Please wait..

نمودرا شدن خواجہ اہل فراق ابلیس
(اہلِ فراق کے سردار ابلیس کا ظاہر ہونا)

 
صحبت روشندلاں یک دم، دو دم
آں دو دم سرمایہ بود و عدم

مطلب: ان روشن دل حضرات کی صحبت بس دو ایک پل ہی رہی ۔ اور یہ دو ایک پل میرے لیے میری ساری زندگی کا سرمایہ بنے ۔

 
عشق را شوریدہ تر کرد و گزشت
عقل را صاحب نظر کرد و گزشت

مطلب: اس صحبت نے میرے عشق کو کچھ اور شوریدہ کر دیا اور ختم ہو گئی، اس نے میری عقل کو صاحب نظر بنا دیا اور ختم ہو گئی ۔

 
چشم بربستم با خود دارمش
از مقام دیدہ در دل آرمش

مطلب: میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں تاکہ میں (اس عظیم صحبت کی یاد کو ) اپنے ساتھ رکھوں ، کبھی نہ بھولوں اور آنکھوں کی راہ سے اسے دل میں لے آوَں ، دل میں بسا لوں ۔

 
ناگہاں دیدم جہاں تاریک شد
از مکاں تا لامکاں تاریک شد

مطلب: اچانک میں نے دیکھا کہ جہان تاریک ہو گیا ۔ مکاں سے لامکاں تک تاریکی چھا گئی ۔

 
اندر آں شب شعلہ ئی آمد پدید
از درونش پیر مردے بر جہید

مطلب: اس رات (تاریکی ) میں ایک شعلہ ظاہر ہوا، جس کے اندر سے ایک بوڑھا آدمی باہر نکلا ۔ (ابلیس کی تخلیق آگ سے ہوئی، اسی لیے شعلے کی بات کی گئی ہے) ۔

 
یک قبائے سرمہ ئی اندر برش
غرق اندر دود پیچاں پیکرش

مطلب: وہ ایک سرمئی رنگ کی کالی قبا میں ملبوس تھا ۔ اس کا جسم یا پیکر بل کھاتے ہوئے دھوئیں سے ڈوبا ہوا تھا ۔

 
گفت رومی خواجہ اہل فراق
آں سراپا سوز و آں خونیں ایاق

مطلب: رومی نے کہا کہ یہ اہل فراق کا سردار ابلیس ہے، جو سر تا پا سوز ہے اور جس کے پیالے (دل) میں خون بھرا ہوا ہے ۔ سراپا سوز اس لیے کہ وہ آگ سے بنایا گیا ہے، خونیں ایاق اس حوالے سے کہ وہ آدم کو سجدہ نہ کر کے راندہَ درگاہ ٹھہرا، یہ امر اسکی آرزووَں کا خون تھا ۔

 
کہنہ ی کم خندہ ی اندک سخن
چشم او بینندہ ی جاں در بدن

مطلب: وہ ایک ایسا بوڑھا ہے جو نہ ہنسنے والا ہے (سنجیدہ ہے) اور کم باتیں کرنے والا یعنی کم گو ہے ۔ اس کی نظر آدمی کے جسم میں جان کو دیکھ لیتی ہے ۔

 
رند و ملا و حکیم و خرقہ پوش
در عمل چوں زاہدان سخت کوش

مطلب: وہ رند بھی ہے ، ملا بھی ہے اور فلسفی و خرقہ پوش بھی ، عمل میں وہ سخت ریاضت کرنے والے زاہدوں کی مانند ہے ۔

 
فطرتش بیگانہ ی ذوق وصال
زہد او ترک جمال لایزال

مطلب: اس کی فطرت ذوق وصال سے نا آشنا ہے ۔ اس کا زہد اس حسنِ ابدی کو ترک کرنا ہے (اسے خدا سے دوری پسند ہے) ۔

 
تا گسستن از جمال آساں نبود
کار پیش افگند از ترک سجود

مطلب: چونکہ اس محبوبِ حقیقی کے جمال سے خود کو الگ یا دور رکھنا آسان نہ تھا اس نے یہ کام آدم کو سجدہ نہ کرنے سے انجام دیا ۔

 
اندکے در واردات او نگر
مشکلات او ثبات او نگر

مطلب: ذرا اس کی واردات پر نظر ڈال ۔ اس کی مشکلات اور اس کا ثبات دیکھ ۔

 
غرق اندر رزم خیر و شر ہنوز
صد پیمبر دیدہ و کافر ہنوز

مطلب: وہ ابھی تک رزم خیر و شر میں غرق ہے ۔ اس نے سینکڑوں پیغمبر دیکھے ہیں مگر ابھی تک وہ کافر کا کافر ہی ہے ۔

 
جانم اندر تن ز سوز او تپید
بر لبش آہے غم آلودے رسید

مطلب: اس (ابلیس) کی آگ (سوز) سے میرے جسم میں میری جان تڑپنے لگی، اس کے ہونٹوں سے ایک غم آلودہ آہ غم نکلی (اس نے غم بھری آہ کھینچی) ۔

 
گفت و چشم نیم وا بر من کشود
در عمل جز ما کہ بر خوردار بود

مطلب: اس نے اپنی ادھ کھلی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور کہا، عمل میں ہمارے سوا اور کون فائدہ اٹھانے والا ہوا ہے ۔

 
آنچناں بر کار ہا پیچیدہ ام
فرصت آدینہ را کم دیدہ ام

مطلب: میں اپنے کام میں اس حد تک الجھا ہوا ہوں کہ مجھے جمعہ کے روز (چھٹی کے دن ) بھی فرصت میسر نہیں ہے ۔

 
نے مرا فرشتہ ئی نے چاکرے
وحی من بے منت پیغمبرے

مطلب: نہ تو میرا کوئی فرشتہ ہی ہے اور نہ کوئی نوکر چاکر ہی، اور میری وحی کسی پیغام بر (وحی لانے والا فرشتہ) کے بغیر ہے ۔ یعنی اگرچہ مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی لیکن لوگ میرے پیغام کو اہمیت دے کر اس پر خوشی سے عمل کرتے ہیں ۔

 
نے حدیث و نے کتاب آوردہ ام
جان شیریں از فقیہاں بردہ ام

مطلب: میں نہ تو کوئی حدیث لایا ہوں اور نہ کوئی آسمانی کتاب ہی مگر میں نے فقیہوں کی میٹھی جان نکال لی ہے ۔ ( میں نے انہیں پیٹ کا غلام بنا کر ان کے روحانی جذبے ختم کر دیے ہیں ۔ ) ۔

 
رشتہ دیں چوں فقیہاں کس نہ رشت
کعبہ را کردند آخر خشت خشت

مطلب: دین کا دھاگہ فقیہوں کی طرح کسی نے نہیں کاتا (یا نہیں پرویا) ۔ انھوں نے آخر کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ (فرقہ بندی سے اس کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ) ۔

 
کیش ما را ایں چنیں تاسیس نیست
فرقہ اندر مذہب ابلیس نیست

مطلب: ہمارے مذہب کی بنیاد اس قسم کی نہیں ہے ۔ ابلیس کے مذہب میں کوئی فرقہ نہیں ہے ۔

 
در گزشتم از سجود اے بے خبر
ساز کردم ارغنون خیر و شر

مطلب: اے بے خبر میں نے (آدم کو) سجدے سے انکار کر کے خیر و شر کے ساز کو نغمہ نکالنے کے لائق بنا دیا ۔ (اگر میں آدم کو گمراہ نہ کرتا تو وہ بھی فرشتوں کی طرح خیر ہی خیر ہوتا جس سے دنیا اس رونق سے محروم رہتی جو آج اس خیر و شر کی باہمی تکرار سے پیدا ہو رہی ہے ) ۔

 
از وجود حق مرا منکر مگیر
دیدہ بر باطن کشا، ظاہر مگیر

مطلب: تو مجھے خدا کے وجود سے انکار کرنے والا نہ سمجھ تو میرے باطن پر نظر ڈال، میرا ظاہر نہ دیکھ ۔

 
گر بگویم نیست، ایں از ابلہی است
زانکہ بعد از دید نتواں گفت نیست

مطلب: اگر میں یہ کہتا ہوں کہ خدا نہیں ہے تو یہ میری حماقت ہو گی، کیونکہ اس ذات کو دیکھنے کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نہیں ہے ۔

 
من بلیٰ در پردہ ی لا، گفتہ ام
گفتہ ی من خوشتر از ناگفتہ ام

مطلب: میں نے نہیں کے پردے میں ہاں کہا ہے ۔ میرا یہ کہنا میرے نہ کہنے سے بہتر ہے ۔

 
تا نصیب از درد آدم داشتم
قہر یار از بہر او نگزاشتم

مطلب: چونکہ میں آدم کے درد کا حصہ دار ہوں یعنی درد سے آگاہ ہوں ، اس لیے میں نے یار (خدا) کا غضب آدم کے لیے نہ چھوڑا، خود پر لے لیا ۔

 
شعلہ ہا از کشت زار من دمید
او ز مجبوری بہ مختاری رسید

مطلب: میری کھیتی سے انکار اور شر کے شعلے پیدا ہوئے جس کے باعث آدم مجبوری سے مختاری تک پہنچا ۔

 
زشتی خود را نمودم آشکار
باتو دادم ذوق ترک و اختیار

مطلب: میں نے اپنی بدی کو واضح طور پر ظاہر کر کے تمہیں اختیار اور ترک کا ذوق دے دیا ۔

 
تو نجاتے دہ مرا از نار من
وا کن اے آدم گرہ از کار من

مطلب: تو مجھے میری آگ سے رہائی دلا، اے آدم تو میری گتھی سلجھا دے (میری مشکل حل کر دے ) ۔

 
اے کہ اندر بند من افتادہ ئی
رخصت عصیاں بشیطاں دادہ ئی

مطلب: اے وہ انسان تو جو میری قید میں پڑا ہوا ہے اور گناہ کی اجازت تو نے مجھ شیطان کو دے رکھی ہے ۔

 
در جہاں باہمت مردانہ زی
غم گسار من ز من بیگانہ زی

مطلب: میرے غمگسار تو مجھ سے بیگانہ ہو کر زندگی گزار اور جہان میں ہمت مردانہ سے زندگی بسر کر ۔

 
بے نیاز از نیش و نوش من گزر
تا نہ گردد نامہ ام تاریک تر

مطلب: تو میرے نیش (تلخی) اور شیرینی سے بے نیاز ہو کر گزر جا تاکہ میرا نامہَ اعمال اور زیادہ سیاہ نہ ہو ۔

 
در جہاں صیاد با نخچیر ہاست
تا تو نخچیری بکیشم تیر ہاست

مطلب: دنیا میں شکاری اس لیے ہے کہ شکار موجود ہیں ۔ جب تک تو میرا شکار بنا رہے گا میرے ترکش میں تیر رہیں گے ۔

 
صاحب پرواز را افتاد نیست
صید اگر زیرک شود صیاد نیست

مطلب: پرواز جاننے والا کبھی نہ گرتا، اگر شکار ہو شیار ہو جائے تو شکاری کا وجود بھی نہیں رہتا ۔

 
گفتمش بگزر ز آئین فراق
ابغض الاشیاء عندی الطلاق

مطلب: میں (زندہ رود) نے اس سے کہا کہ تو (ابلیس) فراق کا دستور چھوڑ دے یعنی خدا سے معافی مانگ لے ۔ اس سلسلے میں تو اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر اللہ تعالیٰ کے نزدیک طلاق سب سے ناپسندیدہ عمل ہے ۔

 
گفت ساز زندگی سوز فراق
اے خوشا سرمستی روز فراق

مطلب: وہ بولا کہ ہجر و فراق کے سوز ہی میں زندگی کا لطف ہے ۔ واہ روزِ فراق کی سرمستی کے کیا کہنے ہیں (روز فراق یعنی سجدہ سے انکار کا دن، گویا ابلیس کو اس فراق ہی سے اپنی انفرادیت قائم کرنے کا موقع ملا ہے ۔ )

 
بر لبم از وصل می ناید سخن
وصل اگر خواہم نہ او ماند نہ من

مطلب: میرے (ابلیس کے ) ہونٹوں پر وصل کا لفظ ہی نہیں آتا، اگر میں وصل کی خواہش کرتا ہوں تو نہ تو وہ رہے گا اور نہ میں رہوں گا ۔ یعنی خدا کی اور میری شناخت خیر اور شر سے ہے ۔ وہ سراپا خیر اور میں سراپا شر ہوں ۔ اگر خیر و شر کا فرق ختم ہو گیا تو خدا کو کوئی نہیں پہچانے گا ۔

 
حرف وصل اورا ز خود بیگانہ کرد
تازہ شد اندر دل او سوز و درد

مطلب: وصل کے لفظ نے اسے (ابلیس کو) خود سے بیگانہ کر دیا بے خود ہو گیا ۔ اس کے دل میں سوز و درد از سر نو تازہ ہو گیا ۔ اسے پرانی یادوں نے بے قرار کر دیا ۔

 
اندکے غلطید اندر دود خویش
باز گم گردید اندر دود خویش

مطلب: وہ کچھ دیر تک اپنے دھوئیں میں تڑپا اور پھر اپنے اسی دھوئیں میں غائب ہو گیا ۔

 
نالہ ئی زاں دود پیچاں شد بلند
اے خنک جانے کہ گردد دردمند

مطلب: اس بل کھاتے ہوئے دھوئیں میں سے ایک فریاد بلند ہوئی ۔ اس جان کے کیا ہی کہنے (کیا خوب ہے وہ جان جس میں درد ہو ۔