Please wait..

زیارت امیر اکبر حضرت سید علی ہمدانی و ملا طاہر غنی کشمیری
(امیر کبیر حضرت سید علی ہمدانی اور ملا طاہر غنی کشمیری کی زیارت)

 
حرف رومی در دلم سوزے فگند
آہ پنجاب آں زمین ارجمند

مطلب: رومی کی بات نے میرے دل میں سوز پیدا کر دیا ۔ آہ پنجاب کی وہ قدر و منزلت والی سرزمین ۔

 
از تپ یاراں تپیدم در بہشت
کہنہ غمہا را خریدم در بہشت

مطلب: بہشت میں دوستوں کی یاد کی گرمی نے مجھے بہت تڑپا دیا اور اس طرح میں نے بہشت میں پرانے غم خرید لیے یعنی پرانے غم تازہ ہو گئے ۔

 
تا در آں گلشن صدائے دردمند
از کنار حوض کوثر شد بلند

مطلب: اچانک اس گلشن (بہشت) میں حوضِ کوثر کے کنارے سے ایک دردمند صدا بلند ہوئی ۔

 
جمع کردم مشت خاشاکے کہ سوزم خویش را
گل گماں دارد کہ بندم آشیاں در گلستاں

مطلب: میں نے تنکوں کی ایک مٹھی اکٹھی کی تا کہ اپنے آپ کو جلا لوں لیکن پھر یہ گمان کر رہا ہے کہ شاید میں گلستان میں آشیانہ بنا رہا ہوں ۔

 
گفت رومی آنچہ می آید نگر
دل مدہ با آنچہ بگزشت اے پسر

مطلب: رومی نے کہا جو کچھ نظر آ رہا ہے اس سے دل لگا، اے بیٹے ، برخوردار جو کچھ گزر چکا ہے اس سے دل نہ لگا ۔

 
شاعر رنگیں نوا طاہر غنی
فقر او باطن غنی، ظاہر غنی

مطلب: یہ رنگیں نوا شاعر طاہر غنی ہے جس کا فقر اندر سے بھی غنی (بے نیاز) ہے اور باہر سے بھی غنی ۔

 
نغمہ می خواند آں مست مدام
در حضور سید و الامقام

مطلب: یہ ہمیشہ مست رہنے والا (غنی) سید والا مقام کے حضور نغمہ الاپ رہا تھا ۔

 
سید السادات سالار عجم
دست او معمار تقدیر امم

مطلب: یہ یعنی علی ہمدانی سادات کے سردار اور عجم کے سالار ہیں ۔ ان کے ہاتھ امتوں کی تقدیر کا معمار (تقدیر بنانے سنوارنے والے) ہیں ۔ ان کی تبلیغ سے اہل کشمیر اسلام میں شامل ہوئے اور ان کی تقدیر سنور گئی ۔

 
تا غزالی درس اللہ ہو گرفت
ذکر و فکر از دودمان او گرفت

مطلب: جب امام غزالی نے اللہ ہو کا سبق لیا تو انھوں نے ان (ہمدانی) کے خاندان کے بزرگوں سے ذکر و فکر کی تعلیم پائی تھی ۔

 
مرشد آں کشور مینو نظیر
میر و درویش و سلاطیں را مشیر

مطلب: اس جنت نظیر کشور (کشمیر) کے وہ مرشد تھے اور امیروں اور درویشوں کے وہ مشیر تھے ۔

اگر فردوس بر روئے زمین است ہمین است و ہمین است و ہمین است

(اگر روئے زمین پر کہیں کوئی فردوس ہے تو وہ یہی کشمیر ہے اور یہی ہے اور یہی ہے )

 
خطہ را آں شاہ دریا آستیں
داد علم و صنعت و تہذیب و دیں

مطلب: اس خطہَ کشمیر کو اس دریا آستین (فیاض) شاہ ہمدانی نے علم اور صنعت اور تہذیب و دین عطا کیا ۔ ( ان کے ساتھ ایران سے آئے ہوئے صنعت کاروں نے کشمیریوں کو قالین سازی، خطاطی، پارچہ بانی اور نقاشی وغیرہ کے ہنر سکھائے اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے آشنا کیا ) ۔

 
آفرید آں مرد ایران صغیر
با ہنرہائے غریب و دلپذیر

مطلب: انھوں (ہمدانی) نے کشمیریوں کو نادر اور دل پذیر ہنر سکھا کر کشمیر کو برصغیر میں چھوٹا ایران بنا دیا ۔

 
یک نگاہ او کشاید صد گرہ
خیز و تیرش را بدل راہے بدہ

مطلب: ان (ہمدانی) کی ایک نگاہ سو گرہیں کھولتی ہے یعنی (مشکلیں حل کرتی ہے ) تو بھی اٹھ اور ان کے تیر کو دل میں راہ دے ۔