257 |
یقینِ کامل |
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے شکوہِ ترکمانی ذہنِ ہندی نطقِ اعرابی(اقبال) آ کہ تجھے یقین سے پُر کر دوں صدف کے قطرہ نیساں کو دُر کر دوں طائر بلند بام کے نالے کے لطف سے ترے قلب کے وجدان کو حُر کر دوں