Please wait..

ارض ملک خداست
(زمین خدا کی ملکیت ہے)

 
سرگزشت آدم اندر شرق و غرب
بہر خاکے فتنہ ہاے حرب و ضرب

مطلب: مشرق و مغرب کے حالات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان میں زمین کی خاطر لڑائی جھگڑوں کے فتنے پیدا ہوئے ہیں ۔

 
یک عروس و شوہر او ما ہمہ
آں فسونگر بے ہمہ ہم با ہمہ

مطلب: یہ ایک دلہن ہے اور ہم سب اس کے شوہر ہیں ۔ یہ ایک جادوگر ہے جو ہم سب کے ساتھ بھی ہے اور ہم سب کے بغیر بھی ۔

 
عشوہ ہائے او ہمہ مکر و فن است
نے از آن تو نہ از آن من است

مطلب: اس کے سارے ناز نخرے مکر و فریب ہیں نہ یہ تیری ہے اور نہ میری ہے ۔

 
در نسازد با تو ایں سنگ و حجر
ایں ز اسباب حضر تو در سفر

مطلب: یہ دوڑے اور پتھر تجھ سے موافقت نہیں رکھتے ۔ اس لیے کہ یہ تو آبادی کے اسباب ہیں ایک جگہ ٹکے ہوئے ہیں اور تو سفر میں ہے ۔

 
اختلاط خفتہ و بیدار چیست
ثابتے را کار با سیار چیست

مطلب: سوئے ہوئے اور بیدار میں باہمی میل جول کیسا کسی ساکن کو حرکت و گردش میں رہنے والے سے کیا سروکار

 
حق زمیں را جز متاع ما نگفت
ایں متاع بے بہا مفت است مفت

مطلب: اللہ تعالیٰ نے زمین کو صرف ہماری متاع فرمایا ہے ۔ یہ بے بہا زمین مفت ہے مفت ۔

 
دہ خدایا نکتہ از من پذیر
رزق و گور ازوے بگیر او را مگیر

مطلب: اے جاگیردار، زمیندار تو مجھ سے ایک گہری بات سمجھ ۔ تو اس زمین سے رزق اور قبر حاصل کر اس پر قبضہ نہ کر ۔

 
صحبتش تا کے تو بود و او نبود
تو وجود و او نمود بے وجود

مطلب: تیری اس کی محبت کب تک، تو تو بود (وجود) ہے اور وہ نبود (نابود، مردہ) ہے ۔

 
تو عقابی طاءف افلاک شو
بال و پر بکشاو پاک از خاک شو

مطلب: تو تو ایک عقاب ہے، تو آسمانوں کا طواف کرنے والا بن، بال و پر کھول یعنی اڑ اور خاک سے پاک ہو جا ۔

 
باطن الارض للہ ظاہر است
ہر کہ ایں ظاہر نہ بیند کافر است

مطلب: الارض للہ (زمین اللہ کی ہے ) کا باطن ظاہر ہے جو کوئی یہ ظاہر نہیں دیکھتا وہ کافر ہے ۔

 
من نگویم در گزر از کاخ و کوے
دولت تست ایں جہان رنگ و بوے

مطلب: میں تجھے یہ تو نہیں کہتا کہ تو مکان اور آبادی کو چھوڑ دے، یہ جہان رنگ و بو تو تیری بدولت ہے ۔

 
دانہ دانہ گوہر از خاکش بگیر
صید چوں شاہیں ز افلاکش بگیر

مطلب: تو زمین سے دانوں کے موتی حاصل کر (اس کی کاشت سے زیادہ پیداوار حاصل کر) تو اس کے آسمانوں سے شاہین کی طرح شکار حاصل کر ۔

 
تیشہ خود را بکہسارش بزن
نورے از خود گیرد و برنارش بزن

مطلب: تو اپنی کلہاڑی اس کے کوہسار پر چلا ۔ اپنے اندر سے نور حاصل کر کے اس کی آگ پر لگا ۔

 
از طریق آزری بیگانہ باش
بر مراد خود جہان نو تراش

مطلب: آزری طریقے سے بیگانہ ہو جا اور اپنی خواہش کے مطابق ایک نیا جہان تراش ۔

 
دل برنگ و بوے و کاخ و کو مدہ
دل حریم اوست جز با او مدہ

مطلب: تو دنیا کی دل کشیوں اور دلچسپیوں اور محل اور آبادی سے دل نہ لگا ۔ اس لیے کہ دل تو اس ذاتِ اقدس کا گھر ہے ۔ اسے تو اس ذات کے سوا اور کسی کو نہ دے ۔

 
مردن بے برگ و بے گور و کفن
گم شدن در نقرہ و فرزند و زن

مطلب: بے سروسامانی کی حالت میں اور گور و کفن کے بغیر مرنا کیا ہے سونے چاندی اور فرزندوں میں خود کو کھونا یا محو کرنا ہے ۔

 
ہر کہ حرفے لا اللہ از بر کند
عالمے را گم بخویش اندر کند

مطلب: جو کوئی لا الہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ) کے الفاظ حفظ کر لیتا ہے وہ سارے جہان کو اپنے اندر سمو لیتا ہے ۔

 
فقر جوع و رقص و عریانی کجاست
فقر سلطانی است رہبانی کجاست

مطلب: بھوک اور رقص اور عریانی یہ فقر کہاں ہے (یہ کہاں کا فقر ہے) فقر تو بادشاہت ہے اس میں ترکِ دنیا کہاں ہے (نہیں ہے) ۔