158

پروانہ

اے شمع روشن کے جانباز پروانے تجھ سے مانوس ہیں بہت عاشق دیوانے تیرے دل میں روشنی کی آرزو کہ اسی آرزو میں گزرے ہیں میرے زمانے شمع سے تیری نور و نار کی طلب لاحاصل مگر عاشقِ رب کے لیے نورِ مطلق کے پیمانے تیرے ذوق و شوق کی اسے کیا پروا کہ اس طلب و آرزو کو ایک شمع محفل کیا جانے




    Waseem Abbas
    Lahore, Pakistan
    [email protected]
    facebook.com/waseem1514
    x.com/waseem1572
    www.shafialkafi.com