Please wait..

نداے جمال

 
کلک حق از نقشہاے خوب و زشت
ہر چہ ما را سازگار آمد نوشت

مطلب: حق کے قلم نے اچھے اور برے نقش میں سے جو بھی ہمارے موافق تھا وہ لکھ دیا ۔

 
چیست بودن دانی اے مرد نجیب
از جمال ذات حق بردن نصیب

مطلب: اے مرد نجیب! کیا تو جانتا ہے کہ زندہ رہنا کیا ہے وہ ذات حق کے جمال سے نصیب حاصل کرنا ہے ۔

 
آفریدن جستجوے دلبرے
وا نمودن خویش را بر دیگرے

مطلب: تخلیق کرنا کیا ہے دلبر کی تلاش ہے اور اپنی ذات کو کسی دوسرے پر ظاہر کرنا ہے ۔

 
ایں ہمہ ہنگامہ ہاے ہست و بود
بے جمال ما نیاید در وجود

مطلب: زندگی اور عدم ، نیستی کے جتنے بھی ہنگامے ہیں وہ ہمارے جمال کے بغیر وجود میں نہیں آتے ۔

 
زندگی ہم فانی و ہم باقی است
ایں ہمہ خلاقی و مشتاقی است

مطلب: زندگی فانی بھی ہے اور بقا والی بھی ہے ۔ یہ سب عمل تخلیق اور ذوق عشق کو بقا والی یعنی حیات بن سکتے ہو ۔

 
زندہ مشتاق شو، خلاق شو
ہمچو ما گیرندہ آفاق شو

مطلب: اگر تو زندہ ہے تو پھر مشتاق بن اور جس طرح میں نے اپنی تجلی سے کائنات کی ہر شے تخلیق کی ہے تو بھی اسی طرح ہر شے کا خالق بن جا اور اپنے اس عمل سے ہماری طرح آفاق کا احاطہ کر لے ۔

 
در شکن آنرا کہ ناید سازگار
از ضمیر خود دگر عالم بیار

مطلب: جو تیرے موافق حال نہیں ہے تو اسے توڑ دے اور اپنے ضمیر سے ایک نئی دنیا وجود میں لا ۔

 
بندہ آزاد را آید گراں
زیستن اندر جہان دیگراں

مطلب: آزاد بندے کو دوسروں کے جہان میں زندگی بسر کرنا گراں گزرتا ہے ۔

 
ہر کہ او را قوت تخلیق نیست
پیش ما جز کافر و زندیق نیست

مطلب: جس کے اندر قوت تخلیق نہیں ہے ، ہمار ے سامنے کافر اور زندیق کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

 
از جمال ما نصیب خود نبرد
از نخیل زندگانی بر نخورد

مطلب: جس نے ہمارے جمال سے اپنا حصہ نہ پایا اس نے حقیقی زندگی کے درخت سے پھل نہ کھایا ۔

 
مرد حق برندہ چوں شمشیر باش
خود جہان خویش را تقدیر باش

مطلب: اے مرد حق تو تلوار کی طرح کاٹنے والا بن، ہر تیز رہ اور اپنے جہان کی تقدیر خود ہی بن ۔

زندہ رود

 
چیست آئین جہان رنگ و بو
جز کہ آب رفتہ می ناید بجو

مطلب: اس جہان رنگ و بو کا آئین کیا ہے ۔ صرف یہ ہے کہ گزرا ہوا پانی واپس ندی میں نہیں آتا، یعنی گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا ۔

 
زندگانی را سر تکرار نیست
فطرت او خوگر تکرار نیست

مطلب: زندگی میں تو تکرار کی بات یہ نہیں ہے، اس کی فطرت تو تکرار کی عادی ہی نہیں ہے ۔

 
زیر گردوں رجعت او را نارواست
چوں زپا افتادہ قومے برنخاست

مطلب: آسمان کے نیچے یعنی اس دنیا میں اس کا واپس آنا، اس زندگی کے لیے نامناسب ہے ۔ ایک قوم جب پاؤں سے گر جاتی ہے تو پھر وہ دوبارہ نہیں اٹھتی ۔

 
ملتے چوں مردکم خیزد ز قبر
چارہ او چیست غیر از قبر و صبر

مطلب: جب کوئی قوم مرجاتی ہے تو وہ قبر سے نہیں اٹھتی ۔ اس کا چارہ قبر اورصبر کے سوا اور کیا ہے ۔

نداے جمال

 
زندگانی نیست تکرار نفس
اصل او از حی و قیوم است و بس

مطلب: زندگی سانسوں کے بار بار آنے کا نام نہیں ہے ۔ اس کی اصل تو حی و قیوم سے ہے ۔

 
قرب جاں با آنگہ گفت انی قریب
از حیات جاوداں بردن نصیب

مطلب: اس ذات حق سے قرب پیدا کرنا جس کا فرمان ہے کہ اے بندے میں تیرے قریب ہوں ہمیشہ کی زندگی ، حیات جاوید پانا ہے ۔

 
فرد از توحید لاہوتی شود
ملت از توحید جبروتی شود

مطلب: ایک فرد توحید لاہوتی ہو جاتا ہے جب کہ توحید پر ایمان کے باعث ایک قوم جبروتی ہو جاتی ہے ۔ مراد آدمی اپنے اندر خدائی صفات پیدا کر کے ان صفات کا مظہر بنتا ہے ۔ اسی کے سبب ایک قوم غالب و حکمران بن جاتی ہے ۔

 
با یزید و شبلی و بوذر ازوست
امتاں را طغرل و سنجر ازوست

مطلب: اسی (اللہ تعالیٰ کے قرب سے ) بایزید اور شبلی اور ابوذرغفاری جیسے اصحاب کرام پیدا ہوئے ہیں ۔ قوموں کے لیے طغرل اور سنجر جیسے حکمران اسی ایمان کی وجہ سے وجود میں آئے ۔

 
بے تجلی نیست آدم را ثبات
جلوہ ما فرد و ملت را حیات

مطلب: تجلی کے بغیر آدم کو ثبات نہیں ہے ۔ اور ہمارا (خدا کا ) جلوہ ہی فرد اور قوم کو زندگی بخشتا ہے ۔

 
ہر دو از توحید می گیرد کمال
زندگی ایں را جلال آں را جمال

مطلب: دونوں (فرد اور ملت) توحید ہی سے کامل ہوپاتے ہیں ۔ اسی (ملت) کے لیے زندگی جلال اور اس فرد کے لیے جمال ہے ۔

 
ایں سلیمانی است آں سلمانی است
آں سراپا فقر و ایں سلطانی است

مطلب: یہ (جلال) خدا پسند بادشاہت ہے جب کہ وہ (جمال) خدا پسند فقر ہے ۔ وہ سراسر فقر ہے اور یہ سلطانی ہے ۔ (سلیمانی اشارہ ہے حضرت سلیمان کی طرف جو پیغمبر بھی تھے اور بادشاہ بھی، سلمانی اشارہ ہے حضرت سلمان فارسی کی طرف جو حضور اکرم کے درویش صحابی تھے) ۔

 
آں یکی را بیند ایں گردد یکی
در جہاں با آں نشیں با ایں بزی

مطلب: وہ (فرد) ایک کو دیکھتا ہے توحید پر ایمان رکھتا ہے تو یہ اس بنا پر ایک متفق و متحد قوم بن جاتی ہے ۔ دنیا میں تو تو حید پر ایمان رکھنے والوں کے ساتھ محبت رکھ اور اس متحدہ قوم کے ساتھ زندگی بسر کر جو ہر طرح کے نسب و نسل، زبان و وطن وغیرہ کے اختلاف کے باوجود ایک ہی قوم ہے ۔

 
چیست ملت اے کہ گوئی لا الہ 
با ہزاراں چشم بودن یک نگہ

مطلب: اے (کلمہ گو مسلمان ) لا الہ کہنے والے کیا تو جانتا ہے کہ ملت کیا ہے، یہ ہزاروں آنکھوں کے ساتھ ایک ہی نگاہ کا پیدا ہونا ہے ۔

 
اہل حق را حجت و دعویٰ یکے است
خیمہ ہاے ما جدا دلہا یکے است

مطلب: اہل حق کی دلیل اور دعویٰ ایک ہے ۔ ہمارے خیمے الگ الگ ہیں لیکن دل ایک ہے ۔

 
ذرہ ہا از یک نگاہی آفتاب
یک نگہ شو تا شود حق بے حجاب

مطلب: ایک نگاہ ہونے کے سبب ذرے آفتاب بن جاتے ہیں ۔ تو بھی یک نگاہ ہو جا تاکہ حق تعالیٰ کو بے حجاب دیکھ سکے ۔

 
یک نگاہی را بچشم کم مبیں
از تجلی ہاے توحید است ایں

مطلب: تو یک نگاہی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھ ۔ یہ بھی توحید کی تجلیوں میں سے ایک تجلی ہے ۔

 
ملتے چوں می شود توحید مست
قوت و جبروت می آید بدست

مطلب: جب کوئی ملت توحید میں مست ہوجاتی ہے تو وہ قوت و جبروت کی مالک بن جاتی ہے ۔

 
روح ملت را وجود از انجمن
روح ملت نیست محتاج بدن

مطلب: ملت کی روح کا وجود انجمن سے ہے ۔ ملت کی روح بدن کی محتاج نہیں ہے ۔

 
تا وجودش را نمود از صحبت است
مرد چوں شیرازہ صحبت شکست

مطلب: چونکہ اس کے وجود کی نمود باہمی مل بیٹھنا سے ربط باہم ہے ۔ اس لیے جب اس ملت کی صحبت کا شیرازہ بکھر گیا تو وہ قوم مر جاتی ہے ۔

 
مردہ از یک نگاہی زندہ شو
بگزر از بے مرکزی پایندہ شو

مطلب: کیا تو مردہ ہے اگر ایسا ہے تو یک نگاہی سے زندہ ہو جا ۔ بے مرکزی سے گزر جا اور صاحب بقا بن جا ۔

 
وحدت افکار و کردار آفریں
تا شوی اندر جہاں صاحب نگیں

مطلب: افکار اور کردار کی وحدت پیدا کر تا کہ تو دنیا میں حکمران بن جائے ۔

زندہ رود

 
من کیم تو کیستی عالم کجاست
درمیان ما و تو دوری چراست

مطلب: میں کون ہوں ، تو کون ہے میرے اور آپ کے درمیان دوری کس لیے ہے

 
من چرا در بند تقدیرم بگوے
تو نمیری من چرا میرم بگوے

مطلب: فرمائیے کہ میں تقدیر کی زنجیر میں کیوں قید ہوں ۔ توتو مرتا نہیں لیکن میں کیوں مرتا ہوں اس سلسلے میں کچھ فرمائیے ۔

نداے جمال

 
بودہ اندر جہان چار سو
ہر کہ گنجد اندرو میرد درو

مطلب: تو اس چار طرفوں والی دنیا میں رہا ہے ۔ جو کوئی اس میں گم ہو جاتا ہے وہ اس میں مرجاتا ہے ۔ بقول علامہ
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

 
زندگی خواہی خودی را پیش کن
چار سو را غرق اندر خویش کن

مطلب: اگر تو زندگی (حیات جاوید) چاہتا ہے تو خودی اختیار کر اور اس جہان چار سو کو اپنے اندر غرق کر لے ۔

 
باز بینی من کیم تو کیستی
در جہان چوں مردی و چوں زیستی

مطلب: جب تجھے معرفت حاصل ہو جائے گی پھر تو دیکھ لے گا، کہ میں کون ہوں اور تو کون ہے اور تو آگاہ ہو جائے گا کہ تو دنیا میں کیسے مرا اور کس طرح زندہ رہا، کس طرح زندگی بسر کی ۔

زندہ رود

 
پوزش ایں مرد ناداں در پذیر
پردہ را از چہرہ تقدیر گیر

مطلب: اس (مجھ) مرد ناداں کی معذرت قبول کر اور تقدیر کے چہرے سے پردہ اٹھا دے کہ تقدیر کیا ہے

 
انقلاب روس و الماں دیدہ ام
شور در جان مسلمان دیدہ ام

مطلب: میں نے روس اور جرمنی کا انقلاب دیکھا ہے، میں نے مسلمان کی جان میں بھی شور دیکھا ہے ۔

 
دیدہ ام تدبیر ہاے غرب و شرق
وا نما تقدیر ہاے غرب و شوق

مطلب: میں نے مغرب و مشرق کی تدابیر بھی دیکھی ہیں ، مجھ پر مغرب و مشرق کی تقدیر بھی ظاہر فرمایئے ۔ (کہ انہیں کیا پیش آ نے والا ہے) ۔