124 |
نور کا اتمام |
خلوت کی گھڑی گزری جلوت کی گھڑی آئی چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوشِ سحاب آخر (علامہ اقبال) اس حقیقت سے بے خبری بیگانے کے لیے ہے کہ چراغ کا تمام نور اپنے پروانے کے لیے ہے شاید رات کا کوئی پہر ہے کہ جو پروانے کو خود شمع بنانے کے لیے ہے آپ کو بے خبر تو نہیں رکھا کہ حقیقت تو سب کو بتانے کے لیے ہے