Please wait..

جواب (چوتھا بند)

 
یکی را آن چنان صد پارہ دیدم
عدد بہر شمارش آفریدم

مطلب: وحدت (اکائی) کو ہم نے اس طرح سینکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوتے ہوئے دیکھا کہ ہم نے ان کے شمار کے لیے اعداد بنائے ۔

 
کہن دیرے کہ بینی مشت خاک است
دمے از سرگزشت ذات پاک است

مطلب: یہ پرانا جہان جسے تو دیکھ رہا ہے مٹی کی ایک مٹھی کے برابر ہے (بے حقیقت ہے ) اور وہ مٹی (کائنات) ذات باری تعالیٰ (وجود مطلق) کے سامنے صرف ایک لمحہ کی مدت رکھتی ہے ۔

 
حکیمان مردہ را صورت نگارند
ید موسیٰ  دم عیسیٰ  ندارند

مطلب: حکما تو صرف مردوں کے نقش و نگار بنا سکتے ہیں ان کے پاس نہ تو ید موسیٰ ہے اور نہ دمِ عیسیٰ (ان حکما کے پاس مردوں کو از نو زندگی دینے کا کوئی نسخہ نہیں ۔ جو لوگ دین و سیاست اور تن و جان الگ کر بیٹھے ہیں اور حیوان بن گئے ہیں انہیں پھر سے انسان بنانا عہدِ حاضر کے حکماء کے بس میں نہیں ۔

 
دریں حکمت دلم چیزے ندید است
برائے حکمت دیگر تپید است

مطلب: میرے دل نے اس (فرنگی) دانش میں کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں دیکھی ۔ اس لیے کہ وہ کسی اور چیز کے لیے تڑپ رہا ہے (یہ حکمت تو صرف عارفوں کے پاس ہے ۔ جو دوئی نہیں رکھتے ۔ یکتائی کے قائل ہیں اور ہر شے میں اللہ کے نور کے جلوے دیکھتے ہیں ) ۔

 
من این گویم جہان در انقلاب است
درونش زندہ و در پیچ و تاب است

مطلب: میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ یہ جہان انقلاب سے گزر رہا ہے ۔ اس کا اندر زندہ ہے اور بے قرار ہے (جہان میں ہمہ وقت تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہے ) ۔

 
ز اعداد و شمار خویش بگزر
یکے در خود نظر کن پیش بگزر

مطلب: اپنے اعداد و شمار (عقل، منطق اور طبیعات کی پیچیدگیوں سے ) نکل کر کائنات پر غور کر ۔ اور اپنی حقیقت کی پہچان کر ۔

 
در آن عالم کہ جزو از کل فزون است
قیاس رازی و طوسی جنون است

مطلب: اس جہا ن میں جزو کل سے بڑھ کر ہے ۔ امام فخر الدین رازی اور نصیر الدین طوسی جیسے مفکرین کے عقلی اور فکری قیاسات ، اندازے پاگل پن ہیں (خودی کی معرفت راز اور طوسی کے علم سے نہیں ہوتی ۔ اسے تو کوئی ابن عربی اور رومی ہی سمجھا سکتا ہے) ۔

 
زمانے با ارسطو آشنا باش
دمے با ساز بیکن ہم نوا باش

مطلب: اگر ضرورت پڑے تو یونان کے مشہور فلسفی ارسطو کے خیالات و افکار کا علم حاصل کر اور پھر کسی وقت فرانسس بیکن کے ساز کے ساتھ ہمنوائی کر ان کی فلاسفی کا مطالعہ کر لیکن ان کا اثر قبول نہ کر ) ۔

 
ولیکن از مقامشان گزر کن
مشو گم اندریں منزل، سفر کن

مطلب: لیکن ان کے افکار سے صرفِ نظر کر کے آگے بڑھ جا ۔ اس منزل میں گم نہ ہو ۔ اس سے آگے سفر اختیار کر (جہاں تجھے فائدہ نظر آئے ان سے استفادہ کر اور آگے بڑھ جا ۔

 
بآن عقلے کہ داند بیش و کم را
شناسد اندرون کان و یم را

مطلب: اس عقل سے جو اس دنیا کے نفع و نقصان سے باخبر ہے کام لے ۔ وہ عقل جو سمندر اور کا ن کے اندر جو کچھ موجود ہے اسے جانتی ہے ۔

 
جہان چند و چون زیر نگین کن
بگردون ماہ و پروین را مکین کن

مطلب: اور اس عقل سے اس فائد اور نقصان کے جہان کو اپنے قابو میں کر لے اور آسمان پر چاند اور پروین کو ساکن کر دے ۔ انہیں تسخیر کر لے ۔

 
ولیکن حکمت دیگر بیاموز
رہان خود را از این مکر شب و روز

مطلب: لیکن حکمت کوئی اور سیکھ (اپنی خودی کی پہچان کر) اور خود کو رات اور دن کے چکر سے نکال، کیونکہ تیری پرواز تو لامکان سے بھی پرے ہے ۔

 
مقام تو برون از روزگار است
طلب کن آن یمین کو بے یسار است

مطلب: تیرا مقام زمانے کی حدوں سے پرے ہے ۔ اس دائیں کو طلب کر جس کا بایاں نہیں ۔ تیرا مقام وہ ہے جہاں جہتیں نہیں ہیں کیونکہ تو ان سے آزاد ہے ۔ (تو وجود مطلق کا عکس ہے اس لیے کائنات میں گم ہونے کی بجائے کائنات کو اپنے وجود میں گم کر دے ) ۔
چوتھے بند کا خلاصہ
اس بند میں عقل کی بے بسی کا اظہار ہے ۔ مسلم اقوام کو خصوصاً اپنی معرفت کی شناخت کی تلقین کی گئی ہے ۔ اور اہلِ یورپ کے علم و فن کے نقاءص اور چالیں بتا کر ان سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے ۔