377 |
روداد |
مجھ ہستی کی یہ تفسیر عشق کا راہی تھا میرا خمیر لٹ گئی مجھ سے یہ جاگیر خالی ہوا پھر میرا ضمیر رہ گئی عقل لکیر فقیر جو وہم گمانوں کی اسیر اس نے چلائے مجھ پر تیر جس کی ملتی نہیں نظیر کہ تجھ جیسا کوئی نہیں فقیر کر تو عشق کی اب تکفیر میرے جواب میں بڑی تاثیر دیکھ ماہی بے آب کی تو تصویر