Please wait..

(۱۱)

 
چو موج مست خودی باش و سر بطوفاں کش
ترا کہ گفت کہ بنشیں و پا بداماں کش

مطلب: (دریا کی ) موج کی طرح خودی میں مست ہو کر طوفان سے ٹکرانے کی ہمت پیدا کر ۔ تجھے کس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ خاموشی سے بیٹھ جا اور دامن میں پاؤں سمیٹ لے (بے عمل زندگی بسر کرنا شروع کر دے) ۔

 
بقصد صید پلنگ از چمن سرا برخیز
بکوہ رخت کشا خیمہ در بیاباں کش

مطلب: اگر شیر کا ارادہ ہے کہ چمن جیسی آرام دہ جگہ چھوڑ کر پہاڑوں میں جا کر اپنا ساز و سامان کھول یعنی پہاڑوں میں قیام کر اور جنگل میں خیمہ نصب کر (آرام کے بجائے ہمت سے کام لے اور اپنی زندگی میں درپیش مسائل کا حل تلاش کر ۔

 
بہ مہر و ماہ کماند گلو فشار انداز
ستارہ ر از فلک گیر و در گریباں کش

مطلب: سورج اور چاند پر ان کا گلا دبانے والی کمند پھینک (ایسی تدبیر کر کہ وہ تیرے تابع ہو جائیں ) ستارے کو آسمان کی بلندیوں سے لے کر اپنے گریبان میں ڈال دے ۔

 
گرفتم ایں کہ شراب خودی بسے تلخ است
بدرد خویش نگر زہر ما بدرماں کش

مطلب: میں یہ بات مانتا ہوں کہ خودی کی شراب بڑی تلخ ہوتی ہے ۔ لیکن تو اپنے درد کو دیکھ میرا زہر اپنے علاج کے لیے استعمال کر ۔ تیرے ہر درد کا علاج خودی کی شراب پینے میں ہے ۔

(۱۲)

 
خضر وقت از خلوت دشت حجاز آید بروں
کارواں زیں وادی دور و دراز آید بروں

مطلب: سر زمینِ حجاز کے صحرا سے زمانے کا خضر ظہور کر رہا ہے اس دور دراز وادی سے کوئی قافلہ سفر پر روانہ ہو رہا ہے (احیائے اسلام کی کوئی تحریک پیدا ہونے والی ہے) ۔

 
من بسیماے غلاماں فر سلطاں دیدہ ام
شعلہ محمود از خاک ایاز آید بروں

مطلب: میں نے غلاموں کی پیشانیوں میں بادشاہوں جیسی شان و شوکت دیکھی ہے ۔ ایاز (سلطان محمود کا غلام) کی خاک سے سلطان محمود کی شاہانہ کر و فر کا شعلہ بلند ہو ر ہا ہے(دنیا میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں اور غلاموں کی آزادی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ) ۔

 
عمر ہا در کعبہ و بتخانہ می نالد حیات
تا ز بزم عشق یک داناے راز آید بروں

مطلب: زندگی طویل عرصے تک کعبہ اور بت خانہ میں گریہ زاری کرتی رہی ہے ۔ تب کہیں جا کر بزمِ عشق سے ایک دانائے راز پیدا ہوتا ہے (قوموں میں شعورِ آزادی بیدار کرنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں ) ۔

 
طرح نو می افگند اندر ضمیر کائنات
نالہ ہا کز سینہ اہل نیاز آید بروں

مطلب: (یہ دانائے راز لوگ ) کائنات کے ضمیر میں ایک نئی بنیاد ڈالتے ہیں ۔ اہلِ دنیا (اللہ کے برگزیدہ بندوں ) کے سینوں سے نکلنے والے نالہ و شیون سے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے ۔

 
چنگ را گیرید از دستم کہ کار از دست رفت
نغمہ ام خوں گشت و از رگہاے ساز آید بروں

مطلب: رباب میرے ہاتھ سے پکڑ لو ۔ کہ میرا کام میرے ہاتھ سے جا رہا ہے ۔ میرا نغمہ خون بن کر ساز کی رگوں سے باہر نکل رہا ہے ۔ میں نے اپنی شاعری کے ذریعے پیغامِ عشق پہنچانے کی ہر ممکن سعی کی ہے ۔ حتیٰ کہ اپنا خونِ جگر بھی اشعار میں شامل کر دیا ہے ۔ اس سے زیادہ اب میں اور کیا کر سکتا تھا ۔

(۱۳)

 
ز سلطاں کنم آرزوے نگاہے
مسلمانم از گل نہ سازم الہٰے

مطلب: میں تو (صرف حقیقی مالک) سلطا ن سے نگاہِ کرم کی امید رکھتا ہوں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سچا مسلمان ہوں اور مسلمان کبھی مٹی کے معبود نہیں بناتا(مٹی کے معبودوں کی پوجا نہیں کرتا) ۔

 
دل بے نیازے کہ در سینہ دارم
گدا را دہد شیوہ پادشاہے

مطلب: وہ (دنیا سے) بے نیاز دل جو میں اپنے سینے میں رکھتا ہوں ۔ گدا (فقیر ) کو بادشاہی کے طریقے سکھا دیتا ہے ۔

 
ز گردوں فتند آنچہ بر لالہ من
فرو ریزم او را بہ برگ گیاہے

مطلب: آسمان سے جو کچھ بھی میرے لالہ یعنی دل میں نازل ہوتا ہے (جو افکار و خیالات نازل ہوتے ہیں ) انہیں گھاس کی پتیوں پر گرا دیتا ہوں ۔ (اشعار کی شکل میں عام لوگوں تک پہنچا دیتا ہوں ) ۔

 
چو پرویں فرو ناید اندیشہ من
بدریوزہ پرتو مہر و ماہے

مطلب: میری (پروازِ فکر) پروین (ستاروں کے جھرمٹ) سے نیچے نہیں آتی ۔ میں چاند اور سورج کی روشنی کی بھیک طلب نہیں کرتا ( میں دنیا کے جا ہ و جلال سے بے نیاز ہوں ) ۔

 
اگر آفتابے سوے من خرامد
بشوخی بگردانم او را ز راہے

مطلب: اگر سورج اپنی روشنی کی بھیک دینے کے لیے میری طرف آتا ہے تو میں شوخی سے (بے نیازی سے) راستہ ہی میں روک کر اسے واپس کر دیتا ہوں ۔

 
بآں آب و تابے کہ فطرت بہ ببخشد
درخشم چو برقے بہ ابر سیاہے

مطلب: میں فطرت کی عطا کی ہوئی آب و تاب سے سیاہ بادلوں پر بجلی کی طرح چمکتا ہوں (میرے افکار و خیالات بجلی کی طرح لوگوں کے اذہان منور کر دیتے ہیں ) ۔

 
رہ و رسم فرمانروایاں شناسم
خراں با سر بام و یوسف بچاہے

مطلب: میں حکمرانوں کی راہ و رسم (طور طریقے) اچھی طرح سمجھتا ہوں (ان کی غلط بخشیوں اور فکر کج انداز ) کے باعث گدھے (بے حیثیت لوگ )اعلیٰ مقام پر ہیں اور یوسف (بلند فکر) لوگ ذلیل ہو رہے ہیں ۔

(۱۴)

 
با نشہ درویشی در ساز و دمادم زن
چوں پختہ شوی خود را بر سلطنت جم زن

مطلب: (بڑی قوتوں سے ٹکرانے کے لیے) تو درویشی کا نشہ (شراب) برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر اور پھر اس نشہ کو مسلسل پینا شروع کر دے ۔ جب یہ نشہ تجھ میں جراَت و ہمت پیدا کر دے تو پھر ایران کے بادشاہ جمشید کی سلطنت سے ٹکر لے (یہ فقیری نشہ کر کے تو وقت کے جابر حکمرانوں سے ٹکرانے کی ہمت حاصل کرے گا) ۔

 
گفتند جہان ما آیا بتو می سازد
گفتم کہ نمی سازد گفتند کہ برہم زن

مطلب: (قضا و قدر) کے کارکنوں نے مجھ سے کہا کہ کیا ہمارا جہان تمہاری مرضی کے مطابق ہے ۔ میں نے کہا کہ نہیں ایساتو نہیں ، وہ کہنے لگے کہ پھر ان کو الٹ دے ۔

 
در میکدہ ہا دیدم شائستہ حریفے نیست
با رستم دستاں زن با مغبچہ ہا کم زن

مطلب: میں نے میکدے میں دیکھا کہ کوئی شائستہ میکش ساتھی نہیں ۔ تو دستاں کے بیٹے رستم کی صحبت اختیار کر اور اس کی صحبت میں بیٹھ کر پی اور ذلیل لوگوں کی صحبت اختیار نہ کر ۔

 
اے لالہ صحرائی تنہا نتوانی سوخت
ایں داغ جگر تابے بر سینہ آدم زن

مطلب: اے صحرا کی تنہائی میں کھلنے والے لالے کے پھول، ہجر اور تنہائی کے عذاب میں جلا نہیں جا سکتا ۔ جگر کو حرارت دینے والے اس داغ کو آدم کے سینے میں ودیعت کر ۔ یہ سوز عشق دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کر ۔

 
تو سوز درون او، تو گرمی خون او
باور نکنی چاکے در پیکر عالم زن

مطلب: (اے آدم خاکی) تو اس کا اندرونی سوز اور خون کی گرمی ہے (خالق کائنات نے تجھے ہی خون کی گرمی اور سینے کا سوز عطا کیا ہے) کیا تجھے یقین نہیں اگر نہیں تو پھر جہاں کے پیکر میں دراڑ ڈال ( تجھے معلوم ہو جائے گا کہ ہر شے خون کی گرمی او ر سوز عشق سے محروم ہے) ۔

 
عقل است چراغ تو در راہگزارے نہ
عشق است ایاغ تو با بندہ محرم زن

مطلب: کیا عقل تیرا چراغ ہے اسے کسی راستہ میں رکھ دے(تاکہ ہر کوئی اس سے راستہ تلاش کرے) ۔ کیا عشق تیرا پیالہ ہے اگر ہے تو اسے کسی محرم راز کے ساتھ مل کر پی (عقل عام لوگوں کے لیے ہے اور عشق مخصوص لوگوں کے لیے ) ۔

(۱۵)

 
ہوس ہنوز تماشا گر جہانداری است
دگر چہ فتنہ پس پردہ ہاے زنگاری است

مطلب: ہوس ابھی تک اسی فکر میں ہے کہ کسی طرح دنیاوی مال و دولت اکٹھی کی جا سکتی ہے ۔ ہرے رنگ کے پردوں کے پیچھے اور کونسا فتنہ پوشیدہ ہے دنیا میں جتنے بھی فتنے و فساد پیدا ہوئے ان کا سبب ہوس ہی ہے ۔

 
زماں زماں شکند آنچہ می تراشد عقل
بیا کہ عشق مسلمان و عقل زناری است

مطلب: عقل جو کچھ تراشتی ہے اسے لمحہ لمحہ توڑتی بھی رہتی ہے (کیونکہ وہ درست نتیجہ اخذ نہیں کر سکتی ) اب عقل کی باتیں چھوڑ کر عشق اختیار کر لے کیونکہ عشق مسلمان ہے ۔ صحیح راستے پر ہے اور عقل برہمن کا زنار ہے (کفر کی راہ چلتی ہے) ۔ عشق معرفت حق کی طرف لے جاتا ہے ۔

 
امیر قافلہ سخت کوش و پیہم کوش
کہ در قبیلہ ما حیدری ز کراری است

مطلب: قافلے کے سالار کی حیثیت سے قافلے والوں کی رہنمائی تیرا فریضہ ہے اس لیے سخت محنت کر اور لگاتار کر ۔ کیونکہ ہمارے قبیلے میں حیدری و کراری جوش و جذبہ موجود ہے ۔

 
تو چشم بستی و گفتی کہ ایں جہاں خواب است
کشائے چشم کہ ایں خواب خواب بیداری است

مطلب: تو نے یہ سوچ کر آنکھ بند کر لی کہ یہ دنیا تو اک خواب کی مانند ہے ۔ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھ کہ یہ خواب بیداری کا خواب ہے (ترکِ دنیا کے بجائے دنیا میں رہ کر اپنی کوشش میں مصروف رہنا چاہیے) ۔

 
بخلوت انجمنے آفریں کہ فطرت عشق
یکی شناس و تماشا پسند بسیاری است

مطلب: خلوت (تنہائی) میں رہنے کے باوجود اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کر کہ تو تنہا ہو کر بھی ایک انجمن کہلائے کیونکہ عشق کی فطرت ایک (وحدتِ الہٰی) کو پہچاننے والی اور زیادہ کا نظارہ کرنے والی ہے (کثرت کے پردے میں وحدت میں گم رہتی ہے) ۔

 
تپید یک دم و کردند زیب فتراکش
خوش نصیب غزالے کہ زخم او کاری است

مطلب: وہ (شکار) ایک لمحے کے لیے تڑپا اور شکاری نے اسے فتراک میں باندھ دیا ۔ وہ ہرن بڑا خوش قسمت ہے جسے شکاری نے کاری زخم لگایا (محبوب کے تیرِ نگاہ کا زخمی عمر بھر محبت کے زخم کی لذت اٹھاتا رہتا ہے ۔ )

 
بباغ و راغ گہر ہائے نغمہ می پاشم
گراں متاع و چہ ارزاں ز کند بازاری است

مطلب: میں (شاعر) باغوں اور سبزہ زاروں میں اپنی شاعری کے موتی بکھیر رہا ہوں ، شاید کوئی انہیں اٹھا کر اپنے کام میں لے آئے ۔ لیکن کسی کو ان کی قدر وقیمت کا اندازہ ہی نہیں ۔ متاع اگرچہ گراں قدر ہے لیکن افسوس کہ بازار مندا ہونے کے سبب کتنی بے قدری ہے ۔