Please wait..

فرو رفتن بدریاے زہرہ دیدن ارواحِ فرعون و کشنر را
(دریائے زہرہ میں اترنا اور فرعون اور کچز کی روحوں کو دیکھنا)

 
پیر روم آں صاحب ذکر جمیل
ضرب او را سطوت ضرب خلیل

مطلب: پیر روم نے جو صاحب ذکر جمیل ہیں اور ان کی ضرب میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی ضرب کا سا دبدبہ ہے ۔

 
ایں غزل در عالم مستی سرود
ہر خداے کہنہ آمد در سجود

مطلب : انھوں نے یہ غزل مستی کی حالت میں یا عالم مستی میں گائی جسے سن کر ہر پرانا خدا سجدے میں گر گیا ۔

غزل

 
باز بر رفتہ و آیندہ نظر باید کرد
ہلہ بر خیز کہ اندیشہ دگر باید کرد

مطلب: گزشتہ اور آئندہ پر پھر سے نظر دوڑانی چاہیے ۔ ہاں اٹھ کہ ایسے سب امور کے بارے میں دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔

 
عشق بر ناقہ ایام کشد محمل خویش
عاشقی راحلہ از شام و سحر باید کرد

مطلب : عشق نے زمانے کی اونٹنی پر اپنا کجاوہ باندھ لیا ہے ۔ کیا تو عاشق ہے اگر تو واقعی عاشق ہے تو پھر تجھے چاہیے کہ تو صبح اور شام کو اپنی سواری بنائے ۔

 
پیر ما گفت جہاں بر روشے محکم نیست
از خوش و ناخوش او قطع نظر باید کرد

مطلب: ہمارے پیر نے کہا جہان کسی ایک روش پر مستقل طور پر قائم نہیں رہتا، اس کے اچھے اور برے سے چشم پوشی کرنی چاہیے ۔ اس کی پسند اور ناپسند کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے ۔

 
تو اگر ترک جہاں کردہ سر او داری
پس نخستیں ز سر خویش گزر باید کرد

مطلب: اگر تو ترکِ دنیا کر کے اس (خدا) کا خواہش مند ہے تو پھر اس کے لیے تجھے پہلے اپنے سر سے گزر جانا چاہیے یعنی اپنے سر کی خیر منانا چاہیے ۔

 
گفتمش در دل من لات و منات است بسے
گفت ایں بتکدہ را زیر و زبر باید کرد

مطلب: میں نے اپنے پیر سے کہا کہ میرے دل میں بہت سے لات و منات جیسے بت بسے ہوئے ہیں ۔ اس پر اس نے کہا کہ اس بت کدے کو تباہ کر دینا چاہیے ۔

 
باز با من گفت بر خیز اے پسر
جز بدامانم میاویز اے پسر

مطلب: پھر وہ مجھ سے کہنے لگے کہ اے بیٹے اٹھ تاکہ ہم اپنا سفر جاری رکھیں ، تو اے بیٹے میرے دامن کے سوا کسی اور کا دامن نہ تھام ۔

 
آں کہستاں آں جبال بے کلیم
آنکہ از برف است چوں انبار سیم

مطلب: (جب آگے بڑھے تو) ایک ایسا کوہستان نظر آیا جو کلیم (حضرت موسیٰ) کے بغیر تھا اور جو برف کی وجہ سے یوں لگ رہا تھا جیسے چاندی کا ڈھیر لگا ہو ۔

 
در پس او قلزم الماس گوں
آشکارا تر درونش از بروں

مطلب: اس کے پیچھے ہیرے کے سے رنگ کا ایک سمندر تھا جس کا اندر اس کے باہر سے زیادہ ظاہر تھا ۔

 
نے بموج و نے بسیل او را خلل
در مزاج او سکون لم یزل

مطلب: نہ تو کسی موج کے باعث اور نہ سیلاب سے اس میں کوئی خلل واقع ہو رہا تھا ۔ اس کے مزاج میں لافانی سکون تھا ۔

 
ایں مقام سرکشان زور مست
منکران غائب و حاضر پرست

مطلب: یہ زور مست سرکشوں کا مقام ہے جو غائب کے منکر تھے اور صرف حاضر کے پرستار تھے ۔

 
آں یکے از شرق و آں دیگر ز غرب
پر دو با مردان حق در حرب و ضرب

مطلب: ان میں ایک کا تعلق مشرق سے ہے یعنی فرعون اور دوسرے کا تعلق مغرب سے ہے یعنی لارڈ کچز ، یہ دونوں اپنی زندگی میں مردانِ حق سے برسرِ پیکار رہے ۔

 
آں یکے بر گردنش چوب کلیم
واں دگر از تیغ درویشے دو نیم

مطلب: ان میں سے ایک کی گردن پر حضرت موسیٰ کی لکڑی یعنی عصا نے ضرب لگائی (مراد فرعون) اور دوسرا جو ایک درویش کی تلوار سے دو ٹکڑے ہوا یعنی لارڈ کچز (درویش سے مراد مہدی سوڈانی ہے ) ۔

 
ہر دو فرعون ایں صغیر و آں کبیر
ہر دو در آغوش دریا تشنہ میر

مطلب : یہ دونوں فرعون تھے ۔ ایک بڑا ایک چھوٹا ۔ یہ دونوں دریا کی آغوش میں پیاسے مرے ۔

 
ہر کسے با تلخی مرگ آشناست
مرگ جباراں ز آیات خداست

مطلب: ہر کسی کو موت کی تلخی سے آشنا ہونا پڑتا ہے، ہر کسی کو ایک روز مرنا ہے ۔ لیکن جابر لوگوں کی موت خدا کی نشانیوں میں سے ہوتی ہے ۔

 
در پئے من پا بنہ از کس مترس
دست در دستم بدہ از کس مترس

مطلب: تو میرے پیچھے چلتا آ اور کسی سے خوف نہ کھا ۔ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے اور کسی سے نہ ڈر ۔

 
سینہ دریا چو موسیٰ بر درم
من ترا اندر ضمیر او برم

مطلب: میں موسیٰ کی طرح دریا کا سینہ چیر دوں گا اور تجھے دریا کی تہ تک لے جاؤں گا ۔

 
بحر بر ما سینہ خود را کشود
یا ہوا بود و چو آبے وا نمود

مطلب: سمندر نے ہمارے لیے اپنا سینہ کھول دیا یا پھر وہ کوئی ہوا تھی جو پانی دکھائی دے رہی تھی ۔

 
قعر او یک وادی بے رنگ و بو
وادی تاریکی او تو بتو

مطلب: اس سمندر کی گہرائی میں ایک رنگ و بو سے عاری وادی تھی ایسی وادی جس کی تاریکی تہ بہ تہ تھی (جس کے اندر تاریکی کے پردے پڑے ہوئے تھے) ۔

 
پیر رومی سورہ طہٰ سرود
زیر دریا ماہتاب آمد فرود

مطلب: پیر رومی نے سورہَ طہٰ کی تلاوت کی اور سمندر کی تہ سے چاند ابھر آیا (چاندنی پھیل گئی) ۔

 
کوہ ہاے شستہ و عریان و سرد
اندر آں سرگشتہ و حیراں دو مرد

مطلب: اس روشنی میں جو کچھ نظر آیا وہ دھلے ہوئے سبزہ سے خالی اور ٹھنڈے پہاڑ تھے، انکے اندر دو حیران اور پریشان آدمی پھر رہے تھے ۔

 
سوئے رومی یک نظر نگریستند
باز سوے یک دگر نگریستند

مطلب: پہلے انھوں نے رومی کی طرف ایک نظر دیکھا پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔

 
گفت فرعون ایں سحر ایں جوے نور
از کجا ایں صبح و ایں نور و ظہور

مطلب: فرعون نے کہا یہ صبح یعنی صبح کی روشنی اور یہ نور کی ندی یہ صبح اور یہ نور و ظہور کہاں سے آیا ہے

رومی

 
ہر چہ پنہاں است ازو پیداستے
اصل ایں نور از ید بیضاستے

مطلب: جو کچھ بھی چھپا ہوا ہے وہ اس نور سے ظاہر ہو جاتا ہے ۔ اس نور کی بنیاد یدِ بیضا سے ہے ۔

فرعون

 
آہ نقد عقل و دیں درباختم
دیدم و ایں نور را نشناختم

مطلب: افسوس میں نے عقل اور دین کی نقدی ہار دی ۔ میں نے اس نور کو دیکھا بھی لیکن میں اسے پہچان نہ سکا ۔

 
اے جہانداراں سوے من بنگرید
اے زیانکاراں سوے من بنگرید

مطلب: اے دنیا دارو میری طرف دیکھو اور اے نقصان اٹھانے والو میری طرف دیکھو (میرے عبرتناک انجام سے سبق حاصل کرو) ۔

 
واے قومے از ہوس گردیدہ کور
می برد لعل و گہر از خاک گور

مطلب: افسوس اس قوم پر جو حرص و ہوس سے اندھی ہو گئی ہے ۔ وہ قبر کی مٹی سے بھی لعل و گہر لے جاتی ہے(انگریزوں نے فرعون کا مقبرہ کھو د کر اس سے زرد جواہر اور قیمتی اشیا غائب کر لی تھیں ) ۔

 
پیکرے کو در عجائب خانہ ایست
بر لب خاموش او افسانہ ایست

مطلب: وہ مجسمے جو ان کے عجائب خانہ میں پڑے ہیں اس کے خاموش ہونٹوں پر ایک افسانہ ہے ۔

 
از ملوکیت خبرہا می دہد
کور چشماں را نظرہا می دہد

مطلب: وہ بادشاہت کے انجام کی خبر دیتے ہیں ۔ وہ اندھوں کو آنکھیں عطا کرتے ہیں ۔

 
چیست تقدیر ملوکیت شقاق
محکمی جستن ز تدبیر نفاق

مطلب: بادشاہت کی تقدیر کیا ہے وہ ہے پھوٹ ڈالنا اور نفاق کی تدبیر سے اپنی حکومت کا استحکام تلاش کرنا (انگریز نے یہی ابلیسی پالیسی اپنائی ہے ) ۔

 
از بد آموزی زبوں تقدیر ملک
باطل و آشفتہ تر تدبیر ملک

مطلب: ایسا برا طرز عمل سکھانے کے سبب ملک کی تقدیر بری ہو جاتی ہے اور ملک کی تقدیر زیادہ باطل اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے ۔ ملک تباہ و برباد ہو جاتا ہے اور رعایا پریشان ہو جاتی ہے ۔

 
باز اگر بینم کلیم اللہ را
خواہم از وے یک دل آگاہ را

مطلب: اگر میں (فرعون) حضرت موسیٰ کو پھر دیکھ لوں تو میں ان سے ایک آگاہ دل کی خواہش کروں ۔

رومی

 
حاکمی بے نور جاں خام است خام
بے ید بیضا ملوکیت حرام

مطلب: نورِ جاں کے بغیر حکمرانی خام ہے ، خام اور یدِ بیضا کے بغیر ملوکیت حرام ہے ۔

 
حاکمی از ضعف محکوماں قوی است
بیخش از حرمان محروماں قوی است

مطلب: حاکمیت محکوموں (رعایا) کی کمزوری کے باعث قوت پکڑتی ہے ۔ اس کی جڑ محروموں کی محرومی سے قوی ہوتی ہے ۔

 
تاج از باج است و از تسلیم باج
مرد اگر سنگ است میگردد زجاج

مطلب: تاج (بادشاہت کا وجود) خراج لینے اور رعایا کے خراج دینے پر مبنی ہے ۔ اس سے پتھر جیسا قوی انسان بھی شیشے کی طرح نازک یا کمزور ہو جاتا ہے ۔

 
فوج و زندان و سلاسل رہزنی است
اوست حاکم کز چنیں ساماں غنی است

مطلب: فوج ، قید خانہ اور زنجیریں سب رہزنی ہیں ۔ حقیقی حاکم وہی ہے جو ان اشیاء سے بے نیاز ہے ۔

ذوالخرطوم

 
مقصد قوم فرنگ آمد بلند
از پئے لعل و گہر گورے نکند

مطلب: انگریزوں کا مقصد بلند ہے ۔ انھوں نے لعل و گہر کی خاطر (فرعونوں کی) کوئی قبر نہیں کھودی ۔ (لارڈ کچز نے چونکہ خرطوم فتح کیا تھا اس لیے حکومت انگلستان نے اسے لارڈ آف خرطوم کا خطاب دیا تھا جسے عربی میں ذوالخرطوم کہا جاتا ہے ۔ )

 
سرگزشت مصر و فرعون و کلیم
می تواں دیدن ز آثار قدیم

مطلب: مصر اور فرعون اور (حضرت موسیٰ ) کلیم کی سرگزشت آثار قدیمہ سے دیکھی جا سکتی ہے ۔

 
علم و حکمت کشف اسرار است و بس
حکمت بے جستجو خوار است و بس

مطلب: علم و حکمت تو صرف رازوں کے ظاہر کرنے کا نام ہے ۔ بغیر جستجو کے جو حکمت ہے وہ تو بس ذلیل و رسوا ہے ۔

فرعون

 
قبر ما را علم و حکمت بر کشود
لیکن اندر تربت مہدی چہ بود

مطلب: ہماری قبر کو تو علم و حکمت نے کھولا تھا (یعنی آثار قدیمہ نے ہماری قبریں کھودیں تھیں ) لیکن مہدی سوڈانی کی قبر کے اندر کیا تھا (فرعون کی یہ بات ایک لحاظ سے خبیث کچز کے منہ پر تھپڑ ہے ) ۔