس لیے بھی ہے کہ جس طرح کھیل کے اسٹیج پر مختلف کردار اور منظر آتے ہیں اور پھر غاءب ہو جاتے ہیں اسی طرح دنیا کے اسٹیج پر بھی لوگ پیدا ہو کر آتے ہیں اپنا اپنا کام کرتے ہیں اور مر کر چلے جاتے ہیں۔ شیطان بھی یہ کہتا ہے کہ یہ دنیا اپنی فطرت اور ذہنیت کے لحاظ سے کمینہ اور رذیل ہے۔ اس لیے یہ کسی سے وفا نہیں کرتی۔ شیطان نے دنیا کو آسمانوں سے آگے خدا تعالیٰ کے انوار کے جہان میں رہنے والے فرشتوں کی آرزوؤں کی بربادی کا سبب بھی کہا ہے ۔ اللہ نے آدم کو فرشتوں سے افضل بنا دیا ۔ اس تبدیلی کو شیطان فرشتوں کی آرزوؤں کا برباد ہونا کہتا ہے۔

 
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اس کا نام رکھا جہانِ کاف و نون

معانی: کارساز: بگڑے ہوئے کام بنانے والا ۔ آمادہ ہے: راضی ہے، تلا ہوا ہے ۔ کاف و نوں : حرف کاف اور نون دونوں کو ملا کر لفظ کن بنتا ہے جس کی معنی ہیں ہو جا ۔ اللہ تعالیٰ نے کن کہا اور فیکون ہو گیا یعنی کائنات اور اس کی جملہ اشیاء اللہ کے لفظ کن کہنے سے عدم سے وجود میں آ گئیں ۔
مطلب: وہ بگڑے ہوئے کام بنانے والا خدا جس کے ایک لفظ کن کہنے سے کائنات عدم سے وجود میں آ گئی آج اس کی بربادی پر تلا ہوا معلوم ہوتا ہے ۔ دنیا کے وجود میں آنے کے کئی نظریے پیش کئے جاتے ہیں لیکن قرآن نے یہی بتایا ہے کہ پہلے عدم تھا ۔ خدا کے سوا جو کچھ بھی نہ تھا پھر خدا نے ارادہ کیا اور کن کہا سب کچھ ہو گیا ۔

 
میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں 

معانی: فرنگی: انگیریز ۔ یورپ کا باشندہ ۔ ملوکیت: بادشاہت ۔ خواب دکھایا: حسین خیال دیا ۔ دیر: مندر، ہندووَں یا دیگر غیر مسلموں کی عبادت گاہ ۔ کلیسا: گرجا، عیسائیوں کی عبادت گاہ ۔ مسجد: مسلمانوں کی عبادت گاہ ۔ فسوں توڑا: جادو توڑا ۔
مطلب: شیطان کہتا ہے کہ میں نے اہل یورپ کو بادشاہت کا حسین خیال دیا اور اس طرح شخصی حکومت قائم کر کے عوام کو بے بس و بے کس بنا دینے کی فکر عطا کی ۔ میں نے صرف یہی نہیں کیا میں نے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ان کی عبادت گاہوں سے نفرت دلا دی اور صدیوں سے ان مسجد ، دیر اور کلیسا کا جو اثر تھا اسے ختم کر دیا ۔ اس طرح یاتو ان کے مذہبی عقائد یا مسخ ہو کر رہ گئے یا مذہب ان کے دلوں سے بالکل رخصت ہو گیا ۔

 
میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں

معانی: سرمایہ دار: دولت مند ۔ نادار: غریب ۔ منعم: جس پر اللہ نے دولت کا انعام کیا ہے ۔ جنوں : سودا، ایسا جذبہ جس میں کسی خاص مقصد کے سوا کچھ نہ سوجھے ۔
مطلب: دنیا میں دو طبقات ہیں ۔ ایک طبقہ امیر ہے اور دوسرا غریب ۔ شیطان کہتا ہے کہ میں نے دولت مندوں کے ذہن و دل میں دولت کی ایسی محبت پیدا کر رکھی ہے کہ وہ ہر حلے بہانے، جائز و ناجائز اور حرام و حلال ذریعے سے اسے اکٹھی کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ انہیں اس کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں اور ان کے مقابلے میں جو مفلس ہیں محنت مشقت سے روزی کماتے ہیں ان کی ذہن و دل میں میں نے یہ بات بٹھا رکھی ہے کہ وہ تو پیدا ہی امیروں ، وڈیروں ، جاگیرداروں ، نوابوں ، بادشاہوں وغیرہ کی خدمت کرنے اور ان کے ہاتھوں اپنی آزادی اور عزت لٹانے کے لیے ہوئے ہیں وہ اسے تقدیر کا نام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا ان کی قسمت میں لکھا ہوا ہے جس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔

 
کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں

معانی: آتش سوزاں : جلا دینے والی آگ ۔ ابلیس: شیطان خبیث ۔ ہنگامہ: شورش، زندگی کا کاروبار اور معاملات، زندگی کی فکر وعمل ، جدوجہد ۔ سوزدروں : اندر کی جلن، اندرونی حرارت ۔
مطلب: میں نے جس شخص میں ابلیسی نظام حیات اور شیطانی اقدار زندگی کو جلا دینے والی آگ جلا رکھی ہے ۔ اسے کوئی ٹھنڈا نہیں کر سکتا ۔ چونکہ اس کے معاملات، کاروبار حیات اور فکر و عمل میں یہ آگ میری اندرونی حرارت کی وجہ سے جل رہی ہے اس لیے کسی میں ہمت نہیں کہ اس کو بجھا سکے ۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ آ ج کے دور کے انسان کا ہر قدم اسی حرارت کی وجہ سے اٹھ رہا ہے اور اس کا ہر فعل اسی تپش کی بنا پر سرزد ہو رہا ہے ۔ یہ بات میرے دعویٰ کے ثبوت کے لیے کافی ہے ۔

 
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اس نخلِ کہن کو سرنگوں 

معانی: آبیاری: پانی دینا ۔ نخل کہن: پرانا درخت ۔ سرنگوں نیچا ۔
مطلب: اس سے پہلے شعر میں شیطان نے کاروبار دنیا اور معاملات حیات میں اپنے عمل دخل کو آگ اور حرارت کی علامتوں سے واضح کیا تھا ۔ اس شعر میں اس عمل دخل کی وضاحت ایک درخت کی مثال دے کر کی ہے اور کہا ہے کہ شیطانی درخت تو آغاز کائنات ہی سے لگا ہوا ہے ۔ یہ بہت پرانا ہے اور اس کی نسبت حضرت آدم کو اللہ کے حکم سے انکار کرنے والے اور آدم کو سجدہ نہ کرنے والے دن سے ہے ۔ شیطان کہتا ہے کہ میں نے تو اسی روز سے خدا کی مخلوق کو بہکانے اور گمراہ کرنے کا کام اپنے ذمہ لے رکھا ہے ۔ اس درخت کو جو جڑوں سے لے کر پھل تک شیطنت کا مزہ لیے ہوئے ہے میں اور میرے شتونگڑے برابر پانی دیتے رہتے ہیں اب یہ اتنا بلند و بالا اور شاخوں کے دور دور تک پھیلاوَ والا درخت بن چکا ہے کہ اس کو گرانے یا جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کسی میں ہمت نہیں ۔

پہلا مشیر

 
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام

معانی: محکم: پائیدار، مضبوط ۔ ابلیسی نظام: شیطان کا دیا ہوا نظام حیات ۔ پختہ تر: زیادہ مضبوط ۔ خوئے غلامی: غلامی کی عادت ۔ عوام: سب لوگ یا عام لوگ ۔
مطلب: شیطان کی تقریر سن کر اس کی حکومت کا ایک رکن اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اے میرے آقا اس میں کوئی شک نہیں کہ جس شیطانی نظام حیات کا آپ نے اپنی تقریر میں ذکر کیا ہے وہ بڑا پائیدار اور مضبوط ہے اور کسی کے بس کی بات نہیں کہ اسے تبدیل کر سکے یا ختم کر سکے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو نظام حیات ہم نے دنیا والوں کو دے رکھا ہے اس سے لوگ غلامی کی عادت میں پائیدار سے پائیدار ہوتے جا رہے ہیں ۔ غلامی ان کے مزاج اور ذہنیت میں رچ بس گئی ہے اور وہ ہمارے نمائندوں کے آگے جو بادشاہ، نواب ، جاگیردار، زمیندار، وڈیرہ، آمر وغیرہ کی شکل میں ہر جگہ موجود ہیں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں ۔

 
ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام

معانی: ازل: جہان کی تخلیق سے پہلے کا وقت جس کی ابتدا معلوم نہیں کی جا سکتی ۔ مراد ہے ہمیشہ ہے ۔ مقدر: قسمت ۔ سجود: سجدہ کرنا ۔ غریب: طنزیہ طور پر کہا ہے بے بس اور بے کس لوگ ۔ فطرت: سرشت، ذہنیت ۔ قیام: کھڑے ہونا ۔ نماز بے قیام: وہ نماز جس میں کھڑے ہونے کی نوبت ہی نہ آئے اور نمازی سجدہ ہی میں رہے ۔
مطلب: یہ لوگ جو ہماری تدبیر کے سامنے بے بس اور لاچار ہیں آج سے نہیں ہمیشہ سے ہی ہمارے نظا م کے پرستار چلے آتے ہیں ۔ اپنے آقاؤں کے آگے جھکنا ان کی قسمت بن چکی ہے ان کی زندگی کی مثال تو ایسی نماز کی سی ہے جس میں قیام کرنے کا رکن موجود ہی نہیں ۔ صرف رکوع و سجود ہی ہے ۔ جھکنا ہی جھکنا ہے مراد ہے وہ اپنے آقاؤں کی غلامی میں اس حد تک پختہ ہو چکے ہیں کہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ان میں خیال تک نہیں آتا ۔

آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں
ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام

معانی: خام: کچی، ناپختہ ۔ آرزو: خواہش ۔
مطلب:لوگ شیطانی نظام کے ایسے اور اتنے غلام بن چکے ہیں کہ غلامی کی اس زندگی سے آزاد ہونے کی خواہش اول تو ان کے دلوں میں پیدا ہی نہیں ہوتی اور اگر کہیں پیدا ہوتی بھی ہے تو یا تو وہ ختم ہو جاتی ہے یا کچی رہ جاتی ہے اورا س طرح کوئی بھی ہمارے نظام کی جکڑ بندی سے باہر نہیں نکل سکتا ۔

 
ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام

معانی: سعی پیہم: لگاتار کوشش ۔ ملوکیت: بادشاہت ۔ صوفی: جو صرف تصوف یا طریقت کو اپنائے ہوئے ہے ۔ کرامت : کسی صوفی سے ایسی بات یا کام کا ہونا جسے عقل سمجھنے سے قاصر ہو ۔
مطلب: یہ ہماری لگاتار کوشش کا عقل کو حیران کر دینے والا نتیجہ ہے کہ آج تصوف کے میدانوں کے لوگ صوفیا اور دینی روح سے بیگانہ ہو کر بادشاہت کے غلام بن چکے ہیں وہ صوفی جن کے بوریا کے آگے کبھی تخت جھکتے تھے آج خود بادشاہوں کے تخت کا طواف کر رہے ہیں ۔ یہی صورت حال علمائے دین کی بھی ہے کل تک جو جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے خوف نہیں کھاتے تھے آج مصلحت کا شکار ہو کر ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ۔

 
طبعِ مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی
ورنہ قوالی سے کچھ کمتر نہیں علم کلام

معانی: طبع مشرق: مشرق کا مزاج، مشرقی لوگوں کی طبیعت ۔ کم تر: زیادہ کم ۔ موزوں : مناسب ۔ افیون: ایک نشہ آور چیز جو نشہ کرنے والے کو عمل سے بیگانہ کر دیتی ہے ۔ قوالی: وہ راگ جو صوفیانہ محفلوں میں روح کی بالیدگی کے لیے گایا جاتا ہے ۔ علم کلام: کلام کا علم، یہ ایسا علم ہے جس میں دین کی باتوں کو عقل اور دلیل سے ثابت کیا جاتا ہے ۔
مطلب: ہم نے مشرق کے رہنے والوں کو مراد ہے مسلمانوں کو جو مغرب کی بجائے مشرق میں زیادہ آباد ہیں ۔ دو نشہ آور چیزیں کھلا رکھی ہیں ۔ ایک قوالی ہے اور دوسری کلام کا علم ۔ قوالی کو صوفیانہ نظام میں بڑا عمل دخل رہا ہے ۔ اور اسے روحانی جذبات میں اشتعال پیدا کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے لیکن آج صوفیانہ حلقوں میں تصوف کی اصل روح تو غائب ہو چکی ہے اور صرف قوالی پر زور ہے ایسی قوالی جو روح پر کوئی اثر مرتب نہیں کرتی ۔ دینی حلقوں کو دیکھیں تو وہاں بھی علمائے دین، دین کی اصل باتوں سے ہٹ کر دینی مسائل پر بحث کرنے اور ان کی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے دلیلوں کے بکھیڑوں میں الجھے ہوئے ہیں ۔ اس طرح ان دونوں حلقوں کے لوگ عمل سے اسی طرح بیگانہ ہو چکے ہیں جس طرح افیون کھانے والا کوئی شخص ہر وقت اونگھتا رہتا ہے اور زندگی کے عملی میدان میں قدم رکھتے ہوئے گھبراتاہے ۔

 
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام

معا نی: طواف: کعبے کے چکر لگانا ۔ حج: ارکان اسلام میں سے ایک رکن جو مکہ جا کر خانہ کعبہ کا طواف کرنے اور بعض دوسری رسومات ادا کرنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ کند: جس میں کاٹنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہو ۔ ہنگامہ: شورش، بھیڑ ۔ مومن: اہل ایمان ، اللہ اور اس کے رسولﷺ پر صحیح ایمان رکھنے والا، پکا اور صحیح مسلمان ۔ تیغ: تلوار ۔ نیام: تلوار کا خول جس میں تلوار اس وقت رکھی جاتی ہے جب اسے چلانا مقصود نہ ہو ۔ تیغ بے نیام: بغیر خول کے تلوار ، ننگی تلوار جو ہر وقت دشمن کو کاٹنے کے لیے تیار ہو ۔
مطلب: اگر اس دور کے مسلمانوں میں مکہ شریف جانے اور وہاں جا کر کعبے کے گرد چکر لگانے اور اہم رکن اسلام حج کے رسوم ادا کرنے کی کوئی صورت باقی رہ گئی ہے ۔ تو وہ محض ایک اجتماع اور بھیڑ کی سی صورت ہے ۔ کعبہ کا طواف کرنے اور حج کے لیے مکہ شریف میں جمع ہونے کا اصل مقصد تو مسلمانوں میں قوت، اتفاق اور مرکزیت پیدا کرنا ہے ۔ لیکن آج اس کے بجائے نفاق اور انتشار کی صورت حال نظر آتی ہے ۔ کبھی مسلمان اپنے دشمنوں کے لیے ننگی تلوار کی مانند تھا جو ہر وقت ان کو کاٹنے پر آمادہ نظر آتی تھی لیکن آج یہ صورت حال ختم ہو چکی ہے اور مسلمان میں اللہ کی راہ میں لڑنے کا جذبہ ختم ہو چکا ہے ۔ ایسی صورت میں ہمیں مسلمانوں کے حج کے اجتماع اور کعبہ کے گرد چکر لگا کر اس سے وابستگی کے اظہار سے کوئی خطرہ نہیں ۔

 
کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید
ہے جہاد اس دور میں مردِ مسلماں پر حرام

معانی: نومیدی: نا امید ۔ حجت: دلیل ۔ فرمانِ جدید: نیا حکم، جدید دور میں دیا گیا حکم ۔ فرمان: حکم، فتویٰ ۔ جہاد: اللہ کی راہ میں لڑنا ۔ اس دور میں : عہد حاضر میں ۔ حرام: دینی اعتبار سے ناجائز ۔
مطلب: بر صغیر کے صوبے متحدہ پنجاب کے قصبہ قادیان میں انگریز عہد حکومت میں ایک شخص بنام مرزا غلام احمد پیدا ہوا تھا جس نے دین کو صدیوں کی روح کے خلاف یہ نیا حکم یا فتویٰ دیا تھا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ کے دشمنوں سے لڑنا اس عہد میں دینی اور شرعی اعتبار سے ناجائز ہے ۔ اور انگریز جو ہم پر حکمران ہیں ان کے خلاف آزادی کے لیے جدوجہد کرنا مسلمانوں کے لیے مناسب نہیں ۔ یہ شخص خود کو موعود مسیح کہتا تھا ۔ مراد تھی کہ میں حضرت عیسیٰ ہوں جیسے قیامت سے پہلے روئے زمین پر آ کر اسلام کو تقویت پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ وہ عیسیٰ جس کے اس طرح آنے کا وعدہ کیا گیا ہے وہ مریم کا بیٹاعیسیٰ نہیں وہ میں ہوں ۔ اس پر برصغیر کے مسلمانوں میں خصوصاً اور دنیا کے مسلمانوں میں عموماً سخت ردعمل ہوا ۔ مسیح ہونے کا دعویٰ کرنے والے شخص نے جہاد کے خلاف شرعی حکم یا فتویٰ بھی صادر کیا تھا اور کہا تھا کہ اس عہد میں جہاد کرنا مسلمانوں پر حرام ہے ۔ اس شعر میں اس نئے فتویٰ کی طرف اشارہ ہے جو چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ میں نہیں دیا گیا ۔ اس نے یہ فتویٰ اس لیے صادر کیا تھا کہ برصغیر کے مسلمان اپنے آقا انگریز کے خلاف نہ اٹھ کھڑے ہوں ۔ یہ صورت حال مسلمانوں کی نا امیدی پر دلالت کرتی ہے ۔ اور ان کو ہمیشہ کے لیے مایوس ہو کر انگریز آقاؤں کی غلامی اختیار کرنے کی طرف راغب کرتی تھی ۔

دوسرا مشیر

 
خیر ہے سلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شر
تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبر

معانی: خیر: اچھائی، نیکی ۔ شر: بدی، برائی ۔ غوغا: شور ۔ فتنہ: فساد ۔
مطلب: پہلے مشیر کی باتیں سن کر حکومت شیطان کا ایک اور رکن اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ تیری ساری باتیں درست ہیں لیکن تو نے جہان میں پیدا ہونے والے ایک نئے فسادی نظام کا ذکر نہیں کیا جس کا نام جمہوریت ہے ۔ کیا تجھے اس کی خبر نہیں ہے ۔ تو ہمیں اس کے متعلق بتا کہ یہ ہمارے لیے اچھائی کی بات ہے یا برائی کی ۔ میرے خیال میں جمہورت کے نام پر یہ بھی ایک شاہی نظام ہی ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سلطانی یا بادشاہت کے نظام میں ایک شخص با اختیار ہوتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے لیکن جمہوریت کے نظام میں جس میں عوام خود اپنی رائے سے حکومت چلانے کے لیے نمائندے منتخب کرتے ہیں یہی سلطانی روح ایک شخص کے بجائے چند اشخاص میں داخل ہو جاتی ہے ۔ جو وزیر کہتے ہیں جو کام بادشاہت میں فرد واحد کرتا ہے وہی کام یہ منتخب شدہ لوگ وزیر بن کر چند خاندانوں اور چند افراد کے ایک مجموعہ کی صورت میں سرانجام دیتے ہیں اس صورت حال کے پیش نظر اے میرے ساتھی رکن حکومت یہ بتا کہ یہ نظام جمہوری جو مغرب نے دنیا کے ملکوں کو دیا ہے درست ہے یا غلط ۔ اچھا ہے یا برا ۔

پہلا مشیر

 
ہوں ! مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیت کا اک پردہ ہو ، کیا اس سے خطر

معانی: جہاں بینی: جہان کے معاملات پر نظر رکھنا ۔ ملوکیت کا پردہ: بادشاہت کی روح جس کے پیچھے کارفرما ہو ۔ خطر: ڈر ۔
مطلب: پہلا مشیر دوسرے مشیر کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ دنیا میں اٹھنے والے اس فسادی نظام اور فتنہ سے باخبر ہوں جس کا نام مغربی جمہوریت ہے ۔ میں دنیا کے معاملات پر گہری نظر رکھتا ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ مغربی جمہوریت کے پیچھے ملوکی یا شاہی روح ہی کارفرما ہے ۔ جب صورت حال یہ ہے تو ہمیں اس جمہوری نظام کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ یہ بھی ہماری پیداوار ہی ہے ۔

 
ہم نے خودشاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خودنِگر

معانی: آدم: مراد ہے بنی نوع آدم ۔ خود شناس: اپنے آپ کو پہچاننے والا ۔ خودنگر: اپنے آپ کو دیکھنے والے ۔
مطلب: جب آدمی میں مختلف وجوہات کی بنا پر یہ شعور اجاگر ہوا کہ وہ اپنی قدر و قیمت کو پہچان سکے اور اپنے حقوق حاصل کرنے کا اہل ہو سکے تو ہم نے اس کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ اگر بادشاہی نظام میں تمہاری کوئی قدر و منزلت نہیں تو تم خود اپنے لیے حکمران منتخب کر لیا کرو جو تم میں سے ہو گا اور تمہارے حقوق کا خیال رکھے گا ۔ اسی کو اس نے جمہوریت کا نام دیا ہے لیکن اس میں ہوتا یہ ہے کہ اپنی طرف سے منتخب شدہ حکمران وہی حاکمانہ اور بادشاہانہ رویہ اختیار کرتے ہیں جو ایک حکمران بحیثیت بادشاہ کرتا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں ایک شخص یہ کام کرتا ہے اور جمہوریت میں چند اشخاص یا خاندان مل کر وہی کچھ کرتے ہیں ۔ اس لیے اے میرے رفیق فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ۔ یہ جمہوری نظام بھی ہمارا ہی پیدا کردہ ہے اس نظام کا لباس ضرور جمہوری ہے لیکن اندر جسم شاہی ہے ۔

 
کاروبارِ شہر یاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجودِ میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر

معانی: کاروبار شہریاری: بادشاہی نظام چلانے کا طریقہ ۔ حقیقت: اصلیت ۔ میر : امیر ۔ سلطاں : بادشاہ ۔ منحصر: انحصار ہونا ۔
مطلب: بادشاہی نظام حکومت کا دارومدار اور انحصار کسی امیر یا بادشاہ کے وجود پر نہیں بلکہ اس کی اصلیت امیری یا بادشاہی رویہ پر ہے ۔ یہی امیری یا بادشاہی رویہ اگر ہم جمہوریت کے نظام میں پیدا کر دیں تو اس کے ذریعہ منتخب شدہ ارکان حکومت وہی کچھ کریں گے جو کچھ سلطا نی نظام میں ہوتا ہے ۔

 
مجلسِ ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں ، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
 

معانی: مجلس ملت: قومی اسمبلی ۔ پرویز: ایران کے ایک بادشاہ کا نام ہے جس نے اپنے عقت کے ایک عاشق کو جس کا نام فرہاد تھا پہاڑ کھودنے پر لگا دیا اور خود اس کی محبوبہ کو جس کا نام شیریں تھا اپنے گھر ڈال لیا ۔ پرویز کا نام بطور شاہی نظام کے یا حکمران کی علامت کے طور پر لیا گیا ہے ۔
مطلب: چاہے کوئی منتخب شدہ قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ ہو اور چاہے کسی بادشاہ کا طرز حکومت ہو دونوں کا مقصود ایک ہی ہے اور وہ ہے دوسروں کومحنت مزدوری پر لگا کر ان کی روزی کو لوٹنا اور انہیں محتاج و نادار رکھنا ۔ تم نے دیکھا نہیں کہ ایران کے بادشاہ پرویز نے فرہاد کی محبوبہ کو چھیننے اور اپنی ملکہ بنانے کے لیے فرہاد کو یہ کہہ کر پہاڑ کھودنے پر لگا دیا تھا کہ اگر تو اس میں سے نہر نکال لائے تو شیریں تجھے مل جائے گی ۔ وہ بے چارہ اس کا م میں لگ گیا اور پرویز نے شیریں کو ملکہ بنا لیا ۔ اس ایک مثال سے تم شاہی نظام کے رویہ کا اندازہ کر سکتے ہو ۔ جمہوریت میں بھی یہ رویہ موجود ہوتا ہے ۔

 
تو نے دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندرون چنگیز سے تاریک تر

معانی: مغرب: براعظم یورپ ۔ روشن: چمکدار ۔ اندرون: اندر ۔ تاریک تر: زیادہ سیاہ ۔ چنگیز: ایک فاتح کا نام ہے جس کا تعلق منگولیا سے تھا اور جس نے اپنی فتح ممالک کے دوران اتنے ظلم کے تھے کہ اس کا نام تاریخ میں ایک بہت بڑے ظالم کی حیثیت سے موجود و مشہور ہے ۔
مطلب: موجودہ طرز کا جمہوری اور پارلیمانی نظام دنیا والوں کو اہل مغرب یعنی یورپ والوں سے ملا ہے ۔ تم اے میرے رفیق اسے بہ نظر غور دیکھو اس کا ظاہر تو بڑا چمکدار نظر آئے گا لیکن اس کے اندر جو روح ہے وہ دنیا کے ظالم ترین بادشاہ یا فاتح چنگیز سے بھی زیادہ سیاہ ہے اس نظام میں منتخب شدہ ارکان حکومت اپنے منتخب کرنے والوں پر جو ستم ڈھاتے ہیں وہ چنگیزیت کو بھلا دیتے ہیں ۔

تیسرا مشیر

 
روحِ سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب
ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب

معا نی: روح سلطانی: باشاہی روح ۔ اضطراب: بے چینی، بے قراری ۔ اس یہودی: ایک شخص بنام کارل مارکس کی طرف اشارہ ہے جس نے سرمایہ نامی ایک کتاب لکھ کر دنیا کو اشتراکی نظام یا کمیونزم دیا ۔
مطلب: پہلے مشیر سے جمہوری نظام کی وضاحت سن کر شیطان کی حکومت کا ایک اور رکن کہتا ہے کہ اگر جمہوری نظام شاہی نظام سے بدتر اور چنگیز کی بربریت سے زیادہ سیاہ ہے تو ہمیں بے چین ہونے کی واقعی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن ایک یہودی کارل مارکس نے دنیا کو اشتراکی یا کمیونزم نظام دے کر ہمارے خلاف جو شرارت کی ہے اس کا تمہارے پاس کیا جواب ہے ۔

 
وہ کلیمِ بے تجلی! وہ مسیحِ بے صلیب
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب

معانی: کلیم: مشہور پیغمبر حضرت موسیٰ کا لقب ہے جنہیں کوہ طورپر خداوند تعالیٰ کی تجلی نصیب ہوئی تھی اور وہ اس سے گفتگو کرتے تھے ۔ مسیح بے صلیب: مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو خدا کے برگزیدہ پیغمبر تھے اور جنہیں عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق صلیب پر یعنی سولی پر لٹکا دیا گیا تھا ۔ بے صلیب مسیح سے مراد ایسا مسیح جسے سولی پر لٹکایا نہ گیا ہے ۔ نیست: نہیں ہے ۔ دربغل: بغل میں ۔ دارد: رکھتا ہے ۔
مطلب: اس یہودی کی طرف اشارے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے تیسرا مشیر کہتا ہے کہ یہ وہ یہودی ہے جس کو جمہوری اور شاہی نظام کی چکی کے نیچے پسے ہوئے لوگ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا درجہ دیتے ہیں ۔ اس لیے کہ جس طرح حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل اور فرعون کے ظلم سے بچایا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے غریبوں اور بے کسوں کو سینے سے لگایا تھا اسی طرح یہ یہودی بھی اپنے دیے گئے اشتراکی نظام کے ذریعے غریبوں ، مزدوروں ، کسانوں اور بے بسوں کو شاہی اور جمہوری نظام کے فرعونوں اور غارت گروں کے ظالمانہ ہاتھوں سے بچا کر خود ان کو حکمران بننے کا طریقہ بتایا ہے ۔ لیکن فرق یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا کی تجلی اور نور کا مشاہدہ کرتے تھے اور اس سے باتیں کرتے تھے لیکن یہ یہودی خدا کا انکار کرتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ کے طرح یہ بھی غریبو ں کو سربلند کرنے کا طریقہ بتاتا ہے لیکن یہ سولی پر نہیں چڑھایا گیا کیونکہ وہ پیغمبر نہیں تھا ایک تیسرا اور واضح فرق یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ پر تو اس لئے آسمانی کتابیں اتری تھیں کہ وہ پیغمبر تھے لیکن یہ یہودی پیغمبر تو نہیں ہے لیکن توریت اور انجیل کی طرح ایک کتاب ضرور رکھتا ہے لیکن یہ غیر الہامی ہے جس کانام سرمایہ ہے اور جسے یورپ مزدور اور کسان طبقہ میں مذہبی کتابوں کی طرح کی عزت دی جاتی ہے ۔

 
کیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہ پردہ سوز
مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روزِ حساب

معانی: کافر انکار کرنے والا ۔ پردہ سوز: پردہ جلانے والا ۔ روزحساب: حساب کا دن، قیامت کا دن ۔
مطلب: اس نظام ابلیسی کے انکار کرنے والے یہودی کی نگاہ نے ملوکیت اور جمہوریت پر پڑے ہوئے پردوں کو جلا کر اس کے پیچھے ان نظاموں کی اصل خرابیوں کو دیکھ لیا اور خود اپنی طرف سے ایک نیا نظام حیات دیا جس کی وجہ سے مشرق اور مغرب کی قوموں کے پسے ہوئے اور ستائے ہوئے فاقہ کش ، غریب مزدور اور کسان اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے اس طرح جاگ اٹھے جیسے قیامت کے روز مردے جاگ اٹھیں گے ۔ ان پسے ہوئے طبقات کی زندگی ملوکی اور جمہوری نظاموں میں مردوں کی طرح تھیں اب ان میں زندہ رہنے اور زندہ رہنے کے لیے ظالموں سے نپٹنے کا شعور پیدا ہو گیا ہے ۔

 
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب

مطلب: اس شعر میں اس عظیم اشتراکی انقلاب کی طرف اشارہ ہے جس کے ذریعے عوام نے ایک شخص بنام لینن کی قیادت میں اکٹھے ہو کر روس کے شہنشاہ زاد روس کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور حکمرانوں کو قتل کر دیا تھا ۔ بڑے بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں کی زمینیں چھین لی تھیں ۔ کارخانوں کے مالکوں کو کارخانوں سے بے دخل کر کے ان پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور سارے ذراءع معیشت کو مزدوروں اور کسانوں کی بنائی ہوئی حکومت کے قبضے میں کر دیا تھا ۔ شیطان کا مشیر اسے عوام کے مزاج میں پیدا ہونے والا فساد کہتا ہے جس کے ذریعے انھوں نے غلام ہوتے ہوئے ایسے اقدامات کئے کہ ان کے مالک تہس نہس ہو کر رہ گئے ۔ آقاؤں کے خیموں کی رسیاں توڑ کر ان کو گرا دینے کا یہی مفہوم ہے کہ انہیں سارے ذراءع سے محروم کر دیا ۔ یہ دنیا میں پہلا اشتراکی انقلاب اور اس کے ذریعے پہلی اشتراکی نظام والی حکومت قائم ہونے کا عمل تھا جس کے بعد یہ دوسرے ملکوں تک پھیل گیا ۔ شیطان کا یہ مشیر اسے اپنی شیطانی حکومت کے لیے چیلنج قرار دیتا ہے اور پریشان ہے ۔

چوتھا مشیر

 
توڑ اس کا رومتہ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ
آلِ سیزر کو دکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب

معانی: توڑ: روک کرنا، خاتمہ ، مٹانا، مقابلہ ۔ رومتہ الکبریٰ: عظیم رومن سلطنت جو قبل از مسیح قائم تھی ۔ ایوانوں : محلوں ۔ آل سیزر: سیزر کی اولاد، سیزر قدیم ملک روم کا جسے آج کل اطالیہ کہتے ہیں اور قدیم رومن سلطنت کا عظیم ہیرو تھا ۔ سیزر کا خواب: جو خواب کہ سیزر نے کبھی عظیم رومن سلطنت قائم کرنے کے لیے دیکھا تھا ۔
مطلب: چوتھا مشیر تیسرے مشیر کی پریشانی اور بے قراری کو دیکھ کر کہتا ہے کہ اشتراکی نظام سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ ہم نے اس کو روکنے اور ختم کرنے کے لیے اطالیہ میں ایک شخص بنام مسولینی پیدا کر دیا ہے جس نے فاشسٹ نظام نافذ کر کے اشتراکی نظام کا راستہ روک دیا ہے ۔ فاشسٹ نظام میں ساری طاقتیں ایک شخص کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ۔ وہ اطالیہ جو کبھی عظیم رومن سلطنت کا مرکز تھا اس سلطنت کے پرانے محلوں میں اب مسولینی موجود ہے ۔ جس نے قدیم رومن ہیرو سیزر کی اولاد کو یعنی اہل اطالیہ کو یہ خواب دکھایا ہے کہ میرے دیئے گئے فاشسٹ نظام کے ذریعے ہم پھر قدیم رومن سلطنت کی سی وسعت اور عروج حاصل کر لیں گے ۔ یہ قدیم رومن سلطنت قبل از مسیح یورپ، ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقوں پر مشتمل تھی جو اسلامی عہد تک کافی سمٹ چکی تھی ۔ اس رہی سہی سلطنت کو مسلمانوں نے ختم کر دیا تھا ۔

 
کون بحرِ روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا
گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب

معانی: بحر روم: یورپ اور افریقہ کے درمیاب ایک سمندر ۔ گاہ: کبھی ۔ صنوبر: ایک قد آور درخت ۔ بالد: ابھرتا ہے ۔ نالد: روتا ہے ۔ چوں : مانند ۔ رباب: ایک قسم کا ساز ۔
مطلب: بحرہ روم کی موجوں سے کون لپٹا ہوا ہے ۔ وہ مسولینی کا عظیم بحری بیڑہ ہے جو اس سمندر پر حاکمیت قائم کرنے کے لیے اور سمندر پار کے افریقی ممالک پر قبضہ جمانے کے لیے کبھی ابھرتا ہوا اور کبھی سائرن بجاتا ہوا اپنے کام میں مصروف ہے اس شعر کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسولینی بحیرہ روم کو تسخیر کرنے کے لیے اپنی قوم کے سامنے ولولہ انگیزتقریروں کے ذریعے کبھی ان کو صنوبر کے درخت کی مانند کھڑا کر دیتا ہے اور کبھی ان کو رباب کی مانند کھوئی ہوئی عظمت پر خود رو کر اور ان کو رلا کر ان میں اسے بحال کرنے کا ولولہ پیدا کر رہا ہے ۔ اور اس کے لیے بحیرہ روم پر اپنی حاکمیت قائم کر کے اور اسے عبور کرنے کے بعد افریقی ممالک پر قبضہ جما کر عملاً ان کو سربلند ہونے کا ثبوت مہیا کر رہا ہے ۔ یاد رہے کہ مسولینی نے دوسری جنگ عظیم سے پہلے افریقہ کے ممالک حبشہ ، ایریٹریا، طرابلس وغیرہ پر قبضہ کر لیا تھا ۔ دوسری جنگ عظیم کے شروع ہی میں مسولینی کو اتحادیوں نے زبردست شکست دی جس کے بعد یہ ممالک اس کے تسلط سے نکل گئے

تیسرا مشیر

 
میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب

معانی: عاقبت بینی: انجام کو دیکھ لینا ۔ قائل: ماننا ۔ افرنگی سیاست: اہل یورپ کی سیاست ۔ بے حجاب: بے پردہ ۔
مطلب: چوتھے مشیر کی رائے سن کر تیسرا مشیر اسے کہتا ہے کہ میں تو مسولینی کی سیاست اور نظام کو نہیں مانتا کیونکہ اس نے یہ نہیں سوچا کہ اس کا انجام کیا ہو گا ۔ اس کے انجام کے طور پر اہل یورپ کی سیاست کا پول کھل جائے گا اور اس طرح اشتراکی نظام کو مزید تقویت حاصل ہو گی ۔ لوگ مغربی جمہوریت اور ملوکیت کے ظلم کی طرح مسولینی کے فاشسٹ نظام کے ظلم کی وجہ سے اس سے بھی تنگ آ جائیں گے جس کے نتیجے میں اشتراکیت کو ابھرنے کا مزید موقع مل جائے گا ۔

پانچواں مشیر

 
(ابلیس کو مخاطب کر کے)

اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم استوار تو نے جب چاہا کیا ہر پردگی کو آشکار

معانی: سوزنفس: سانس کی تپش ۔ کار عالم: دنیا کا کام ۔ استوار: پائیدار ہونا، قائم ہونا ۔ پردگی: چھپی ہوئی ۔ آشکار: ظاہر ۔
مطلب: اے میرے آقا تیری سانس کی گرمی سے دنیا کا کام چل رہا ہے اگر لوگوں میں تیرے سینہ کی حرارت نہ پہنچی ہوتی تو یہ دنیا کے ہنگامے سرد رہتے تو تو وہ ہستی ہے کہ دنیا کی پوشیدہ باتیں بھی تجھ پر ظاہر ہیں اس لیے ہمیں یہ بتا کہ اس اشتراکی نظام سے ابلیسی نظام کو کیا خطرات ہیں ۔

 
آب و گل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز
ابلہَ جنت تری تعلیم سے دانائے کار

معانی: آب و گل: پانی اور ہوا ۔ حرارت: گرمی ۔ سوز و ساز: گرمی اور رنگینی ۔ ابلہ جنت: جنت کا بے وقوف یا بھولا، مراد ہے آدم ۔ دانائے کار: کام کو جاننے والا ۔
مطلب: یہ جہاں جو آگ ، پانی ، مٹی ، ہوا کے عناصر سے بنا ہوا ہے یا یہ آدم جو انہی عناصر سے وجود میں آیا ہے تیری دی گئی گرمی کی وجہ سے حرارت اور رنگینی کا مجسمہ ہے اور جنت کا یہ بھولا یعنی آدم تیری تعلیم کی وجہ سے ہی کاروبار دنیا سے آشنا ہے ۔ اگر تو اسے ممنوعہ درخت کے پاس جانے کی ترغیب نہ دیتا اور وہ اپنے بھول پن یا بے وقوفی کی بنا پر تیری اس تعلیم پر عمل نہ کرتا تو وہ جنت میں ہی رہتا اور اس میں فرشتوں کی طرح سوائے اللہ کی تسبیح بیان کرنے کے اور کوئی حرارت نہ ہوتی ۔ یہ جہان کی حرارت اور رنگینی اس آدم کے جنت سے نکلنے اور زمین پر آباد ہونے کی وجہ سے ہے ۔ زمین پر آباد بنی نوع آدم میں جو سوز و ساز دکھائی دیتا ہے یہ صرف تیری تعلیم کی وجہ سے ہے ورنہ یہاں بھی وہ سوائے اللہ کی یاد کے کچھ نہ کرتی ۔

 
تجھ سے بڑھ کر فطرتِ آدم کا وہ محرم نہیں
سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار

معانی: فطرت آدم: آدمی کی سرشت ۔ محرم: جاننے والا ۔ پروردگار: پالنے والا، خدا ۔
مطلب: میں تو یہ جانتا ہوں کہ آدمی کی سرشت کا تجھ سے بڑھ کر وہ خدا بھی جاننے والا نہیں جو سادہ دل بندوں میں جہان اور جہان والوں کا پالنے والا سمجھا جاتا ہے ۔ یہ تیرے آدمی کی فطرت کو جاننے ہی کا نتیجہ تھا کہ تو اسے بہلا پھسلا کر اور بے وقوف بنا کر اس درخت کا پھل کھانے پر مجبور کر سکا جس کے کھانے کی اسے ممانعت تھی اور اس طرح تو اسے جنت سے نکلوا سکا ۔

 
کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف
تیری غیرت سے ابد تک سرنگون و شرمسار

معانی: تسبیح: پاکی بیان کرنا ۔ تقدیس: بزرگی بیان کرنا ۔ طواف: پھیرے لینا ۔ ابد تک: ہمیشہ کے لیے ۔ سرنگوں : سر جھکائے : شرمسار: شرمندہ ۔ غیرت: عزت نفس ۔
مطلب: وہ فرشتے جو ہمیشہ اللہ کی پاکی اور بزرگی بیان کرتے رہتے ہیں اور اس کی ذات ہی کو پھیرے لینے کا اہل سمجھتے ہیں ۔ تیری غیرت کے آگے وہ بھی سر جھکائے ہوئے اور شرمندہ ہیں ۔ اس لیے کہ وہ تو خدا کے حکم پر آدم کو سجدہ کرنے کے لیے جھک گئے تھے لیکن تیری عزت نفس نے یہ گوارا نہیں کیا تھا اور تو نے آدم کو سجدہ کرنے کے مقابلے میں ہمیشہ کے لیے خدا کی درگاہ سے دور ہو جانے کو پسند کیا تھا ۔ اور پھر جب منع کئے ہوئے درخت کا پھل کھانے پر اس آدم کو جنت سے نکال دیا گیا جسے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا تو وہ اپنے فعل پر ہمیشہ کے لیے شرمندہ ہو کر رہ گیا ۔

 
گرچہ ہیں تیرے مرید، افرنگ کے ساحر تمام
اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار

معانی: مرید: بیعت کرنے والا، کسی کو مرشد ماننے والا ۔ افرنگ: یورپ ۔ ساحر: جادوگر ۔ فراست: دور اندیشی، عقل سمجھ ۔
مطلب: اے میرے آقا، اگرچہ یورپ کے سارے جادوگر جو اپنے سیاسی جادو اور چالبازی سے دنیا کی قوموں کو غلام بنائے ہوئے ہیں تجھے اپنا مرشد مانتے ہیں ۔ اپنے افکار و اعمال میں تیرے ہی اشارے پر چلتے ہیں لیکن اب مجھے ان کی دور اندیشی اور معاملات کو سمجھنے کی اہلیت پر شک ہونے لگا ہے ۔ اس بنا پر کہیں ایسا نہ ہو کہ ابلیسی نظام شکست کھا جائے ۔

 
وہ یہودی فتنہ گر، وہ روحِ مزدک کا بروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تاتار

معانی: یہودی فتنہ گر: فتنہ پیدا کرنے والا یہودی مراد ہے ۔ اشتراکی نظام دینے والا کارل مارکس ۔ مزدک: کارل مارکس سے بہت پہلے ایران میں ایک شخص گزرا ہے جس کا نام مزدک تھا اور اس نے بھی اشتراکی قسم کا نظام وضع کیا تھا اس لیے اصلاح میں اشتراکیت کو مزدکیت بھی کہتے ہیں ۔ بروز: سایہ، کسی کی صفتوں کا دوسرے میں آ جانا ۔ قبا: ایک قسم کا لباس ۔ تاتار: پارہ پارہ ۔
مطلب: پانچویں صدی عیسوی میں ایران میں مزدک نے جو نظام دیا تھا اسی قسم کا نظام بیسویں صدی عیسوی میں کارل مارکس نے دیا ہے ۔ جو صفتیں مزدک میں تھیں وہ کارل مارکس میں حلول کر گئیں ہیں ۔ اس یہودی کارل مارکس نے عہد حاضر میں مزدکیت یا اشتراکیت کا جو فتنہ اور فسادی نظام دنیا کو دیا ہے اس سے ہر دوسرے سیاسی نظام کا لبادہ پارہ پارہ ہونے والا ہے ۔ اشتراکیت ان سب نظاموں کو جو میرے آقا آپ کے پیدا کردہ ہیں ختم کر دے گی ۔

 
زاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسر شاہیں و چرغ
کتنی سُرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روزگار

معانی: زاغ دشتی: بیابان یا جنگل کا کوا، فاقہ کش، کسان، مزدور اور غریب کے لیے علامت ۔ شاہین و چرغ: دو پرندے جو دوسرے پرندوں کا شکار کر کے ان کو کھاتے ہیں ، بادشاہ، جاگیردار، زمیندار، کارخانہ دار اور وڈیرہ کی علامت، ہمسر: برابر ۔ روزگار: زمانہ ۔
مطلب: بیابان اور جنگل کے کوے جو بازوں اور چرغوں کا شکار تھے اب ان کی برابری کا دعویٰ کرنے لگے ہیں ۔ مراد ہے اشتراکی نظام نے محنت کشوں ، کسانوں ، مزدوروں ، غریبوں اور مظلوموں کے اندر اپنے حقوق حاصل کرنے کا ایسا شعور پیدا کر دیا ہے کہ اب وہ بادشاہوں ، نوابوں اور جاگیرداروں کی برابری کر رہے ہیں بلکہ ان کی جگہ لینے پر تلے ہوئے ہیں ۔ دیکھیں مزاج زمانہ کتنی تیزی سے بدلا ہے ۔

 
چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر
جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشتِ غبار

معانی: آشفتہ: پریشان ۔ وسعت افلاک: آسمانوں کا پھیلاوَ ۔ نادانی: بے وقوفی ۔ مشت غبار: گرد کی مٹھی ۔
مطلب: جس کو ہم اپنی بے وقوفی کی وجہ سے گرد کی یا مٹی کی ایک مٹھی سمجھے تھے اس نے پریشان ہو کر یا پھیل کر یہ صورت اختیار کر لی ہے کہ آسمانوں کے پھیلاوَ پر چھا گئی ہے ۔ مراد ہے کہ جس اشتراکی نظام کو شروع میں ہم معمولی سمجھے تھے اب اس نے روئے زمین کے سارے ملکوں میں ایک تحریک کی صورت اختیار کر لی ہے ۔

 
فتنہَ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج
کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئباز

معانی: فتنہ فردا: آنے والے کل یا مستقبل کا فتنہ ۔ عالم: حال، صورت ۔ ہیبت: دبدبہ، خوف ۔ کوہسار: پہاڑوں کا سلسلہ ۔ مرغزار: جنگل، باغ ۔ جوئباز: ندی نالے ۔
مطلب: یہ اشتراکی نظام جو مستقبل میں تمام اہل زمین کے لیے فتنہ و فساد کی صورت اختیار کر نے والا ہے اس سے پہاڑ، دریا، جنگل اور باغ سب لرز رہے ہیں مراد ہے دنیا کا ہر ملک خطرہ محسوس کر رہا ہے کہیں دبے ہوئے اور پسے ہوئے لوگ اس نظا م کی بدولت اٹھ نہ کھڑے ہوں اور یوں ان میں قائم جمہوری ملوکی ، یا جاگیردارانہ نظام ختم ہو کر نہ رہ جائے ۔

 
میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار

معانی: آقا: مالک ۔ زیر و زبر: تہس نہس، الٹ پلٹ ۔ سیادت: قیادت ۔ فقط: صرف ۔ مدار: انحصار ۔
مطلب: اے میرے مالک میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ جہان جس کا صرف تیری قیادت اور راہبری پر انحصار ہے وہ الٹ پلٹ ہونے کو ہے ۔ مراد ہے دنیا کو جو نظام ہائے سیاست و اقتصادیات ہم نے دے رکھے ہیں اشتراکیت کی وجہ سے ان سب کو خطرہ ہے اور ان کے ختم ہو جانے اور ان کی جگہ اشتراکیت کے آ جانے کا ڈر ہے ۔

ابلیس
(اپنے مشیروں سے)

 
ہے مرے دستِ تصرف میں جہانِ رنگ و بو
کیا ز میں ، کیا مہر و مہ، کیا آسمانِ تو بہ تو

معانی: دست: ہاتھ ۔ تصرف: قدرت، چیزوں اور معاملات میں دخل دے کر بولے سکنے کی طاقت ۔ جہان رنگ و بو: رنگ اور بو کا جہان ، وہ جہان جو رنگ اور خوشبو کی طرح خوشنما ہے اور کشش رکھتا ہے لیکن رنگ اور خوشبو کی طرح اڑ جانے والا ۔ مراد فانی دنیا ۔ تو بتو: تہ بہ تہ، تو: تہ ۔
مطلب: جب ابلیس کے پانچوں مشیر تقریریں کر چکے اور اپنا اپنا نقطہ نظر بیان کر چکے تو ابلیس تقریر کرنے کے لیے اٹھتا ہے اور بحث کو سمیٹتے ہوئے کہتا ہے کہ اے میرے ارکان سلطنت تمہیں فکر کی کوئی ضرورت نہیں ۔ میرے پاس ایسی طاقت ہے کہ میں اس فانی کائنات کی جملہ اشیا اور معاملات میں دخل دے کر ان کو اپنے حق میں کر سکتا ہوں ۔ مرے تصرف کا ہاتھ چھوٹا نہیں بلکہ یہ اس فانی دنیا کی وسیع زمین چاند، سورج اور تہ بہ تہ آسمانوں تک پہنچ سکتا ہے ۔ اور معاملات و اشیا کو ہر جگہ اپنے حق میں کر سکتا ہے ۔

 
دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق
میں نے جب گرما دیا اقوامِ یورپ کا لہو

معانی: تماشا: تعجب یا شوق سے دیکھنا ۔ شرق: مشرق ۔ غرب: مغرب ۔ لہو گرمانا: غصہ دلانا ۔ اقوام: جمع قوم ۔
مطلب لوگ اپنی توجہ اور حیرت کی آنکھوں سے مشرق اور مغرب کے اس نظارہ کو دیکھ لیں گے یا مشرق اور مغرب کے لوگ اس نظارہ کو دیکھ لیں گے جو میرے یورپ کی قوموں کو آپس میں غضب ناک کر دینے کی وجہ سے پیدا ہو گا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ علامہ کے ارمغان حجاز کی زیر نظر نظم کے لکھے جانے کے تین سال بعد 1939 میں تباہ کن جنگ عظیم برپا ہوئی جو 1945 تک رہی ۔ اور دنیا کی بہت بڑی تباہی کا سبب بنی ۔

 
کیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہُو

معانی: امامان سیاست: سیاست کے امام، سیاسی رہنما ۔ کلیسا: گرجا، عیسائیوں کی عبادت گاہ ۔ دیوانہ بنانا: عقل و ہوش سے بیگانہ کر دینا ۔ ہو: نعرہ مستانہ ۔ شیوخ: شیخ کی جمع ۔ کلیسا کے شیوخ: پادری، گرجوں کے شیخ، عیسائیوں کے مذہبی رہنما ۔
مطلب: مجھ میں اتنی طاقت اور صلاحیت ہے کہ اگر میں عالم مستی میں ایک نعرہ لگاؤں تو وہ یورپ کے سیاسی اور مذہبی راہنماؤں سب کو عقل و ہوش سے بیگانہ کر سکتا ہے اور وہ اپنے نظریات اور عقائد کو چھوڑ کر میرے راستہ پر آ سکتے ہیں ۔ اور میں جو کچھ چاہوں ان سے کراسکتا ہوں ۔

 
کارگاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو

معانی: کارگاہ: کارخانہ ۔ ناداں : بے وقوف ۔ اس تہذیب: مغربی تہذیب کی طرف اشارہ ہے ۔ جام و سبو: پیالے اور صراحیاں یا مٹکے ۔
مطلب : جو شخص یورپ کی تہذیب کو شیشے کے کارخانے کی طرح خوبصورت سمجھتا ہے وہ بے وقوف ہے ۔ وہ اس کارخانہ میں بنے ہوئے پیالوں ، مٹکوں یا صراحیوں کو توڑ کر ان کا اندر دیکھے تو اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ ظاہر میں توخوبصورت ہیں لیکن اندر سے بھیانک اور بدنما ہیں ۔ ان کے اندر جو شراب بھری ہوئی ہے وہ انسان کو حیوان بنا دیتی ہے ۔ مراد ہے تہذیب مغرب کا ظاہر بڑا دلفریب، دلکش اور حسین ہے لیکن اس کی حقیقت بڑی انسانیت سوز ہے ۔ شیطان کہتا ہے یہ اس لیے ہے کہ یہ تہذیب میری ہی پیدا کردہ ہے ۔

 
دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک
مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو

معانی: دست فطرت: قدرت کا ہاتھ ۔ چاک کرنا: پھاڑ دینا ۔ مزدکی منطق: اشتراکی فلسفہ یا نظریہ ۔ سوزن: سوئی ۔ رفو ہونا: سیا جانا ۔
مطلب: قدرت کے ہاتھوں نے جن گریبانوں کو پھاڑ رکھا ہے وہ اشتراکی نظریات کی سوئی سے نہیں سیے جا سکتے ۔ مراد یہ ہے کہ امیر غریب کا فرق قدرت نے خود پیدا کر رکھا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہو تو دنیا کا کاروبار نہ چلے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ قدرت اس فرق کو حقوق کی پامالی اور عزت نفس کی بربادی کا راستہ نہیں دکھاتی بلکہ ایک دوسرے کے حقوق اور دائرہ کار کا مقرر کر کے آبرومندانہ اور انسانیت بردار زندگی بسر کر نے کے لیے کہتی ہے ۔ اشتراکیت اس فرق کو مٹانا چاہتی جو ممکن بھی نہیں اور فطری بھی نہیں ۔ اس لیے یہ اشتراکی نظام ہمارے لیے خطرہ کا سبب نہیں ہے بلکہ یہ تو میرا ہی دیا ہوا اور سمجھایا ہوا ہے ۔ اس میں میری ہی روح کار فرما ہے ۔

 
کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار آشفتہ مغز ، آشفتہ ہُو

معانی: کوچہ گرد: آوارہ گرد ۔ پریشاں روزگار: پریشان زندگی والے ۔ آشفتہ مغز: دماغی طور پر پریشان ۔ آشفتہ ہو: پریشان خیالات والے یا پریشان نظریات اور باتوں والے ۔
مطلب: اشتراکی نظام کو ماننے والے انسانیت کی راہ سے بھٹکے ہوئے لوگ ہوتے ہیں ۔ آوارگی، پریشان دماغی اور فضول باتیں کرنا ان کی اہم خصوصیات ہیں ۔ ایسے لوگ ہمیں کب ڈرا سکتے ہیں ہمارے نظام کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ۔

 
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

معانی: خطر: ڈر ۔ اس امت: مسلمان قوم ۔ خاکستر: راکھ ۔ شرار آرزو: آرزو کی چنگاری ۔
مطلب: ملوکیت اور جمہوریت کی طرح مجھے اشتراکیت سے بھی کوئی خطرہ نہیں کیونکہ یہ بھی میری ہی پیدا کردہ ہے ۔ ہاں اگر مجھے کوئی ڈر ہے تو اس مسلمان قوم سے ہے جو جل کر اگرچہ راکھ ہو چکی ہے لیکن اس راکھ کے اندر دوبارہ ابھرنے کی آرزو کی چنگاری ابھی تک موجود ہے ۔ مجھے خوف ہے کہ یہ چنگاری پھر سے آگ نہ بن جائے ۔ اور ہمارے پیدا کردہ نظاموں کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے ۔

 
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضو

معانی: خال خال: کوئی کوئی ، کہیں کہیں ۔ اشک سحر گاہی: صبح کا رونا ۔ اشک سحر گاہی سے وضو کرنا: علی الصبح رو رو کر دعائیں اور التجائیں کرنا ۔
مطلب: اس مسلمان قوم میں ، باوجود اس کے مٹ جانے کے کہیں کہیں ایسا شخص اب بھی نظر آتا ہے جو علی الصبح اٹھ کر اپنی دعاؤں اور التجاؤں میں گڑگڑا کر اسلام کے دوبارہ عروج حاصل کر لینے کی آرزوئیں کرتا ہے ۔ یہ شخص ہمارے لیے ایک ظالم کی طرح ہے ۔ کہیں اس کی دعائیں اور التجائیں بار آور نہ ہو جائیں ۔ اگر ایسا ہو گیا تو سب شیطانی نظام روئے زمین سے مٹ جائیں گے ۔

 
جانتا ہے جس پہ روشن باطنِ ایام ہے
مزدکیت فتنہَ فردا نہیں ، اسلام ہے

معا نی: روشن: ظاہر ۔ باطن ایام: زمانے کا اندرون ۔ فتنہ فردا: کل پیدا ہونے والا فتنہ ۔ مزدکیت: اشتراکیت ۔
مطلب: جس شخص پر میری طرح زمانے کا اندرون ظاہر ہے وہ جانتا ہے کہ ابلیسی نظام کے لیے جو نظام کل کو فتنہ بننے والا ہے وہ اشتراکیت نہیں بلکہ اسلام ہے ۔

(۲)

 
جانتا ہوں میں یہ امت حاملِ قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندہَ مومن کا دیں

معانی: حامل قرآں : قرآن اٹھانے والی یا رکھنے والی مراد ہے قرآن پر عمل کرنے والی ۔ یہ امت: مسلمان قوم ۔ سرمایہ داری: دولت سے محبت کرنا ۔ بندہَ مومن: مومن بندہ، وہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتا ہے، صرف زبان سے نہیں دل سے اسے بھی مانتا ہے ۔
مطلب: جب شیطان نے اپنے اراکین سلطنت پر یہ بات منکشف کر دی کہ مستقبل میں اگر کوئی قوم ہمارے ابلیسی نظام کو ختم کرنے کے درپے ہو سکتی ہے تو وہ صرف مسلمان قوم ہے اور صرف اسلامی آئین آنے والے دور میں ہمارے نظام کے لیے خطرہ ہے ۔ تو اس پر اراکین نے تعجب کیا کہ عہد حاضر کی ایک غلام، بے بس اور بھٹکی ہوئی قوم کس طرح دوبارہ سرفراز ہو سکتی ہے تو اس کے جواب میں شیطان کہتا ہے کہ بے شک عہد حاضر کی مسلمان قوم قرآن پر عمل نہیں کر رہی اور قرآنی دستور پر یقین نہیں رکھتی اور اس کا ایمان قرآنی نظام کے بجائے سرمایہ دارانہ نظام پر ہے اور اس قوم کے افراد دین اسلام پر حقیقی معنوں میں عمل پیدا ہونے کے بجائے دولت سے محبت کرتے ہیں اور جاگیردارانہ، زمیندارانہ اور سرمایہ دارانہ رویہ رکھتے ہیں لیکن جیسا کہ میں بتانے والا ہوں صرف اسی قوم کے پاس قرآن پر مبنی وہ نظام ہے جس پر اگر اس نے عمل شروع کر دیا تو ہمارے پیدا کردہ جملہ نظاموں کو مٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔

 
جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدِ بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں

معانی: ید بیضا سفید ہاتھ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ عطا کیا تھا کہ جب وہ اپنا ہاتھ بغل میں رکھ کر پھر نکالتے تھے تو وہ چمکتا تھا اور اس سے نور نکلتا تھا ۔ پیران حرم: کعبہ کے پیر، مسلمانوں کی دینی اور روحانی راہنما ۔
مطلب: مغرب یورپ آزاد بھی ہے اور ترقی یافتہ بھی ۔ اس کی فضا روشن ہے دن کی طرح ۔ اس کے مقابلے میں مشرق کے ملک غلام بھی ہیں اور غیر ترقی یافتہ بھی ۔ یہاں کی فضا رات کی مانند ہے اندھیرا ہی اندھیرا ۔ اس اندھیرے کو جس روشنی سے دور کیا جا سکتا ہے وہ صرف اسلام کے پاس ہے لیکن اس کے دینی اور روحانی راہنما بے نور ہو چکے ہیں اس لیے ان سے اس تاریکی کے دور کئے جانے کی کوئی امید نہیں ۔

 
عصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں

معانی: عصر حاضر: موجودہ زمانہ ۔ تقاضا: لازمی، نتیجہ، ضرورت ۔ خوف: ڈر ۔ آشکارا: ظاہر ۔ شرع پیغمبر: حضرت محمد ﷺ کی شریعت ، دین اسلام کا نظام ۔
مطلب: شیطان اپنے رفقائے کار سے کہتا ہے ان سب باتوں کے باوجود موجودہ دور کے حالات دیکھ کر مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ حالات اہل دنیا کو تاریکی کا احساس دلا کر نور کی تلاش میں نکلنے کے لیے مجبور نہ کر دیں ۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ حضرت محمد ﷺ کے دیئے گئے نظام حیات کی طرف لپکیں گے کیونکہ نور صرف وہیں ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا کو دیا گیا ہمارا نظام حیات ختم ہو جائے گا ۔

 
الحذر آئینِ پیغمبر سے سو بار الحذر
حافظِ ناموسِ زن، مرد آزما، مرد آفریں

معانی: الحذر: ڈرو ۔ آئین پیغمبر: حضرت محمد مصطفی ﷺ کا دیا ہوا دستور حیات ۔ حافظ ناموس زن: عورت کی عزت کا حفاظت کرنے والا ۔ مرد آزما: مرد کو بطور مرد آزمانے والا ۔ مرد آفریں : مرد پیدا کرنے والا ۔
مطلب: میرے ساتھیو دنیا کے کسی نظام اور دستور سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ تو سب میرے ہی پیدا کردہ ہیں ہاں اس دستور سے یا اس آئین حیات سے جو قرآن و سنت کے ذریعے حضرت محمد مصطفی ﷺ نے دنیا کو دیا ہے ہر وقت ڈرتے رہو کیونکہ اس دستور میں عہد حاضر کے برعکس عورت کے عزت، عصمت اور عفت کی حفاظت کی جاتی ہے ۔ ایسے مرد پیدا کئے جاتے ہیں جو واقعی اپنی صفات کے اعتبار سے مرد ہوں ۔ عہد حاضر کے مردوں کی طرح نہیں کہ شکل و صورت اور جنس کے اعتبار سے تو مرد ہیں لیکن صفات کے اعتبار سے نامراد ہیں ۔ صفات کے لحاظ سے مرد ہوتے تو میرے ابلیسی نظام کا مقابلہ کرتے اور اسے کہیں نافذ نہ ہونے دیتے ۔ اسلام صرف یہ نہیں کرتا کہ مردوں کو حقیقی مردانہ صفات سے نوازتا ہے اور ان میں شیطانی نظام ہائے حیات کا مقابلہ کر کے اسے شکست دینے کی اہلیت اور صلاحیت پیدا کرتا ہے بلکہ آزماتا بھی ہے اور میدان عمل میں بھی ان کو سرگرم دکھاتا ہے ۔

 
موت کا ہے پیغام ہر نوعِ غلامی کے لیے
نے کوئی فغفور و خاقاں ، نے فقیرِ رہ نشیں

معانی: نوع غلامی: غلامی کی قسم ۔ نے: نہیں ہے ۔ فغفور و خاقاں : ترکستان اور چین کے ملکوں کے بادشاہوں کے لقب، مراد بادشاہ ۔ فقیر رہ نشیں : راستے میں بیٹھنے والا فقیر ۔
مطلب: قرآن و سنت کا دستور آدمی کو ہر قسم کی غلامی سے نجات دلاتا ہے یہ غلامی چاہے سیاسی ہو ، چاہے اقتصادی، چاہے تہذیبی ہو ، چاہے ثقافتی اس دستور میں بادشاہ اور حکمران کی غریب کے اور عام آدمی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ۔ وہ تخت نشین ہو کر بوریا نشیں ہوتا ہے ۔ بادشاہ ہوتے ہوئے عوام کا خادم ہوتا ہے ۔ عیسائیت ، ہندومت ، بدھ مت وغیرہ میں جس طرح لوگوں کو روحانی اور دینی راہنما اپنا غلام بنائے رکھتے ہیں یہ صورت حال بھی اسلامی نظام حیات میں نہیں ہے ۔ مسلمان ہر قسم کی غلامی سے آزاد ہوتا ہے اسلام میں غریب اور امیر کے درمیان اقتصادی فرق تو ہے لیکن بحیثیت انسان ان میں کوئی فرق نہیں ۔ یہاں غریب بھی اسی قدر عزت اور احترام کے قابل ہے جس قدر امیر، غریب کے بھی بحیثیت انسان وہی حقوق ہیں جو امیر کے ہیں ۔

 
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک و صاف
منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں 

معانی: آلودگی: میل کچیل ۔ منعم: جن پر اللہ نے دولت دے کر انعام کیا ہے ۔ ا میں : امانت رکھنے والا ۔
مطلب: اسلامی دستور حیات کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں دولت کمانے کا ذریعے محض حلال ذریعہ رکھا ہوا ہے ۔ یہ ہر قسم کی حرام کمائی سے مسلمان کو بچنے کے لیے کہتا ہے ۔ اور اپنی جائز کمائی کو جو اللہ نے اسے عطا کی ہے خود اپنے لیے سمیٹ کر رکھنے سے بھی منع کرتا ہے بلکہ اسے اللہ کی دی ہوئی امانت قرار دے کر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بھی کہتا ہے ۔ غریب، مسکین، یتیم، بیوہ ، مسافر، قیدی، وغیرہ نہ جانے کہاں کہاں اور کس کس پر خرچ کرنے کی یقین کرتا ہے ۔ زکواۃ یعنی مال کا ایک مقرر حصہ اور عشر یعنی مختلف قسم کی پیداوار کا ایک مقرر حصہ دولت مندوں اور زمنیداروں سے لیا جاے گا اور غریبوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کیا جائے گا ۔ اسلام صدقہ ، خیرات، فطرانہ وغیرہ کے ذریعے اپنی کمائی ہوئی دولت کو ضرورت مندوں کو دینے کے لیے بھی کہتا ہے ۔ اس طرز پر کمائی گئی اور خرچ کی گئی دولت آدمی کو سرمایہ دار بننے اور سرمایہ دارانہ رویہ اختیار کرنے سے روکتی ہے اور غریب کا استحصال نہیں ہونے دیتی ۔ انہی ذراءع کو شیطان نے دولت کمانے اور خرچ کرنے کے پاک صاف اور ہر میل کچیل سے پاک ذراءع کہا ہے ۔

 
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں ، اللہ کی ہے یہ زمیں

معانی: فکر: سوچ ۔ عمل: فعل، کام ۔ انقلاب: بدل جانا ۔
مطلب: زمین کے متعلق انسان کی سوچ میں اور اس سوچ کو کام میں لانے کی جو تبدیلی قرآن اور سنت کے ذریعے پیدا ہوئی ہے وہ کہیں دیکھنے میں نہیں آتی ۔ نہ ملوکیت میں اور نہ اشتراکیت میں اور نہ کسی اور نظام میں ۔ قرآن کہتا ہے کہ زمین اللہ کی ہے کسی بادشاہ، نواب، جاگیردار اور زمیندار کی نہیں ۔ اس کی ملکیت اور اس سے حاصل شدہ پیداوار کی تقسیم اللہ کے دیے گئے قوانین اور نظام کے مطابق ہو گی ۔ نہ کہ اشتراکی نظام کی طرح اسے حکومت کی اور ملوکی نظام کی طرح بادشاہ یا جاگیردار کی ملکیت سمجھا جائے گا ۔

 
چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں

معانی: چشم عالم: دنیا کی نظر ۔ پوشیدہ: چھپا ہوا ۔ آئیں : دستور ۔ خوب:اچھا ۔ غنیمت ہے: تسلی کے لیے کافی ہے ۔ مومن : اہل ایمان، مسلمان ۔ محروم یقیں : یقین کا نہ ہونا ۔
مطلب: ہمارے حق میں تو یہی بہتر ہے کہ ایسا آئین حیات اورر دستور العمل دنیا والوں کی نگاہوں سے چھپا رہے ۔ ہمارے لیے تسلی کی بات یہ ہے کہ آج کا اہل ایمان خود قرآن و سنت کے دیے گئے دستور پر یقین نہیں رکھتا ۔ اورر اسے کہیں بنیاد پرستی کا نام دے کر کہیں ترقی کی راہ میں حائل قرار دے کر اور کہیں کسی اور طریقے سے رو ک رہا ہے ۔ اس کے مقابلے میں دوسرے نظام ہائے حیات کو اپنائے ہوئے ہے جو ہماری ہی پیداوار ہیں ۔ اگر مسلمان کو پھر سے قرآن و سنت کے دستور پر یقین آ گیا تو ہماری اور ہمارے دیئے گیے نظا م ہائے حیات کی خیر نہیں ۔

 
ہے یہی بہتر الہٰیات میں الجھا رہے
یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے

معانی: الہیات: حکمت و فلسفہ کا ایک علم جس میں اللہ کے متعلق بحث ہوتی ہے ۔ کتاب اللہ: اللہ کی کتاب یعنی قرآن ۔ تاویلات: من مانے معنی پیدا کرنا ۔
مطلب: ہمارے لیے یہی بہتر ہے کہ آج کا مسلمان الہٰی علم کے مسائل و مباحثت میں اور قرآن کریم کے من مانے معنی پیدا کرنے کے چکر میں پھنس کر عمل سے بے گانہ رہے اور وہ اس فضول بحث سے نکل کر قرآن کی اصلیت اور حقیقت کی طرف دھیان نہ دے ۔

(۳)

 
توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات

معانی: تکبیر: نعرہ اللہ اکبر ۔ طلسم: جادو ۔ شش جہات: چھ طرفیں شمال، جنوب، مشرق، مغرب اوپر نیچے مراد ہے جہان ۔ خدا اندیش: خدا کی سوچ رکھنے والا، خدا کو ماننے والا ۔
مطلب: شیطان آرزو کرتا ہے اور اپنے ساتھیوں کو تلقین کرتا ہے کہ اس کوشش میں لگے رہو کہ خدا سے ڈرنے اور اس پر ایمان رکھنے والا مرد مسلمان پھر سے پیدا نہ ہو جائے اور اس کی زندگی میں جو تاریکی ہے وہ روشنی میں نہ بدل جایے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اگر مسلمان صحیح معنوں سے اللہ سے تعلق والا اور قرآن و سنت پر عمل کرنے والا بن گیا تو اس کے ایک نعرہ اللہ اکبر سے دنیا اور دنیا والوں کا وہ جادو ٹوٹ جائے گا جس کے ذریعے ہم نے مسلمانوں سمیت سب کو اپنے دام میں پھنسا کر اللہ سے دور کر رکھا ہے ۔

 
ابن مریم مر گیا یا زندہَ جاوید ہے
ہیں صفاتِ ذات حق، حق سے جدا یا عینِ ذات

معانی: ابن مریم: مریم کا بیٹا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ زندہ جاوید: ہمیشہ کے لیے زندہ ۔ صفات حق: اللہ کی صفتیں ۔ ذات حق: اللہ کی ذات ۔ عین ذات: ذات کا ظہور ۔
مطلب: جن مسائل و مباحثت نے آج تک مسلمانوں کو آپس میں الجھا کر عمل سے بے گانہ کر رکھا ہے ۔ ان میں سے شیطان چند کا ذکر کرتا ہے ۔ عہد حاضر کا ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں یا صلیب پر چڑھنے سے پہلے اٹھا لیے گئے ہیں اور کہیں آسمانوں میں موجود ہیں ۔ یہ مسئلہ برصغیر میں انگریزوں کی آمد کے بعد اس کے ایک صوبہ پنجاب کے قصبہ میں رہنے والے ایک شخص بنام غلام احمد مرزا کے اس دعویٰ کی بنا پر پیدا ہوا کہ وہ مسیح موعود ہے یعنی جس عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آنے اور آ کر نبی کریم ﷺ کی شریعت نافذ کر کے ساری دنیا میں اسلام پھیلانے کا ذکر احادیث میں آیا ہے وہ میں ہوں ۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا تھا جن لوگوں کو یقین دلا دیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو سولی پر لٹکا دیئے گئے تھے تو وہ دوبارہ نہیں آ سکتے البتہ اس کی مثل کوئی آ سکتا ہے اور وہ میں ہوں اس سے برصغیر میں خصوصاً اور دنیائے اسلام میں عموماً بحث کا دروازہ کھل گیا اور مسلمانوں میں اس وقت اس مسئلے پر آپس میں مخالفت شروع ہو گئی جب انہیں اتحاد کی ضرورت تھی ۔ اس شخص کے دعویٰ نبوت کرنے پر جن لوگوں نے اسے تسلیم کر لیا وہ قادیانی یا مرزائی کے نام سے جانے جاتے ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھے جاتے ہیں ۔ ایک اور بحث جس نے صدیوں سے مسلمانوں کو بحث مباحثے میں الجھا کر رکھا ے وہ یہ ہے کہ اللہ کی صفتیں اس کی ذات سے الگ ہیں یا اس کی ذات کا ظہور ہیں ۔ یہ بحث واحدتہ الوجود اور وحدۃ الشہود کی صوفیانہ اصلاحوں سے تعلق رکھتی ہے ۔

 
آنے والے سے مسیحِ ناصری مقصود ہے
یا مجدد جس میں ہوں فرزندِ مریم کی صفات

معانی: مسیح ناصری: حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ مجدد: دین کو دوبارہ زندہ کرنے والا ۔ فرزند مریم: مریم کا بیٹا، حضرت عیسیٰ ۔ مقصود: مقصد، غاءت ۔
مطلب: مندرجہ بالا شعر میں جس بحث کا ذکر کیا گیا ہے اس کی ایک شاخ یہ بھی ہے کہ جس مسیح کو قیامت سے پہلے دنیا میں آنا ہے اس سے مراد مریم کا بیٹا مسیح ہی ہے یا اس کے سوا کوئی اور شخص جس کا مقصد دین اسلام کو زندہ کرنا ہے اس سے مسیح ہونے کا دعویٰ کرنے والے مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق دو رائیں ہو گئیں ۔ ایک اس کو مسیح سمجھنے کی اور دوسری اس کو مجدد ماننے کی ۔ اس سے خود مرزائیوں کے اندر دو فرقے ہو گئے جو لوگ غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے تھے وہ تو قادیانی یا مرزائی کہلائے اور جو اسے مجدد یا مصلح کہتے تھے اور اسے نبی نہیں مانتے تھے وہ لاہوری مرزائی کہلائے ۔

 
ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم
اُمتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات

معانی: کلام اللہ: اللہ کا کلام یعنی قرآن ۔ حادث: مخلوق، اللہ کے پیدا کئے ہیں ۔ امت مرحوم: مری ہوئی امت، یعنی مسلمان قوم جو کبھی عروج پر ہونے کی وجہ سے زندہ کہلاتے تھی اور آج زوال کی وجہ سے مردہ کہلاتی ہے ۔
مطلب: آج کا مسلمان اس بحث میں الجھا ہوا ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ مخلوق ہیں یا غیر مخلوق یعنی یہ اللہ کی طرف سے پیدا کئے گئے ہیں یا اللہ کی طرف ازخود موجود ہیں ان دو عقائد میں سے کس عقیدے میں مسلمان کی نجات ہے اور کس عقیدے کو ماننے سے مردہ مسلمان قوم پھر سے زندہ ہو سکتی ہے ۔

 
کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں
یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات و منات

معانی: دور: زمانہ ۔ ترشے ہوئے: گھڑے ہوئے ۔ الہیات: اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے فلسفیانہ مسائل کا علم ۔ لات و منات: کعبہ میں کفار کی طرف سے رکھے ہوئے بتوں میں سے دو بتوں کے نام ۔
مطلب: کیا اس زمانے میں مسلمان کو اپنی حقیقت سے دور رکھنے کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ اللہ سے متعلق منطقی اور فلسفیانہ بحثوں میں الجھا ہوا ہے ۔ اور عملی اسلام سے بیگانہ ان اختلافی مسائل کے بتوں کی پرستش کر رہا ہے ۔ یہ بحثیں اسے خدا سے حقیقی تعلق کے حوالے سے اسی طرح دور رکھے ہوئے ہیں جس طرح بت اس کی راہ میں حائل ہوتے ہیں ۔ مومن کا دل تو خدا کا گھر ہونا چاہیے لیکن اس نے اس کعبہ دل میں فضول بحثوں کے لات و منات رکھ کر خدا کو اس سے باہر کر رکھا ہے ۔ یہ ہمارے لیے اے میرے رفقائے کار بڑی تسلی کی بات ہے ۔

 
تم اسے بیگانہ رکھو عالمِ کردار سے
تابساطِ زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات

معانی: بے گانہ: بے خبر ۔ عالم کردار: عملی جہان ۔ بساط: شطرنج کھیلنے کا کپڑا جس پر مہرے رکھنے کے لیے خانے بنے ہوئے ہوتے ہیں ۔ مات: شکست ۔
مطلب: شیطان اپنے ساتھیوں کو حکم دیتا ہے کہ تم مسلمانوں کو عملی دنیا سے اسی طرح بے گانہ رکھو تاکہ زندگی کی شطرنج پر اس کے سارے مہرے شکست کھا جائیں اور وہ ہر میدان میں زوال پذیر رہے ۔

 
خیر اسی میں ہے قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات

معانی: خیرت :خیرت ، سلامتی ۔ قیامت: وہ دن جب دنیا ختم ہو جائے گی ۔ مومن: اہل ایمان، مسلمان ۔ اوروں کی خاطر: دوسروں کے لیے ۔ جہان بے ثبات: فانی دنیا ۔
مطلب: ہماری خیریت اور سلامتی اسی میں ہے کہ مسلمان دوسروں کیلیے جیتا رہے اس دنیائے فانی کی نعمتیں ، ترقی، خوشحالی اور حاکمیت چھوڑ کر قیامت تک ان کا غلام بنا رہے ۔

 
ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات

معانی: تصوف: روحانیت کا علم، اصلاح باطن کا طریقہ ۔ تماشائے حیات: زندگی کا دلچسپ اور قابل دید نظارہ ۔ خوب تر: زیادہ اچھا ۔
مطلب: مسلمان کے لیے وہ شاعری اور وہ روحانی علم و عمل ہی زیادہ اچھا ہے جس کی بدولت وہ عملی زندگی سے بیگانہ اور زندگی کے دلچسپ نظاروں سے محروم رہے اور ایسی روحانیت کے طور طریقوں سے منع کرتا ہے جس سے وہ زندگی کی اصل حقیقت سے بےگانہ ہو جائے ۔ یہاں تصوف سے مراد مطلق تصوف یا اسلامی تصوف نہیں بلکہ ایسا تصوف ہے جو رہبانیت کا ہم پلہ ہے ۔

 
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات

معانی: ہر نفس: ہر سانس، ہر لمحہ ۔ اس امت: مسلمان قوم ۔ دین: مذہب، مراد ہے مذہب اسلام ۔ حقیقت: اصلیت ۔ احتساب کائنات: دنیا کا اور دنیا والوں کا محاسبہ کرنا یا باز پرس کرنا ۔ بیداری: جاگ اٹھنا ۔
مطلب: میں ہر لمحہ اس مسلمان قوم کے جاگ اٹھنے سے ڈرتا ہوں جو اس وقت غفلت کی نیند سوئی ہوئی ہے ۔ کیونکہ صرف اسی کا مذہب یعنی مذہب اسلام ہی وہ مذہب ہے جو پوری کائنات پر نظر رکھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کہاں خرابی ہے اور کہاں اچھائی ہے اور جہاں خرابی ہو اس کو دور کرتا ہے اور جہاں اچھائی ہو اسے اور پھیلاتا ہے اور برائی سے روکتا ہے نیکی کی تلقین کرتا ہے ۔

 
مست رکھو ذکر و فکرِ صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے

معانی: ذکر و فکر: اللہ کا ذکر کرنا اور اس کی صفات میں غور کرنا ۔ صبح گاہی: صبح کے وقت کا ۔ پختہ تر: زیادہ پکا ۔ مزاج: طبیعت ۔ خانقاہی: رہبانیت ۔
مطلب: اللہ کا ذکر کرنا اور اس کی صفات میں غور کرنا اور پھر اپنی اور کائنات کی حقیقت سے آشنا ہونا اسلامی عبادت اور اسلامی تصوف کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے ۔ لیکن جب یہ ذکر و فکر اسے عملی دنیا سے بے گانہ کر دے تو یہی اس کے لیے زہر قاتل بن جاتا ہے ۔ آج کے مسلمان چونکہ اس دوسرے قسم کے ذکر و فکر میں مشغول ہیں اور عملی زندگی سے بیگانہ ہو چکے ہیں اس لیے شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ تم اسے صبح کے وقت کے اس ذکر و فکر میں مشغول اور مست رکھو جس سے اس کا رہبانی مزاج اور پکا ہو جائے اور وہ عملی دنیا سے غافل دوسروں کا محتاج اور غلام بنا رہے ۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ اگر وہ ذکر و فکر کی اصل حقیقت سے آگاہ ہو گیا تو ہمارے نظام کی دھجیاں بکھیر دے گا ۔