321 |
پرستش |
جس بت کو تو اپنے ہاتھوں سے بناتا ہے اسی کو اپنا خدا مان لیتا ہے تیرا یہ اپنا تخلیق کیا ہوا بت تیری فریاد کہاں سنتا ہے کیا تو اپنے اوپر آسمان بے کراں دیکھتا ہے جو ستاروں سیاروں اور کہکشاؤں سے آراستہ ہے تیرے اپنے ہاتھوں سے بنا ہوا بت اتنی بڑی تخلیق کی قدرت کہاں رکھتا ہے