Please wait..

غزل
(یہ غزل مولانا رومی کی ہے)

 
بکشاے لب کہ قند فراوانم آرزوست
بنمای رخ کہ باغ و گلستانم آرزوست

مطلب: اے محبوب اپنے ہونٹ کھول کر مجھے بہت زیادہ شیرینی یا مصوری کی آرزو ہے ۔ مجھے اپنا چہرہ دکھا کہ مجھے باغ اور گلستان دیکھنے کی آرزو ہے ۔

 
یک دست جام بادہ و یک دست زلف یار
رقص چنیں میانہ میدانم آرزوست

مطلب: ایک ہاتھ میں جام شراب ہو اور ایک ہاتھ میں محبوب کی زلفیں ہوں ۔ میری خواہش ہے کہ میں اس حال میں یا اس قسم کا رقص میدان کے درمیان کروں ۔

 
گفتی ز ناز بیش مرنجاں مرا برو
آں گفتنت کہ بیش مرنجانم آرزوست

مطلب: اے محبوب تو نے ناز سے کہا کہ مجھے تو زیادہ تنگ نہ کر اور چلا جا ۔ تیرا یہ کہنا کہ مجھے زیادہ تنگ نہ کر تو میری آرزو ہے کہ میں یہی بات تجھ سے سنوں ۔

 
اے عقل تو ز شوق پراگندہ گوے شو
اے عشق نکتہ ہائے پریشانم آرزوست

مطلب: اے عقل تو عشق کی بنا پر بہکی بہکی باتیں کرنے والی بن جا ۔ اے عشق مجھے اس بات کی خواہش ہے کہ تو منتشر قسم کی کہی باتیں بیان کرتا رہے ۔

 
ایں آب و نان چرخ چو سیل است بیوفا
من ماہیم، نہنگم و عمانم آرزوست

مطلب: آسمان کا دیا ہوا یہ رزق سیلاب کی طرح بے وفا ہے ۔ میں تو مچھلی ہوں مجھے مگر مچھ اور سمندر کی خواہش ہے (کہ میں وہاں سے اپنا رزق خود تلاش کروں ) جس طرح مچھلی سمندر کے تھپیڑوں اور مگر مچھوں میں رہتے ہوئے اپنا رزق خود تلاش کرتی ہے ۔

 
جانم ملول گشت ز فرعون و ظلم او
آں نور جیب موسی عمرانم آرزوست

مطلب: میرا دل فرعون اور اس کے ظلم و ستم سے ملول ہے ۔ مجھے عمران کے بیٹے موسیٰ اور ان کے یدِ بیضا کی آرزو ہے ۔

 
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گرد شہر
کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست

مطلب: کل رات شیخ ہاتھ میں چراغ لیے سارے شہر میں گھوما اور یہ کہہ رہا تھا کہ میں شیطانوں اور درندوں سے اذیت و مصیبت میں ہوں َ مجھے کسی انسان کی آرزو ہے (ظالم حکمرانوں کو شیطانوں اور درندوں سے تشبیہ دی ہے) ۔

 
زیں ہمرہان سست عناصر دلم گرفت
شیر خدا و رستم دستانم آرزوست

مطلب: ان کمزور منش ہمراہیوں سے میں دل گرفتہ ہو گیا ہوں ۔ مجھے حضرت علی شیر خدا اور رستم دستن کی سی عظیم اور دلیر شخصیتوں کی آرزو ہے (مجھے ایسے ہمراہیوں کی خواہش ہے جو ان کی طرح دلیر اور بلند حوصلہ ہوں ) ۔

 
گفتم کی یافت می نشود جستہ ایم ما
گفت آنکہ یافت می نشود آنم آرزوست

مطلب: میں نے کہا کہ ایسا انسان نہیں ملتا، ہم نے بھی بہت تلاش کی ۔ اس پر شیخ بولا کہ وہ جو نہیں مل رہا اسی کی مجھے خواہش ہے ۔