357 |
خلوت و جلوت |
خلوت کی گھڑی گزری جلوت کی گھڑی آئی چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوشِ سحاب آخر (علامہ اقبال) یہ حقیقت اقبال کی زبانی ہے کہ اب یار کی خلوت کی گھڑی گزر جانی ہے پھر اس یار کی جلوت کی فراوانی ہے عشق کے لیے یار کا وصل حتمی ہے جس کے بعد ہی اس یار کا نور اتمامی ہے اسی وصل سے عاشقِ حق آخر زمانی ہے