Please wait..

نواے حلاج
(حلاج کی باتیں )

 
ز خاک خویش طلب آتشے کہ پیدا نیست
تجلی دگرے در خور تقاضا نیست

مطلب: تو اپنی خاک سے وہ آگ طلب کر جو پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ کسی اور کی تجلی اس قابل نہیں کہ اس کا تقاضا کیا جائے ۔

 
نظر بخویش چناں بستہ ام کہ جلوہ دوست
جہاں گرفت و مرا فرصت تماشا نیست

مطلب: میں نے اپنے آپ پر نظر کچھ اس طرح جما رکھی ہے کہ محبوب حقیقی کے جلوے نے تو کائنات کو احاطہ کر رکھا ہے جبکہ مجھے اس کے نظارے کے دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ہے ۔

 
بملک جم ندہم مصرع نظیری را
کسے کہ کشتہ نشد از قبیلہ ما نیست

مطلب: میں نظیری کے اس مصرع کو ملک جم کے عوض بھی نہ دوں ، جو کوئی مارا نہیں گیا وہ ہمارے قبیلے سے نہیں ہے (حقیقی عاشق وہی ہے جو محبوب پر جان نثار کر دے ، ورنہ وہ عاشق نہیں ہے ) ۔

 
اگرچہ عقل فسوں پیشہ لشکرے انگیخت
تو دل گرفتہ نباشی کہ عشق تنہا نیست

مطلب: اگرچہ جادوگر عقل نے ایک لشکر اکٹھا کر رکھا ہے ، مگر تو غمگین نہ ہو کہ عشق بھی تنہا نہیں ہے ۔

 
تو رہ شناس نہ ئی وز مقام بیخبری
چہ نغمہ ایست کہ در بربط سلیمی نیست

مطلب: تو راستے سے واقف نہیں ہے اور مقام منزل سے بے خبر ہے ورنہ وہ کونسا نغمہ ہے جو سلیمیٰ کے ساز میں نہیں ہے ۔

 
ز قید و صید نہنگاں حکایتے آور
مگو کہ زورق ما روشناس دریا نیست

مطلب: تو مگر مچھوں کو شکار اور ان کو قید کرنے کی بات کر، یہ مت کہہ کہ ہماری کشتی سمندر سے آشنا نہیں ہے ۔

 
مرید ہمت آں رہروم کہ پا نگذاشت
بہ جادہ ئی کہ در و کوہ و دشت و دریا نیست

مطلب: میں اس مسافر کی ہمت کا مرید ہوں جس نے کسی ایسے راستے پر قدم نہ رکھا جس میں کوئی وادی اور پہاڑ اور دشت و دریا نہیں ہیں ۔

 
شریک حلقہ رندان بادہ پیما باش
حذر ز بیعت پیرے کہ مرد غوغا نیست

مطلب: تو شراب پینے والے رندوں کے حلقے میں شریک ہو جا ، مگر اس پیر کی بیعت سے بچ جو جوش و جذبہ کی زندگی سے نا آشنا ہے (جس کی صحبت ہنگامہ خیز نہیں ) ۔

نواے غالب
(غالب کا کلام)

 
بیا کہ قاعدہ آسماں بگردانیم
قضا بگردش رطل گراں بگردانیم

مطلب: اے محبوب! تو آ کہ ہم آسمان کے دستور میں تبدیلی لائیں (بدل ڈالیں ) اور قضا و قدر کے دستور کو رطل گراں کی گردش سے بدل ڈالیں ، معلوم ہوتا ہے کہ غالب نے حافظ شیرازی سے استفادہ کیا ہے ۔

 
اگر ز شحنہ بود گیر و دار نندیشیم
وگر ز شاہ رسد ارمغاں بگردانیم

مطلب: اگر کوتوال کی طرف سے کوئی گرفت یا باز پرس ہو تو ہم کوئی فکر نہ کریں ، بے خوف رہیں اور اگر بادشاہ کی طرف سے بھی کوئی تحفہ آئے تو ہم واپس کر دیں ۔

 
اگر کلیم شود ہمزباں سخن نکنیم
وگر خلیل شود میہماں بگردانیم

مطلب: اگر حضرت موسیٰ کلیم اللہ بھی ہم سے باتیں کرنا چاہیں تو ہم ان سے بات نہ کریں ، اگر حضرت ابراہیم خلیل اللہ بھی ہمارے مہمان بن کے آئیں تو انہیں ہم واپس بھیج دیں ۔

 
بجنگ باج ستانان شاخساری را
تہی سبد ز در گلستاں بگردانیم

مطلب: ہم صبح کے وقت پودوں کی ٹہنیوں سے پھول چننے والے باغبانوں کو سختی سے روک دیں اور یوں انہیں خالی ٹوکری کے ساتھ گلستان کے دروازے ہی سے واپس بھیج دیں ۔

 
بصلح بال فشاناں صبحگاہی را
ز شاخسار سوئے آشیاں بگردانیم

مطلب: صبح سویرے جو پرندے اپنے گھونسلوں سے نکل کر شاخوں پر آ بیٹھے ہوں انہیں پیار و محبت کے ساتھ واپس ان کے گھونسلوں کی طرف بھیج دیں ۔

 
ز حیدریم  من و تو ز ما عجب نبود
گر آفتاب سوئے خاوران بگردانیم

مطلب: ہم اور تم دونوں حیدر سے وابستہ یا ان کے پیروکار ہیں اس لیے اگر ہم سورج کو مشرق کی طرف لوٹا دیں تو یہ تعجب کی بات نہ ہو گی ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز جناب رسول اللہ ﷺ، حضرت علی علیہ السلام کی ران پر سر رکھ کر سو رہے تھے، سورج غروب ہونے کے قریب تھا ، حضور نے ہاتھ کا اشارہ کر کے سورج کو مغرب سے مشرق کی طرف لوٹا دیا تھا ۔

نواے طاہرہ
(قرۃ العین طاہرہ کی نوا )

 
گر بہ تو افتدم نظر چہرہ بہ چہرہ رو بہ رو
شرح دہم غم ترا نکتہ بہ نکتہ مو بہ مو

مطلب: اگر تجھ پر میری نظر کچھ اس طرح پڑے کہ تو میرے بالکل سامنے ہو اور تیرا چہرہ میرے چہرے کے سامنے ہو تو پھر میں تیرے غم عشق کی شرح ایک ایک گہری بات اور رمز کے ساتھ بیان کروں ۔

 
از پئے دیدن رخت ہمچو صبا فتادہ ام
خانہ بخانہ، در بہ در، کوچہ بہ کوچہ، کو بہ کو

مطلب: تیرا چہرہ دیکھنے کے لیے میں صبح کی نرم و لطیف ہوا کی مانند چلی پھری ہوں اور میں گھر گھر ، در در اور کوچہ کوچہ اور گلی گلی پھری ہوں ، تیری تلاش میں کوئی کونہ نہیں چھوڑا ۔

 
می رود از فراق تو خون دل از دو دیدہ ام
دجلہ بہ دجلہ، یم بہ یم، چشمہ بہ چشمہ جو بہ حو

مطلب: تیرے فراق میں میرا خون دل میری دونوں آنکھوں سے رواں ہے، بہہ رہا ہے اور وہ دریا دریا ، سمندر سمندر، چشمہ چشمہ اور ندی ندی بہہ رہا ہے ۔

 
مہر ترا دل حزیں بافتہ بر قماش جاں
رشتہ بہ رشتہ نخ بہ نخ تار بہ تار پو بہ پو

مطلب: میرے غمزدہ دل نے تیری محبت کو جان کے قماش پر بن لیا ہے ، دھاگا دھاگا، نخ نخ ، تار تار اور تانا بانا خوب ملا کر بن لیا ہے ۔

 
در دل خویش طاہرہ گشت و ندید جز ترا
صفحہ بہ صفحہ لا بہ لا پردہ بہ پردہ تو بہ تو

مطلب: طاہرہ نے اپنے دل کے اندر نظر ڈالی مگر اسے دل کے صفحہ صفحہ ، گوشہ گوشہ پردہ پردہ اور تہ بہ تہ میں تیرے سوا کوئی نظر نہ آیا ۔

 
سوز و ساز عاشقان دردمند
شور ہاے تازہ در جانم فگند

مطلب : اہل درد عاشقوں (حلاج وغیرہ) کے پرسوز جذبوں نے میری جان میں نئے ہنگامے برپا کر دیے ہیں ۔

 
مشکلات کہنہ سر بیروں زدند
باز بر اندیشہ ام شبخوں زدند

مطلب: پرانی مشکلات نے پھر اپنا سر اٹھایا اور ایک مرتبہ پھر میری فکر پر شب خون مارا ۔

 
قلزم فکرم سراپا اضطراب
ساحلش از زور طوفانے خراب

مطلب: میری فکر کا سمندر پوری طرح طوفان خیز بن گیا اور طوفان کی شدت سے اس کا ساحل خراب ہو گیا ۔

 
گفت رومی وقت را از کف مدہ
اے کہ می خواہی کشود ہر گرہ

مطلب: رومی نے کہا جو اپنی ہر مشکل کے حل کا خواہاں ہے تو وقت کو ہاتھ سے نہ جانے دے ۔

 
چند در افکار خود باشی اسیر
ایں قیامت را بروں ریز از ضمیر

مطلب: تو (زندہ رود) کب تک اپنے افکار میں اسیر رہے گا ۔