Please wait..

جواب (تیسرا بند)

 
چہ پرسی از طریق جستجویش
فرو آرد مقام ہاے و ہویش

مطلب: تو خودی کی تلاش کرنے کے طریقے سے متعلق کیا سوا ل کرتا ہے وہ اس کے ہاے و ہو (آہ و زاری) کے مقام کو اپنے اندر سمو لیتا ہے ۔

 
شب و روزے کہ داری بر ابد زن
فغاں صبحگاہے بر خرد زن

مطلب: وہ رات اور دن جو تیرے پاس ہیں انہیں ابدی کر لے ۔ تو اپنی صبح کی آہ و زاری کو عقل کے حصول میں ضائع نہ کر ( بلکہ عشق کی جستجو میں صرف کر ) ۔

 
خرد را از حواس آید متاعے
فغاں از عشق می گیرد شعاعے

مطلب: خرد (عقل)حواس خمسہ سے دولت حاصل کرتی ہے جبکہ فغانِ صبحگاہی عشق سے روشنی پاتی ہے ۔

 
خرد جز را فغاں کل را بگیرد
خرد میرد فغاں ہرگز نمیرد

مطلب: خرد صرف جز کو اور فغان (عشق) کل کو قابو کرتی ہے ۔ خرد مر جاتی ہے لیکن فغان ہمیشہ زندہ رہتی ہے ۔

 
خرد بہر ابد ظرفے ندارد
نفس چوں سوزن ساعت شمارد

مطلب: خرد میں اس قدر ظرف نہیں ہوتا کہ وہ ابد کو اپنے اندر سمو لے ۔ خرد تو اپنی سانسیں گھڑی کی سوئی کی مانند شمار کرتی ہے ۔ (عقل زمانے کو ظاہری طور پر دیکھتی ہے جبکہ عشق اس کے باطن پر نظر رکھتا ہے اور ماہ و سال کی قید سے آزاد ہے)

 
تراشد روز ہا شب ہا سحرہا
نگیرد شعلہ و چیند شررہا

مطلب: عشق اپنے روز و شب اور صبحیں خود پیدا کرتا ہے ۔ وہ زمانے کا قیدی نہیں وہ شعلہ نہیں لیتا ۔ پھر بھی چنگاریاں چنتا ہے ۔ وہ زمانے کا پابند نہیں لیکن زمانہ ساز ہے ۔ اپنی دنیا میں آپ پیدا کرتا ہے ۔

 
فغاں عاشقاں انجام کارے است
نہاں در یک دم او روزگارے است

مطلب: عاشقوں کی فریاد نتیجہ خیز ہوتی ہے ۔ عقل کی طرح بے نتیجہ نہیں ہوتی ۔ عشق کے ایک لمحے میں زمانہ پوشیدہ ہے ۔ عشق دراصل زمانے کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ زمانہ عشق کا محتاج ہوتا ہے ۔
تیسرےبند کا خلاصہ
خودی کی تلاش کا واحد طریقہ عشق ہے ۔