Please wait..

(۵۶ )

 
خودی را مردم آمیزی دلیل نارسائی ہا
تو اے درد آشنا بیگانہ شو از آشنائی ہا

مطلب: خود کو پہچان لینے والے شخص کا عام لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا اس کی منزل مقصود تک نہ پہنچنے کی دلیل ہے ۔ اے درد آشنا تو آشنائی کی عادت چھوڑ دے (خودی کو پا لینے والا شخص خدا آشنا بھی ہو جاتا ہے اور وہ ہجومِ آدم میں گم نہیں ہوتا بلکہ بروقت یاد خدا میں مصروف نظر آتا ہے) ۔

 
بدرگاہ سلاطیں تا کجا ایں چہرہ سائی ہا
بیا موز از خداے خویش ناز کبریائی ہا

مطلب: تو بادشاہوں کے درباروں میں کب تک ذلیل و خوار ہوتا رہے گا ۔ ان کی چوکھٹ پر کب تک ماتھا رگڑتا رہے گا ۔ آ اور اپنے خدا سے کبریائی کا ناز سیکھ ۔

 
محبت از جوانمردی بجائے می رسد روزے
کہ افتد از نگاہش کاروبار دلربائی ہا

مطلب: ایک دن ایسا آئے گا کہ محبت اپنی جواں مردی کے باعث اپنے صحیح مقام پر پہنچ جائے گی ۔ اور دلربائی کا کاروبار اس کی نگاہوں میں گر جائے گا ۔

 
چناں پیش حریم او کشیدم نغمہ دردے
کہ دادم محرماں را لذت سوز جدائی ہا

مطلب: میں نے اس محبوب کے گھر کے سامنے اس طرح درد کے گیت گائے کی میں نے محرموں کو جدائی کی مختلف صورتوں کی لذت عطا کر دی ۔ جدائی میں جو درد بھرے گیت میں نے گائے انہیں سن کر اہل عشق کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ وصل محبوب سے ہجر کی لذت زیادہ ہے ۔

 
ازاں بر خویش می بالم کہ چشم مشتری کور است
متاع عشق نافرسودہ ماند از کم روائی ہا

مطلب: مجھے اپنے آپ پر اس لیے فخر ہے کہ گاہک کی آنکھ اندھی ہے ۔ متاع عشق اس کے عام عمل دخل کی بدولت بے آبرو نہ ہوئی (عشق کا ہر کوئی خریدار نہیں ہو سکتا) ۔

 
بیا بر لالہ کوبیم و بیباکانہ مے نوشیم
کہ عاشق را بحل کردند خون پارسائی ہا

مطلب: آ کہ لالہ کے پھول پر رقص کریں اور دنیا سے بے پرواہ ہو کر شراب عشق پئیں ۔ کیونکہ پارسائی کا خون کرنا عاشقوں پر حلال ہے ۔

 
بروں آ از مسلماناں گریز اندر مسلمانی
مسلماناں روا دارند کافر ماجرائی ہا

مطلب: نام نہاد مسلمانوں کے گروہ سے باہر آ جا ۔ اور اصل مسلمانی اختیار کر لے کیونکہ موجودہ دور کے مسلمانوں نے تو اسلام کو چھوڑ کر کافری طریقے اپنا رکھے ہیں ۔ (ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ) ۔

(۵۷)

 
چوں چراغ لالہ سوزم در خیابان شما
اے جواناں عجم جان من و جان شما

مطلب: میں تمہارے باغ کی روش پر لالہ کے پھول کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں ۔ اے عجم کے نوجوانو مجھے اپنی اور تمہاری جان کی قسم ہے کہ میں ہر وقت تمہارے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں ۔

 
غوطہ ہا زد در ضمیر زندگی اندیشہ ام
تا بدست آوردہ ام افکار پنہان شما

مطلب: میری سوچ نے زندگی کے ضمیر کے دریا میں بہت غوطے لگائے ہیں تب کہیں جا کر مجھے تمہارے پوشیدہ خیالات (قوم کے نوجوانوں کے مسائل اور ان کا حل ) معلوم ہوئے ہیں ۔

 
مہر و مہ دیدم نگاہم برتر از پروین گزشت
ریختم طرح حرم در کافرستان شما

مطلب: میں نے سورج اور چاند کا مشاہدہ کیا حتیٰ کہ میری نگاہ پرواز پروین سے بھی آگے نکل گئی ۔ میں نے کافی سوچ بچار کے بعد تمہارے کافرستان میں کعبہ کی بنیاد رکھ دی ہے ۔

 
تا سنانش تیز تر گردد فرو پیچیدمیش
شعلہ آشفتہ بود اندر بیابان شما

مطلب: تا کہ اس کی نوک اور تیز ہو جائے اس لیے میں نے اسے لپیٹ لیا ۔ یعنی اس شعلہ آشفتہ کو ادھر ادھر سے لپیٹ کر اکھٹا کر دیا ۔ وہ شعلہ جو تمہارے بیابان میں اب تک آوارہ تھا ۔ اے عجم کے نوجوانو میں نے تمہارے پراگندہ خیالات کو یکجا کر کے ایک صحیح نقطہ پر مرکوز کر دیا ہے ۔

 
می رسد مردے کہ زنجیر غلاماں بشکند
دیدہ ام از روزن دیوار زندان شما

مطلب: وہ مرد آ رہا ہے جو غلاموں کی زنجیریں توڑ کر انہیں آزادی دلائے گا ۔ میں نے تمہارے قید خانہ کی دیوار کے روشن دان سے اسے دیکھا ہے ۔

 
حلقہ گرد من زنید اے پیکران آب و گل
آتشے در سینہ دارم از نیاگان شما

مطلب: اے مٹی اور پانی کے بنے ہوئے لوگو (بے سوز اجسام والو) آوَ اور میرے گرد حلقہ بناوَ ۔ میری صحبت میں آ کر مٹی میں آگ پیدا کرنے کا فن سیکھو ۔ اور اپنے مردہ اجسام میں سوز و گداز پیدا کر کے اسے زندگی عطا کر دو ۔ میں اپنے سینے میں جو آگ رکھتا ہوں وہ میں نے تمہارے اسلاف سے لی ہے ۔

(۵۸)

 
دم مرا صفت باد فرودیں کردند
گیارہ را ز سرشکم چو یاسمیں کردند

مطلب: قدرت نے میری سانسوں کی بہار کی ہوا کی مانند کر دیا ہے اور میرے اشکوں سے گھاس کو یاسمین کے پھولوں کی مانند کر دیا ۔ (میرے کلام کی تاثیر نے قارئین کے قلب و نظر میں انقلاب برپا کر دیا ہے) ۔

 
نمود لالہ صحرا نشیں ز خونابم
چنانکہ بادہ لعلے بساتگیں کردند

مطلب: صحرا کے گل لالہ کی نمود میرے خالص خون کی آبیاری سے ہوئی ہے کیونکہ میری صراحی میں لعل کی مانند عمدہ افکار کی سرخ شراب ڈالی گئی ہے ۔

 
بلند بال چنانم کہ بر سپہر بریں
ہزار بار مرا نوریاں کمیں کردند

مطلب: میری پرواز اتنی بلند ہے کہ آسمان کی وسعتوں میں فرشتوں نے مجھے پکڑنے کے لیے ہزار گھات لگائی ہے (لیکن میری سوچ کی بلندی کے باعث فرشتے مجھ سے پیچھے رہ گئے) ۔

 
فروغ آدم خاکی ز تازہ کاری ہاست
مہ و ستارہ کنند آنچہ پیش ازیں کردند

مطلب: آدم خاکی کی آب و تاب اس کے نئے نئے کام کرنے اور نئی ایجادات کے باعث ہے ۔ جبکہ چاند اور ستارے اپنی پرانی روش پر چل رہے ہیں ۔ وہی کر رہے ہیں جو کاتب تقدیر نے ازل سے ان کی تقدیر میں لکھ دیا ہے ۔

 
چراغ خویش بر افروختم کہ دست کلیم
دریں زمانہ نہاں زیر آستیں کردند

مطلب: میں نے اب اپنے اسلاف کے افکار کے احیا کے لیے اپنا چراغ روشن کیا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے ہاتھ کو جو ان کی آستین سے نکلتا تھا ۔ قدرت نے اسے موجودہ دور میں آستین میں چھپا دیا ہے ۔

 
در آ بسجدہ و یاری ز خسرواں مطلب
کہ روز فقر نیاگان ما چنیں کردند

مطلب: اپنی حاجات روائی کے لیے خدا کے سامنے سجدہ ریز ہو جا ۔ اسی سے مدد طلب کر اور بادشاہوں کی دوستی سے کوئی مطلب نہ رکھ ۔ کیونکہ ہمارے اسلاف نے اپنی حاجت روائی کے لیے ہمیشہ خدا ہی سے رجوع کیا ہے ۔

(۵۹)

 
گزر از انکہ ندیدست و جز خبر ندہد
سخن دراز کند لذت نظر ندہد

مطلب: ایسی عقل سے کنارہ کشی اختیار کر لے جس میں حقیقت شناسی نہیں اور جو سوائے ظاہری باتوں کے اور کسی چیز کی خبر نہیں دیتی ۔ وہ بات تو طویل کرتی ہے لیکن نظر کی لذت (حقیقی شناسی) پیدا نہیں کرتی ۔

 
شنیدہ ام سخن شاعر و فقیہہ و حکیم
اگرچہ نخل بلند است برگ و بر ندہد

مطلب: میں نے شاعروں ، حکیموں اور فقیہوں کی بات سنی ہے اور ان کی بات ایسے طویل درختی کی مانند جو پتے نہیں نکالتا اور نہ ہی پھل دیتا ہے ۔ (ان کی باتوں سے روح کو تسکین اور دل کو روحانی غذا نہیں ملتی ۔ )

 
تجلی کہ برو پیر دیر می نازد
ہزار شب دہد و تاب یک سحر ندہد

مطلب: وہ تجلی جس پر کہ زمانے کا بوڑھا یعنی لاکھوں سال پرانا زمانہ ناز کرتا آ رہا ہے وہ ہزاروں راتیں تو دیتی ہے لیکن ایک صبح کی چمک نہیں دیتی (عقل کی روشنی سے حقیقت تلاش نہیں کی جا سکتی) ۔

 
ہم از خدا گلہ دارم کہ بر زباں نرسد
متاع دل برد و یوسفے بہ بر ندہد

مطلب: مجھے تو خدا سے بھی شکایت ہے لیکن زبان تک نہیں آتی ۔ وہ دل کی دولت تو لے جاتا ہے لیکن اس کے بدلے میں یوسف کو پہلو میں نہیں دیتا (اس نے دل کے بدلے اپنا جلوہ ابھی تک نہیں دکھایا) ۔

 
نہ در حرم نہ بہ بتخانہ یابم آں ساقی
کہ شعلہ شعلہ بہ بخشد شرر شرر ندہد

مطلب: میں وہ ساقی نہ حرم میں دیکھتا ہوں نہ ہی صنم کدہ میں جو قطرہ قطرہ شراب پلانے کی بجائے دریا کے دریا پلا دے ۔ مطلب یہ کہ مسجد و مندر کہیں بھی فائدے کی بات نہیں ہوتی ۔

(۶۰)

 
دریں صحرا گزر افتاد شاید کاروانے را
پس از مدت شنیدم نغمہ ہاے ساربانے را

مطلب: اس صحرا (مسلمانوں ) میں شاید کسی قافلے کا گزر ہوا ہے بہت مدت بعد میں نے ساربانوں کے گیت سنے ہیں ۔ قوم کی اصلاح کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں ۔

 
اگر یک یوسف از زندان فرعونے بروں آید
بغاوت می تواں دادن متاع کاروانے را

مطلب: اگر فرعون کے قیدخانہ سے ایک بھی یوسف باہر آ جائے تو ایک قافلہ کی متاع کو تباہ کیا جا سکتا ہے (اگر معاشرہ میں ایک بھی صاحبِ نظر پیدا ہو جائے تو انقلاب آ سکتا ہے) ۔