Please wait..

حکمت خیر کثیر است

 
گفت حکمت را خدا خیر کثیر
ہر کجا ایں خیر را بینی بگیر

مطلب: اللہ تعالیٰ نے حکمت کو خیر کثیر کہا ہے ۔ یہ نعمت جہاں کہیں بھی تجھے نظر آئے اپنا لے ۔

 
علم حرف و صوت را شہپر دہد
پاکی گوہر بہ نا گوہر دہد

مطلب: علم حرف اور آواز کو بڑ ی پرواز کرنے والے پر عطا کرتا ہے اور اپنی چمک سے محروم ہو جانے والے موتیوں کو چمک کی پاکی عطا کرتا ہے ۔

 
علم را بر اوج افلاک است رہ
تا ز چشم مہر بر کندد نگہ

مطلب: علم کا راستہ آسمانوں کی بلندی پر ہے اور اس میں وہ قوت ہے کہ وہ سورج کی آنکھ سے نگاہ چھین لیتا ہے ۔

 
نسخہ او نسخہ  تفسیر کل
بستہ تدبیر او تقدیر کل

مطلب: علم کا نسخہ کائنات کی ساری موجودات کے نسخہ کی تفسیر ہے اور تمام موجودات کی تقدیر اس سے وابستہ ہے ۔

 
دشت را گوید حبابے دہ دہد
بحر را گوید سرابے دہ دہد

مطلب: اگر علم بیابان سے یہ کہے کہ پانی کا بلبلا دے تو وہ دے دیتا ہے اور اگر وہ سمندر سے کہے کہ سراب دے تو وہ دے دیتا ہے ۔

 
چشم او بر واردات کائنات
تا بہ بیند محکمات کائنات

مطلب: اس کی آنکھ کائنات کی واردات پر ہوتی ہے تاکہ وہ کائنات کی محکمات دیکھ سکے ۔

 
دل اگر بندد بہ حق پیغمبری است
ور ز حق بیگانہ گردد کافری است

مطلب: اگر علم حق (خدا) سے دل لگائے تو یہ پیغمبری ہے اور اگر وہ حق سے بیگانہ رہے تو یہ گویا کافری ہے ۔

 
علم را بے سوز دل خوانی شر است
نور او تاریکی بحر و بر است

مطلب: اگر تو علم کو سوزِ دل (عشق) کے بغیر پڑھے تو یہ شر ہے اور اس (علم) کا نور بحر و بر کی تاریکی ہے ۔

 
عالمی از غاز او کور و کبود
فرودینش برگ ریز ہست و بود

مطلب: اس کی (علم کی) گیس کے دھوئیں سے دنیا میں تاریکی پھیل جاتی ہے اور اس کا موسم بہار کائنات کے پتے اور پھل گرا دیتا ہے ۔

 
بحر و دشت و کوہسار و باغ و راغ
از بم طیارہ او داغ داغ

مطلب: سمندر اور دشت و کوہسار اور باغ و سبزہ زار سب اس کے جہاز کے بم سے داغ داغ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں ۔

 
سینہ افرنگ را نارے ازوست
لذت شبخوں و یلغارے ازوست

مطلب: اسی علم نے افرنگ ، اہل یورپ کے سینے میں آگ بھری ہے اور اسی علم سے انہیں دوسری قوموں پر شب خون مارنے اور ان پر حملے کرنے کی لذت حاصل ہوئی ہے ۔

 
سیر واژونے دہد ایام را
می برد سرمایہ ی اقوام را

مطلب: ایسا علم، زمانے کو پیچھے لے جاتا ہے اور اقوام سے ان کا سرمایہ چھین لیتا ہے ۔

 
کشتن ابلیس کارے مشکل است
زانکہ او گم اندر اعماق دل است

مطلب: شیطان کو مارنا مشکل کام ہے کیونکہ وہ دل کی گہرائیوں میں گم ہے ۔

 
خوشتر آں باشد مسلمانش کنی
کشتہ شمشیر قرآنش کنی

مطلب: بہتر یہی ہے کہ تو اسے مسلمان کر لے اور اسے قرآن کریم کی تلوار سے قتل کر دے ۔

 
از جلال بے جمالے الاماں
از فراق بے وصالے الاماں

مطلب: ایسا جلال جمال سے عاری ہے ، اس سے خدا کی پناہ ہے ۔ وصال کے بغیر جو فراق ہے اس سے خدا کی پناہ ۔

 
علم بے عشق است از طاغوتیاں
علم با عشق است از لاہوتیاں

مطلب: جو علم عشق سے خالی ہے وہ شیطانوں کا علم ہے اور عشق والا علم لاہوتیوں کا علم ہے (عارفان الہٰی سے ہے) ۔

 
بے محبت علم وحکمت مردہ ئی
عقل تیرے بر ہدف ناخوردہ ئی

مطلب: محبت کے بغیر جو علم و حکمت ہے وہ مردہ ہے اور عقل ایک ایسا تیر ہے جو نشانے پر نہیں لگتا ۔

 
کور را بینندہ از دیدار کن
بولہب را حیدر کرار کن

مطلب: تو اندھے کو دیدار الہٰی سے بینا کر دے اور بولہب کو حیدر کرار بنا دے ۔ یعنی سوزِ دل سے خالی عشق بولہب کی سی خصلت والا اور عشق کا حامل دل حضرت علی حیدر کرار کی مانند ہے ۔

زندہ رود

 
محکماتش وانمودی از کتاب
ہست آں عالم ہنوز اندر حجاب

مطلب: آپ نے قرآن کریم سے اس کی بنیادی تعلیمات کو تو ظاہر کر دیا ہے لیکن ابھی تک آپ کا بیان کردہ جہان پردے میں ہے ۔

 
پردہ را از چہرہ نکشاید چرا
از ضمیر ما بروں ناید چرا

مطلب: یہ جہان اپنے چہرے سے پردہ کیوں نہیں اٹھاتا اور ہمارے ضمیر سے باہر کیوں نہیں آتا

 
پیش ما یک عالم فرسودہ ایست
ملت اندر خاک او آسودہ ایست

مطلب: ہمارے سامنے تو ایک فرسودہ جہان ہے اور ملت اس کی خاک آسودہ ہے ۔

 
رفت سوز سینہ تاتار و کرد
یا مسلماں مرد یا قرآں بمرد

مطلب: تاتاریوں اور کردوں کے سینوں کا سوز ختم ہو گیا ہے ۔ کیا مسلمان مر گیا یا پھر قرآن مر گیا ہے ۔

سعید حلیم پاشا

 
دین حق از کافری رسوا تر است
زانکہ ملا مومن کافر گر است

مطلب: آج دین حق کافری سے بھی زیادہ رسوا ہو چکا ہے کیونکہ ہمارا ملا کافر گر مومن ہے ۔

 
شبنم ما در نگاہ ما یم است
از نگاہ او یم ما شبنم است

مطلب: ہماری شبنم ہماری نگاہ میں سمندر ہے جبکہ اس کی نگاہ سے ہمارا سمندر شبنم ہے ۔

 
از شکرفیہائے آں قرآں فروش
دیدہ ام روح الامیں را در خروش

مطلب: اس قرآن فروش کی عجیب و غریب باتوں سے میں نے روح الامین جبرئیل کو واویلا کرتے دیکھا ہے ۔

 
زانسوے گردوں دلش بیگانہ ئی
نزد و ام الکتاب افسانہ ئی

مطلب: آج کے ملا کا دل آسمان سے دوسری طرف کی دنیا سے بیگانہ ہے ۔ اسکے نزدیک قرآن پاک محض ایک افسانہ ہے ۔

 
بے نصیب از حکمت دین نبی
آسمانش تیرہ از بی کوکبی

مطلب: آج کا ملا نبی کریم کے دین کی حکمت سے بے بہرہ ہے ۔ اس کا آسمان ستارے نہ ہونے کی وجہ سے تاریک ہے ۔

 
مکتب و ملا و اسرار کتاب
کور مادر زاد و نور آفتاب

مطلب: مدرسہ اور ملا اور قرآن کے اسرار کچھ اس طرح ہیں جیسے کوئی مادر زاد اندھا اور سورج کی روشنی ہو ۔

 
دین کافر فکر و تدبیر جہاد
دین ملا فی سبیل اللہ فساد

مطلب: کافر کا دین تو غور و فکر اور تدبیر جہاد ہے اور ملا کا دین خدا کے واسطے کا فساد ہے ۔

 
مرد حق جان جہان چار سوے
آں بخلوت رفتہ را از من بگوے

مطلب: مردِ حق طرفوں میں گھرے ہوئے اس جہان کی جان ہے ۔ تو اس خلوت اختیار کرنے والے کو میری طرف سے کہو ۔

 
اے ز افکار تو مومن را حیات
از نفسہاے تو ملت را ثبات

مطلب: تیرے افکار سے مومن کی زندگی وابستہ ہے اور تیری سانسوں ہی سے ملت ثبات پاتی ہے ۔

 
حفظ قرآں عظیم آئین تست
حرف حق را فاش گفتن دین تست

مطلب: قرآن کریم کی حفاظت تیرا آئین ہے اور حق بات کو واضح طور پر بیان کرنا تیرا دین ہے ۔

 
تو کلیمی چند باشی سرنگوں
دست خویش از آستیں آور بروں

مطلب: تو تو کلیم ہے، آخر تو کب تک سر جھکائے بیٹھا رہے گا ۔ اپنا ہاتھ اپنی آستین سے باہر نکال ۔

 
سر گزشت ملت بیضا بگوے
با غزال از وسعت صحرا بگوے

مطلب: تو روشن ملت کی سرگزشت بیان کر اور ہرن کو صحرا کی وسعت سے آگاہ کر یعنی بات کر ۔

 
فطرت تو مستنیر از مصطفی است
باز گو آخر مقام ما کجاست

مطلب: تیری (مردِ حق کی) فطرت رسول اللہ کے نور سے روشن ہے ۔ تو پھر یہ بتا کہ آخر ہمارا (مسلمانوں کا) مقام کہاں ہے

 
مرد حق از کس نگیرد رنگ و بو
مرد حق از حق پزیرد رنگ و بو

مطلب: مردِ حق کسی اور سے رنگ و بو حاصل نہیں کرتا یعنی وہ صرف اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے رنگ میں اپنی زندگی ڈھالتا ہے ۔

 
ہر زماں اندر تنش جانے دگر
ہر زماں او را چو حق شانے دگر

مطلب: ہر لمحہ اس (مردِ حق) کے بدن میں ایک نئی جان ہوتی ہے اور ہر لحظہ حق کی طرح اس کی ایک نئی شان ہوتی ہے ۔

 
رازہا با مرد مومن باز گوے
شرح رمز کل یوم باز گوے

مطلب: تو (اے مردِ حق) مردِ مومن مسلمانوں کو ان کے بھولے ہوئے راز سے پھر آگاہ کر اور ان سے کل یوم کی رمز کی شرح بھی بیان کر ۔

 
جز حرم منزل ندارد کارواں
غیر حق در دل ندارد کارواں

مطلب: ملت اسلامیہ کے قافلے کی منزل کعبہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے ۔ اور اس قافلے کے دل میں حق کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

 
من نمی گویم کہ راہش دیگر است
کارواں دیگر نگاہش دیگر است

مطلب: میں یہ نہیں کہتا کہ ملت کا راستہ کوئی اور ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ اب قافلہ وہ نہیں رہا او اس کی نگاہ بھی اور ہو گئی ہے ۔

افغانی

 
از حدیث مصطفی داری نصیب
دین حق اندر جہاں آمد غریب

مطلب: کیا تجھے رسول اللہ کی یہ حدیث معلوم ہے کہ دین حق دنیا میں اجنبی(غریب ) صورت میں آیا تھا ۔

 
با تو گویم معنی ایں حرف بکر
غربت دیں نیست فقر اہل ذکر

مطلب: میں تیرے سامنے سے اس اچھوتے لفظ (غریب) کے معنی بیان کرتا ہوں ۔ دین کی غربت (اجنبیت) سے مراد اہل ذکر کا فقر (مفلسی) نہیں ہے ۔

 
بہرآں مردے کہ صاحب جستجوست
غریب دیں ندرت آیات اوست

مطلب: جو شخص جو تحقیق و تلاش کرنے والا ہے اس کے لیے غربت دین سے مراد اس کی آیات کی ندرت ہے ۔

 
غربت دیں ہر زماں نوع دگر
نکتہ را دریاب اگر داری نظر

مطلب: غربت دین ہر دور میں ایک نئے انداز کی ہوتی ہے ۔ اگر تو عقل رکھتا ہے تو اس گہری بات کو سمجھ ۔

 
دل بآیات مبیں دیگر بہ بند
تا بگیری عصر نو را در کمند

مطلب: تو قرآن کریم کی روشن آیات سے دوبارہ دل لگا تاکہ تو عصرِ حاضر کو کمند میں گرفتار کر سکے ۔

 
کس نمی داند ز اسرار کتاب
شرقیاں ہم غریباں در پیچ و تاب

مطلب: کوئی بھی کتاب (قرآن کریم) کے رازوں سے آگاہ نہیں ہے ۔ اسی لیے کیا اہل مشرق اور کیا اہل مغرب سبھی الجھاوَ میں پڑے ہوئے ہیں ، گمراہ ہیں ۔

 
روسیاں نقش نوی انداختند
آب و ناں بردند و دیں در باختند

مطلب: اہل روس نیا انقلاب لائے ہیں ۔ انھوں نے روٹی اور پانی تو پا لیا ہے لیکن دین ہاتھ سے دے بیٹھے یا ہار گئے ہیں ۔

 
حق ببیں حق گوے و غیر از حق مجوے
یک دو حرف از من بآں ملت بگوے

مطلب: تو حق کو دیکھ، حق کہہ اور حق کے سوا اور کسی چیز کی جستجو نہ کر تو میری (افغانی کی) طرف سے روسی قوم کو یہ دو ایک باتیں سنا دے، ان تک پہنچا دے ۔