Please wait..

جواب (دوسرا بند)

 
تن و جاں را دو تا گفتن کلام است
تن و جاں را دو تا دیدن حرام است

مطلب: تن و جان کو دو کہنا (تمیز کرنا) درست نہیں اور تن و جان کو دو کہنا حرام ہے (تن و جان دونوں تخلیق ربی ہیں ) اور ایک ہی وجود مطلق کے دو مظہر ہیں ۔ اس لیے دونوں کو الگ الگ کہنا درست نہیں ) ۔

 
بجاں پوشیدہ رمز کائنات است
بدن حالے ز احوال حیات است

مطلب: جان (روح) کے اندر کائنات کی رمز (پہچان) چھپی ہوئی ہے ۔ اور بدن، زندگی کے احوال میں ایک حال ہے (زندگی کو اپنے اظہار کے لیے بدن کی ضرورت ہے ۔ بدن کے بغیر جان کا اظہار ممکن نہیں ) ۔

 
عروس معنی از صورت حنا بست
نمود خویش را پیرایہ ہا بست

مطلب: معنی (جان و روح) کی دلہن نے صورت کی مہندی رچائی ۔ اس نے اپنے اظہار کے لیے مختلف اقسام کے لباس زیب تن کئے ۔ (اگر روح دلہن ہے تو بدن اس کے لیے آرائش کی طرح ہے ۔ بدن کے بغیر جان اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر سکتی) ۔

 
حقیقت روے خود را پردہ باف است
کہ او را لذتے در انکشاف است

مطلب: حقیقت اپنے چہرے کے لیے خود ہی پردہ بنتی ہے ۔ کیونکہ اسے اپنے راز کے اظہار میں سرور آتا ہے ۔ (یہی وجہ ہے کہ روح جسم میں یا جان بدن میں پوشیدہ رہ کر اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنا پسند کرتی ہے) ۔
دوسرے بند کا خلاصہ
چونکہ ہر شے میں صفات الہٰیہ کا ظہور ہے ۔ اس لیے جان و بدن میں دوئی نہیں ۔ دونوں ایک ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورت ہیں ۔